MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

افسانہ برہمچاری تحریر دیوندر ستیارتھی

برہمچاری دیوندر ستیارتھی کہانی کی کہانی یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو امرناتھ یاترا پر نکلے ایک جتھے میں شامل ہے۔ اس جتھے میں جے چند، اس کا کلرک جیا لال، دو گھوڑے والے اور ایک لرکی سورج کماری بھی شامل ہے۔ چلتے ہوئے گھوڑے والے گیت گاتے ہیں اور انکے گیت سن […]

افسانہ برہمچاری تحریر دیوندر ستیارتھی Read More »

افسانہ نئے دیوتا تحریر دیوندر ستیارتھی

کہانی کی کہانی ترقی پسند ادیب نفاست حسن نے اپنے گھر کچھ ہم خیال ادیبوں کی محفل جمع کی ہے۔ نفاست حسن جس محکمے میں نوکری کرتے ہیں وہ محکمہ ان کے اصولوں کے برعکس ہے۔ کھانے کے دوران ادب پر بات شروع ہوتی ہے۔ مہمانوں میں شامل ایک ادیب انگریزی مصنف سمرسیٹ مام کو

افسانہ نئے دیوتا تحریر دیوندر ستیارتھی Read More »

کب تلک کرچیاں چنوں گی میں

غزل کب تلک کرچیاں چنوں گی میں سنگ دل تجھ سے لڑ پڑوں گی میں میری آنکھیں نہیں رہیں لیکن آئنہ دیکھتی رہوں گی میں ماں کے نقش قدم پہ چلنا ہے صرف گڑیا نہیں رہوں گی میں کھینچ کر اک لکیر اداسی کی رنگ منظر میں کچھ بھروں گی لفظ اب رائیگاں نہ ہوں

کب تلک کرچیاں چنوں گی میں Read More »

تمہاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں

غزل تمہاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں وہ گھول جاتا ہے نفرت کی

تمہاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں Read More »

اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں

غزل اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں کیا ترے دل میں واقعی ہوں میں شہر مفتوحہ دیکھ حسرت سے تجھ کو سرحد سے دیکھتی ہوں میں مفلسی دیکھتی ہے کیا ایسے تیری تصویر بھی رہی ہوں میں وقت آخر میں ملنے والے شخص تجھ کو صدیوں سے جانتی ہوں میں میرے ماتھے کی شکنیں

اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں Read More »

دیے کی لو مری جانب لپک رہی ہے اب

غزل دیے کی لو مری جانب لپک رہی ہے اب یہ بات سارے جہاں کو کھٹک رہی ہے اب یہ جان کر کہ مرے سر سے آسمان گیا زمین پاؤں تلے سے سرک رہی ہے اب جو بات برسوں تلک آئنے سے کرتی رہی وہ تجھ سے کہتے گلے میں اٹک رہی ہے اب تمہارے

دیے کی لو مری جانب لپک رہی ہے اب Read More »

ہر گام زندگی میں عجب سانحے ہوئے

غزل ہر گام زندگی میں عجب سانحے ہوئے اپنے پرائے جانچنے کے تجربے ہوئے اک ڈائری پرانی مرے ہاتھ کیا لگی یادوں کے زرد پیڑ یکایک ہرے ہوئے اے دل سنبھال ضبط کہ پشتے لرز اٹھے آنکھوں سے بہہ نہ جائیں یہ دریا رکے ہوئے آنکھوں میں دیکھ شہر خموشاں کا سا سکوت پلکوں پہ

ہر گام زندگی میں عجب سانحے ہوئے Read More »

رنگ لے کر نیا اداسی کا

غزل رنگ لے کر نیا اداسی کا کوئی منظر بنا اداسی کا پھر کوئی داستان چھیڑی گئی پھر بنا دائرہ اداسی کا میری آنکھوں میں رقص ویرانی دیکھ کر دل پھٹا اداسی کا میں نے کمرے میں جس طرف دیکھا نقش بنتا گیا اداسی کا مشتمل ہے ہزار صدیوں پر پل وہ ٹھہرا ہوا اداسی

رنگ لے کر نیا اداسی کا Read More »

کروں کیا سخت مشکل آ پڑی ہے

غزل کروں کیا سخت مشکل آ پڑی ہے مری دہلیز پر چاہت کھڑی ہے مقام ضبط ہے اے دل سنبھلنا جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے رسائی کب دلوں تک پا سکی وہ محبت جو کتابوں میں پڑی ہے شکستہ ہیں مرے اعصاب یوں بھی انا سے جنگ اک مدت لڑی ہے کئی دن

کروں کیا سخت مشکل آ پڑی ہے Read More »

طوفانی حالات بھی دیکھو

غزل طوفانی حالات بھی دیکھو ڈال سے ٹوٹے پات بھی دیکھو مجھ پر فتوے گڑھنے والو خود اپنی حرکات بھی دیکھو خواب سے عاری ان آنکھوں میں اشکوں کی بہتات بھی دیکھو دیکھ رہے ہو صرف بغاوت لڑکی کے صدمات بھی دیکھو خواب ہمارے دیکھنے والو تم اپنی اوقات بھی دیکھو بلقیس خان

طوفانی حالات بھی دیکھو Read More »