دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے
غزل دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے اس جیسا روپ اس کو دکھانا مجھے بھی ہے میرے خلاف سازشیں کرتا ہے روز وہ آخر کوئی قدم تو اٹھانا مجھے بھی ہے انگلی اٹھا رہا ہے تو کردار پر مرے تجھ کو ترے مقام پہ لانا مجھے بھی ہے نظریں بدل رہا ہے اگر […]
دشمن بہ نام دوست بنانا مجھے بھی ہے Read More »