MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے

غزل کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے یہ نیند کی رانی بھی روٹھی ہوئی لگتی ہے یادوں کا تسلسل ہے گھنگھور جدائی ہے ساون کی طرح یہ بھی چھائی ہوئی لگتی ہے سوجھے نہ مداوا کیوں خود میرے مسیحا کو زخموں کی طرح چاہت رستی ہوئی لگتی ہے آواز یہ کس نے […]

کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے Read More »

خمیر میرا اٹھا وفا سے

غزل خمیر میرا اٹھا وفا سے وجود میرا فقط حیا سے کچھ اور بوجھل ہوا مرا دل گھٹی ہوئی درد کی فضا سے برس پڑے حسرتوں کے بادل نظر پہ چھائی ہوئی گھٹا سے ہے وحشتوں کا سفر مسلسل بڑھا جنوں ہجر کی سزا سے ہتھیلیوں پر نہ رچ سکی وہ جو نام لکھا ترا

خمیر میرا اٹھا وفا سے Read More »

خبر ہے کہ آیا گلابوں کا موسم

غزل خبر ہے کہ آیا گلابوں کا موسم گلوں کے بدن پر ہے کانٹوں کا موسم خدا جانے اس رت میں کیا گل کھلائے گلستاں کا جوبن یہ کلیوں کا موسم لبوں کی شرارت نظر سے اشارت دم وصل کیسا حیاؤں کا موسم یہ دور محبت بھی کیسا عجب ہے ہوں آنکھوں میں باتیں اشاروں

خبر ہے کہ آیا گلابوں کا موسم Read More »

وہ میرے قلب و روح کو شاداب کر گیا

غزل وہ میرے قلب و روح کو شاداب کر گیا پھر اس طرح گیا مجھے بیتاب کر گیا کاجل بھی نیند کا مری آنکھوں سے لے اڑا خوابوں میں آ کے وہ مجھے بے خواب کر گیا اس نے تو اضطراب کے معنی سجھا دیے ایسی نگاہ کی مجھے بیتاب کر گیا جنس گراں سمجھ

وہ میرے قلب و روح کو شاداب کر گیا Read More »

زندگی سے حسیں اداسی ہے

غزل   زندگی سے حسیں اداسی ہے یہ مری ہم نشیں اداسی ہے کب سے پندار میں مقید ہے کیسی پردہ نشیں اداسی ہے لحظہ لحظہ اسے کشید کرو کہ مے انگبیں اداسی ہے جرعہ جرعہ پلا مجھے ساقی من ہرن ساتگیں اداسی ہے کعبۂ دل میں ہے جو محو طواف جہاں تاب جبیں اداسی

زندگی سے حسیں اداسی ہے Read More »

تتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈھتی رہی

غزل تتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈھتی رہی میں شہر ننگ میں بھی ردا ڈھونڈھتی رہی وہ تتلیوں میں مست بہت مطمئن سا تھا جس کو چمن میں میری صدا ڈھونڈھتی رہی رت کی طرح مزاج بدل کر چلا گیا وہ بے وفا تھا اس میں وفا ڈھونڈھتی رہی تخت منافقت پہ وہی حکمران تھا

تتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈھتی رہی Read More »

چاہا ہے عجب ڈھنگ سے چاہت بھی عجب ہے

غزل چاہا ہے عجب ڈھنگ سے چاہت بھی عجب ہے محبوب عجب ہے یہ محبت بھی عجب ہے پلو مرا تھاما ہے کئی بار خرد نے پر ان دنوں جذبوں کی بغاوت بھی عجب ہے جکڑا ہے تری یاد نے افکار کو میرے ہمدم ترے جذبات میں شدت بھی عجب ہے قربت کے حسیں پھول

چاہا ہے عجب ڈھنگ سے چاہت بھی عجب ہے Read More »

آنکھوں میں جو بسا تھا وہ کاجل کہاں گیا

غزل آنکھوں میں جو بسا تھا وہ کاجل کہاں گیا تھا ضبط جس کے دم سے وہ بادل کہاں گیا ہم جس کے ساتھ شوق سے نکلے تھے سیر کو وہ ہم سفر کہاں ہے وہ جنگل کہاں گیا کرتا تھا شہر میں جو محبت سے گفتگو معلوم ہے کسی کو وہ پاگل کہاں گیا

آنکھوں میں جو بسا تھا وہ کاجل کہاں گیا Read More »

سلگتی نظروں کا خواب ہو تم

غزل سلگتی نظروں کا خواب ہو تم محبتوں کا شباب ہو تم سمجھ نہ پائی جسے کبھی میں کتاب دل کا وہ باب ہو تم کہو تو جز دان میں چھپا لوں کھلی ہوئی اک کتاب ہو تم بچھے تھے راہوں میں پھول کتنے جو بھا گیا وہ گلاب ہو تم برا کہے تم کو

سلگتی نظروں کا خواب ہو تم Read More »

پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گے

غزل پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گے پھر مرے حق میں عدالت میں گواہی دیں گے ایک انسان بھی ڈھونڈے سے نہ مل پائے گا آدمی آدمی ہر سمت دکھائی دیں گے ماں کے جائے ہوئے پالے ہوئے کتنے بیٹے ماں کے ہاتھوں میں ہی لا لا کے کمائی دیں گے ایک ماں ہے

پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گے Read More »