MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے

غزل اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے بلا لے پاس تو ساجن یہ بارش نے کہا مجھ سے تمہاری سانس مہکے گی کہ تازہ یاد بھی ہوگی بھگونے دے مجھے آنگن یہ بارش نے کہا مجھ سے کبھی تم ساتھ بھیگے تھے مگر مفہوم آنکھیں اب بھگوتی ہیں ترا دامن یہ […]

اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے Read More »

ہاتھوں کا لمس مجھ کو کبھی بھیج بھی تو دے

غزل ہاتھوں کا لمس مجھ کو کبھی بھیج بھی تو دے خوشبو سا ہے خیال ترا زندگی تو دے الفاظ گنگناؤں تری چاہتوں کے میں دے عشق کا شعور مجھے شاعری تو دے در دل کے بج رہے ہیں ہواؤں کے زور سے اے شاعر فراق مجھے روشنی تو دے اب آ گیا یقین تری

ہاتھوں کا لمس مجھ کو کبھی بھیج بھی تو دے Read More »

دہلیز پر مری کوئی آیا ہے برسوں بعد

غزل دہلیز پر مری کوئی آیا ہے برسوں بعد ہلچل سی دل میں کوئی تو لایا ہے برسوں بعد ارمان دل میں میرے نئے جاگنے لگے آنگن کو چاندنی نے سجایا ہے برسوں بعد آنکھوں میں میری خواب ہیں تازہ سجے ہوئے تعبیر خواب لے کے وہ آیا ہے برسوں بعد پلکوں پہ میری جلنے

دہلیز پر مری کوئی آیا ہے برسوں بعد Read More »

اے دوست تو نے وار یہ بھرپور کر دیا

غزل اے دوست تو نے وار یہ بھرپور کر دیا پہلے قریب کر کے مجھے دور کر دیا رہتی ہوں تیری یاد میں مدہوش رات دن تیرے سرور و کیف نے مخمور کر دیا کشمش سی نازنین تھی شاخ بدن مری چاہت کی آب و تاب سے انگور کر دیا خوشبو ترے بدن کی ہے

اے دوست تو نے وار یہ بھرپور کر دیا Read More »

مجھ کو قدم قدم پہ ترا انتظار ہے

غزل مجھ کو قدم قدم پہ ترا انتظار ہے شاید کہ میرے واسطے فصل بہار ہے آنکھوں سے تو نے مجھ کو پلائی تھی وہ شراب میرے بدن میں آج بھی اس کا خمار ہے بیٹھی ہوں انتظار میں تکتی ہوں رہ تری راحت سکون و چین نہ مجھ کو قرار ہے آیا پلٹ کے

مجھ کو قدم قدم پہ ترا انتظار ہے Read More »

کاجل اداس ہے تو ہیں بے کل سی چوڑیاں

غزل کاجل اداس ہے تو ہیں بے کل سی چوڑیاں تم کو بلا رہی ہیں یہ چنچل سی چوڑیاں ساون کی مجھ کو پیاس ہے پیاسی ہوں مثل ریت تجھ پر برس رہی ہیں یہ بادل سی چوڑیاں کرتی ہیں خوب شور نہ سونے یہ مجھ کو دیں دیوانی ہو گئی ہیں یہ پاگل سی

کاجل اداس ہے تو ہیں بے کل سی چوڑیاں Read More »

مجھے ہنسنے کی عادت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا

غزل مجھے ہنسنے کی عادت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا ذرا سی اک شرارت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا مری ہر بات پر ہنسنے سے اکثر وہ الجھتا تھا مجھے اس سے محبت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا میں ہنستی تھی کہ رنج و غم مرا ظاہر نہ ہو اس پر مقدر

مجھے ہنسنے کی عادت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا Read More »

میں نے مہندی سے لکھا ہے نام تیرا ہاتھ پر

غزل میں نے مہندی سے لکھا ہے نام تیرا ہاتھ پر چاند کو شرما گیا ہے نام تیرا ہاتھ پر چاند سا تو بھی چمکتا چاند کی اس رات میں یہ مقدر کی عطا ہے نام تیرا ہاتھ پر اب مٹا سکتا ہے کوئی تو مٹا کر دیکھ لے ہم نے ایسا لکھ دیا ہے

میں نے مہندی سے لکھا ہے نام تیرا ہاتھ پر Read More »

محبت چھوڑ دی ہم نے محبت تھی سزا جیسی

غزل محبت چھوڑ دی ہم نے محبت تھی سزا جیسی اسی کو چاہتے تھے ہم وہ چاہت تھی دعا جیسی یہ جو اک زخم دل ہے یہ دیا بن کر چمکتا ہے یہ جو اک ٹیس ہے فرقت میں ہے مجھ کو ضیا جیسی میں اپنے سامنے ہوتی ہوں آئینہ اٹھا کر جب کوئی لائے

محبت چھوڑ دی ہم نے محبت تھی سزا جیسی Read More »

افسانہ رفو گر تحریر دیوندر ستیارتھی

رفوگر دیوندر ستیارتھی کہانی کی کہانی یہ شعری اسلوب میں لکھی گئی کہانی ہے۔ اس میں ہندوستان کی تہذیب، رہن سہن، رسم و رواج اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو دکھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس رفوگر کی بھی کہانی ہے جو بتاتا رہتا ہے کہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے،

افسانہ رفو گر تحریر دیوندر ستیارتھی Read More »