MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی

غزل ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی جنت بھی میسر ہے جہنم کی ہوا بھی یہ شہر تو لگتا ہے کباڑی کی دکاں ہے کھوٹا بھی اسی مول میں بکتا ہے کھرا بھی اس جسم کو بھی چاٹ گئی سانس کی دیمک میں نے اسے دیکھا تھا کسی وقت ہرا بھی جیسے کبھی […]

ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی Read More »

کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے

غزل کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے عشق میں ہر کوئی استاد بنا پھرتا ہے جس سے تعبیر کی اک اینٹ اٹھائی نہ گئی خواب کے شہر کی بنیاد بنا پھرتا ہے پہلے کچھ لوگ پرندوں کے شکاری تھے یہاں اب تو ہر آدمی صیاد بنا پھرتا ہے دھوپ میں اتنی سہولت بھی غنیمت

کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے Read More »

تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے

غزل تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے شہر نے واقعہ بنا لیا ہے ہم تو ہم تھے کہ اس پری رو نے آئنے کا بھی دل چرا لیا ہے ورنہ یہ سیل آب لے جاتا شہر کو آگ نے بچا لیا ہے ایسی ناؤ میں کیا سفر کرنا جس نے دریا کو دکھ

تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے Read More »

زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں

غزل زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں کوفے والوں کو مدینے میں لیے پھرتا ہوں جانے کب کس کی ضرورت مجھے پڑ جائے کہاں آگ اور خاک سفینے میں لیے پھرتا ہوں ریت کی طرح پھسلتے ہیں مری آنکھوں سے خواب ایسے بھی خزینے میں لیے پھرتا ہوں ایک ناکام محبت مرا

زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں Read More »

میں سچ کہوں پس دیوار جھوٹ بولتے ہیں

غزل میں سچ کہوں پس دیوار جھوٹ بولتے ہیں مرے خلاف مرے یار جھوٹ بولتے ہیں ملی ہے جب سے انہیں بولنے کی آزادی تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں میں مر چکا ہوں مجھے کیوں یقیں نہیں آتا تو کیا یہ میرے عزا دار جھوٹ بولتے ہیں یہ شہر عشق بہت جلد اجڑنے

میں سچ کہوں پس دیوار جھوٹ بولتے ہیں Read More »

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں

غزل کوئی میرا امام تھا ہی نہیں میں کسی کا غلام تھا ہی نہیں تم کہاں سے یہ بت اٹھا لائے اس کہانی میں رام تھا ہی نہیں جس قدر شور آب و گل تھا یہاں اس قدر اہتمام تھا ہی نہیں اس لیے سادھ لی تھی چپ میں نے اس سے بہتر کلام تھا

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں Read More »

اس کی ہستی قضا کی قید میں ہے

غزل اس کی ہستی قضا کی قید میں ہے جو پرندہ ہوا کی قید میں ہے اس سے بہتر ہے یار مر جاؤں میرا جینا خدا کی قید میں ہے شب سے خائف ہے نیند کی تتلی خواب دست حنا کی قید میں ہے دل مری آنکھ میں دھڑکتا ہے آنکھ تیری ادا کی قید

اس کی ہستی قضا کی قید میں ہے Read More »

میں سانس لیتے ضعیف جسموں میں رہ چکا ہوں

غزل میں سانس لیتے ضعیف جسموں میں رہ چکا ہوں میں حادثہ ہوں اداس لوگوں میں رہ چکا ہوں قدیم نسلوں کے گھر نحوست کا دیوتا تھا جدید نسلوں کے زرد کمروں میں رہ چکا ہوں میں نیم مردہ اسیر انساں کا قہقہہ ہوں میں سرخ اینٹوں کے خونی پنجروں میں رہ چکا ہوں میں

میں سانس لیتے ضعیف جسموں میں رہ چکا ہوں Read More »

سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج

غزل سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج چائے کا ایک گھونٹ بھی کافی رہا ہے آج رسی سے جھولتی ہوئی لڑکی نہیں ہے یہ یہ نا مراد عشق ہے لٹکا ہوا ہے آج کس نے کہا ہے خیر ہے میں تو نہیں گرا وہ تو شجر سے آخری پتا گرا ہے آج

سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج Read More »

یوں دیکھ نہ بے کار کا کٹھ پتلی تماشا

غزل یوں دیکھ نہ بے کار کا کٹھ پتلی تماشا اس دور فسوں کار کا کٹھ پتلی تماشا اس شہر کا ہر جھوٹا خدا دیکھ رہا ہے حق دار کی دستار کا کٹھ پتلی تماشا مت پوچھ ہے کل رات سے تکرار کی زد میں تصویر سے دیوار کا کٹھ پتلی تماشا پازیب کی جھنکار

یوں دیکھ نہ بے کار کا کٹھ پتلی تماشا Read More »