MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے

غزل دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے اس جیسا روپ اس کو دکھانا مجھے بھی ہے میرے خلاف سازشیں کرتا ہے روز وہ آخر کوئی قدم تو اٹھانا مجھے بھی ہے انگلی اٹھا رہا ہے تو کردار پر مرے تجھ کو ترے مقام پہ لانا مجھے بھی ہے نظریں بدل رہا ہے اگر […]

دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے Read More »

عشق دریا ہے گراں بار نہ جانے کوئی

غزل عشق دریا ہے گراں بار نہ جانے کوئی بہتے پانی کو گنہ گار نہ جانے کوئی اس میں روحوں کی ملاقات ہوا کرتی ہے خواب کے پیار کو بیکار نہ جانے کوئی میں جو حالات کے دھارے میں بہی جاتی ہوں مجھ کو لہروں کا طرف دار نہ جانے کوئی سر جھکایا ہے محبت

عشق دریا ہے گراں بار نہ جانے کوئی Read More »

گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی

غزل گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی پیڑ پر ٹہنیاں نہیں ہوں گی غم سے سمجھوتا کر لیا دل نے اب یہاں سسکیاں نہیں ہوں میں کہ دور جدید کی لڑکی پاؤں میں بیڑیاں نہیں ہوں گی واپسی کا ہے سوچنا بے سود اب جلی کشتیاں نہیں ہوں گی اب دیوں کو بچانا واجب

گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی Read More »

کہاں سر پیٹنے کا وقت اب بیداد قاتل پر

غزل کہاں سر پیٹنے کا وقت اب بیداد قاتل پر کلیجے پر مرا اک ہاتھ ہے اک ہاتھ ہے دل پر اسیری کو مری سب قید ہی سمجھیں مگر میں تو جو پیار آتا ہے بوسے دینے لگتا ہوں سلاسل پر یہ نالے نکلے جس دل سے نہ جانے اس پہ کیا گزری کہ جس

کہاں سر پیٹنے کا وقت اب بیداد قاتل پر Read More »

پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو

غزل پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو دل سے لگی نہ ہو تو زباں میں اثر نہ ہو کاہے کو یوں بسی کبھی بستی خیال کی دنیا اجڑ بھی جائے تو ہم کو خبر نہ ہو اف اف بنی ہے ایک زمانے کی جان پر اب دل جلوں کی آہ میں یا رب

پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو Read More »

تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم

غزل تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم کیا بعد حشر بھی شب ہجراں ہے اور ہم دنیا تو جانتی ہے کہ زنداں ہے اور ہم ہم جانتے ہیں خلوت جاناں ہے اور ہم پیری ہے اور کوشش درماں ہے اور ہم میداں ہے اور عمر گریزاں ہے اور ہم کس کو بھلا

تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم Read More »

اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیے

غزل اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیے درد کے پتلے تھے آخر عمر بھر رویا کیے حال اہل درد نے ان کو رلایا عمر بھر جن کو حیرت تھی یہ کیونکر رات بھر رویا کیے دل کی مجبوری پہ رونے سے جو میں روکا گیا بے بسی سے دل کے چھالے پھوٹ

اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیے Read More »

اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں

غزل اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں یعنی مجھے امید کا بھی آسرا نہیں کب ہم سے بے دلوں پہ نگاہ جفا نہیں ہم خوب جانتے ہیں کہ تو بے وفا نہیں اے رشک پردہ سوز شکایت کی جا نہیں وہ بزم ناز ہے دل بے مدعا نہیں دکھلائے پھر خدا نہ وہ

اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں Read More »

اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا

غزل اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا مشکل تھا اپنے گھر میں بیگانہ وار رہنا اے موت رحم کر اب یہ کوئی زندگی ہے نظروں سے اپنی گر کر دنیا پہ بار رہنا ہاتھوں پہ سر کو رکھے ہر رند کہہ رہا ہے بے کیف رہنے ہی تک تھا بے خمار رہنا کس طرح

اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا Read More »

ازل میں ہو نہ ہو یہ جلوہ گاہ روئے جاناں تھا

غزل ازل میں ہو نہ ہو یہ جلوہ گاہ روئے جاناں تھا کہ صبح حشر بھی خورشید کا آئینہ لرزاں تھا جنوں کے سر پہ جب تک پنجۂ وحشت کا ساماں تھا گریباں تھا ابھی دامن ابھی دامن گریباں تھا خدا جانے قفس میں کیوں تڑپ کر مر گئی بلبل یہ دیکھا ہے ابھی بجلی

ازل میں ہو نہ ہو یہ جلوہ گاہ روئے جاناں تھا Read More »