ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی
غزل ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی جنت بھی میسر ہے جہنم کی ہوا بھی یہ شہر تو لگتا ہے کباڑی کی دکاں ہے کھوٹا بھی اسی مول میں بکتا ہے کھرا بھی اس جسم کو بھی چاٹ گئی سانس کی دیمک میں نے اسے دیکھا تھا کسی وقت ہرا بھی جیسے کبھی […]
ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی Read More »