MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کبھی پیروں سے آنکھوں تک چبھن محسوس ہوتی ہے

غزل کبھی پیروں سے آنکھوں تک چبھن محسوس ہوتی ہے کبھی یہ زندگی مجھ کو چمن محسوس ہوتی ہے مسافت نے مسافر سے کہا تو تھک رہا ہے کیوں تھکن محسوس کرنے سے تھکن محسوس ہوتی ہے تو پھر میں سوچتا ہوں روح کی پاکیزگی کیا ہے محبت جب مجھے اپنا بدن محسوس ہوتی ہے […]

کبھی پیروں سے آنکھوں تک چبھن محسوس ہوتی ہے Read More »

یہ غلط ہے یہ سال ٹھیک نہیں

غزل یہ غلط ہے یہ سال ٹھیک نہیں ہر گھڑی کا ملال ٹھیک نہیں زندگی اک خیال خانہ ہے آپ کا یہ خیال ٹھیک نہیں پھول کو دھول کی ضرورت ہے اس قدر دیکھ بھال ٹھیک نہیں گرنے والے نے سر اٹھا کے کہا ان ستاروں کی چال ٹھیک نہیں آئینہ ساز ٹھیک کہتا ہے

یہ غلط ہے یہ سال ٹھیک نہیں Read More »

یوں بھٹکنے میں کی ہے بسر زندگی

غزل یوں بھٹکنے میں کی ہے بسر زندگی جیسے آ جائے گی راہ پر زندگی یہ کرو وہ نہیں وہ کرو یہ نہیں ٹوکتی ہی رہی عمر بھر زندگی اس طرف چل دیے تو کسی نے کہا اس طرف آئیے ہے ادھر زندگی اس طرف جائیے اس طرف جائیے کس طرف جائیے ہے کدھر زندگی

یوں بھٹکنے میں کی ہے بسر زندگی Read More »

رفتہ رفتہ سب کچھ اچھا ہو جائے گا

غزل رفتہ رفتہ سب کچھ اچھا ہو جائے گا ان شاء اللہ سب کچھ اچھا ہو جائے گا آڑے ترچھے منظر سیدھے ہو جائیں گے الٹا سیدھا سب کچھ اچھا ہو جائے گا دکھ سے سکھ کا رشتہ جس دن جان گئے ہم رونا ہنسنا سب کچھ اچھا ہو جائے گا مل جائے گا جب

رفتہ رفتہ سب کچھ اچھا ہو جائے گا Read More »

کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھو

غزل کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھو جس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھو غم کو غم اور نہ مصیبت کو مصیبت سمجھو جو در دوست سے مل جائے غنیمت سمجھو جھک کے جو سینکڑوں فتنوں کو جگا سکتی ہیں وہ نگاہیں اگر اٹھیں تو قیامت سمجھو نہیں ہوتے ہیں ریاکاری کے سجدے مجھ

کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھو Read More »

الجھنوں میں کیسے اطمینان دل پیدا کریں

غزل الجھنوں میں کیسے اطمینان دل پیدا کریں بجلیوں میں رہ کے تنکوں کا بھروسہ کیا کریں ضبط آنسو جب کئے تو اچھلا چہرے پر لہو غم کی موجیں روکنے سے راستہ پیدا کریں کہتے ہیں قصہ زمانے سے یہی تشویش ہے سی لئے ہیں لب مگر ان آنسوؤں کو کیا کریں ہم بھی بندے

الجھنوں میں کیسے اطمینان دل پیدا کریں Read More »

منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز

غزل منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز رستہ ملا دشوار تو میں اور چلا تیز ہاتھوں کو ڈبو آئے ہو تم کس کے لہو میں پہلے تو کبھی اتنا نہ تھا رنگ حنا تیز مجھ کو یہ ندامت ہے کہ میں سخت گلو تھا تجھ سے یہ شکایت ہے کہ خنجر نہ کیا

منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز Read More »

غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں

غزل غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں تیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیں آپ کی راہ میں دنیا نظر آتی ہے مجھے اک قدم اور جو بڑھ جاؤں تو دنیا بھی نہیں آپ کیا سوچ کے غم اپنا عطا کرتے ہیں ہمت دل تو بہ قدر غم دنیا بھی نہیں تم

غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں Read More »

چلا چل مہلت آرام کیا ہے

غزل چلا چل مہلت آرام کیا ہے مسافر اور تیرا کام کیا ہے ہمارا واسطہ ہے ان کے ڈر سے ہمیں سارے جہاں سے کام کیا ہے تمہارا حسن تو ہے غیر فانی ہمارے عشق کا انجام کیا ہے خدا کا نام لینا چاہتا ہوں مگر میرے خدا کا نام کیا ہے سواد شام مے

چلا چل مہلت آرام کیا ہے Read More »

اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک

غزل اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک مقدر میں ہے یا رب آرزوئے خود کشی کب تک تڑپنے پر ہمارے آپ روکیں گے ہنسی کب تک یہ ماتھے کی شکن کب تک یہ ابرو کی کجی کب تک کرن پھوٹی افق پر آفتاب صبح محشر کی سنائے جاؤ اپنی داستان زندگی

اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک Read More »