MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گھٹا ساون کی امڈی آ رہی ہے

غزل گھٹا ساون کی امڈی آ رہی ہے پیام اشک بھر بھر لا رہی ہے رگوں میں خون گردش کر رہا ہے جوانی ساز دل پر گا رہی ہے رلاتا ہے انہیں بھی کیا یہ ساون مجھے کالی گھٹا تڑپا رہی ہے ترنم خیز جمنا کے کنارے کسی کی یاد پیہم آ رہی ہے یہ […]

گھٹا ساون کی امڈی آ رہی ہے Read More »

نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میں

غزل نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میں آنکھیں برس رہی ہیں غم انتظار میں فطرت اداس سی ہے گھٹائیں ہیں سوگوار اک غم نصیب حسن ہے ابر بہار میں ہے ذرہ ذرہ شوق سماعت سے بے قرار تم گنگنا رہے ہو کسی آبشار میں ساون کی رت بہار کا موسم اندھیری رات رم

نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میں Read More »

تمام رات چھتوں پر برس گیا پانی

غزل تمام رات چھتوں پر برس گیا پانی سویرا ہوتے ہی بستی میں بس گیا پانی پیا کی بانہوں میں دلہن کو کس گیا پانی اندھیری رات میں برہن کو ڈس گیا پانی بڑا ہی ناز تھا اپنی خنک مزاجی پر زمیں کے تپتے توے پر جھلس گیا پانی وہ ناپتا رہا دھرتی کے سب

تمام رات چھتوں پر برس گیا پانی Read More »

اِک ہوک سی جب دل میں اٹھی جذبات ہمارے آ پہنچے

غزل اِک ہوک سی جب دل میں اٹھی جذبات ہمارے آ پہنچے الفاظ جو ذہن میں موزوں تھے ہونٹوں کے کنارے آ پہنچے حالات غم دل کہہ نہ سکے اور درد دروں بھی سہ نہ سکے آنسو جو حصار چشم میں تھے پلکوں کے سہارے آ پہنچے منجھدار میں تھے اور ڈر یہ تھا کہ

اِک ہوک سی جب دل میں اٹھی جذبات ہمارے آ پہنچے Read More »

مرے دل سے محبت کی فراوانی نہیں جاتی

غزل مرے دل سے محبت کی فراوانی نہیں جاتی میں اکثر سوچتا ہوں کیوں یہ نادانی نہیں جاتی یہ حالت ہو گئی ہے شدت‌ خطرات پیہم سے کہ اچھے آدمی کی شکل پہچانی نہیں جاتی گھروں کی رونقیں کلکاریاں بچوں کی ہوتی ہیں کھلونوں کو سجا کر گھر کی ویرانی نہیں جاتی نہ رسم و

مرے دل سے محبت کی فراوانی نہیں جاتی Read More »

گھر میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے

غزل گھر میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے اب بیابان ہی گھر لگتا ہے پاؤں رکھتا ہوں تو دھنستی ہے زمیں سر اٹھاتا ہوں تو سر لگتا ہے قتل و غارت ہے گلی کوچوں میں شہر دہشت کا نگر لگتا ہے ڈگمگاتی ہے دھماکوں سے زمیں آسماں زیر و زبر لگتا ہے زندگی یوں تو

گھر میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے Read More »

پھر کسی شخص کی یاد آئی ہے

غزل پھر کسی شخص کی یاد آئی ہے پھر کوئی چوٹ ابھر آئی ہے پھر وہ ساون کی گھٹا چھائی ہے پھر مری جان پہ بن آئی ہے مصلحت اور کہیں لائی ہے دل کسی اور کا شیدائی ہے اب نہ رونے کی قسم کھائی ہے آنکھ بھر آئے تو رسوائی ہے ایک ہنگامۂ دیدار

پھر کسی شخص کی یاد آئی ہے Read More »

کیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئی

غزل کیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئی لفظ نہ ساتھ دے سکے آنسوؤں سے عیاں ہوئی شورش واردات قلب شعروں میں ڈھال ڈھال کر لکھتے رہے تمام عمر ختم نہ داستاں ہوئی اب نہ وہ دل میں دھڑکنیں اب نہ وہ سوز و ساز ہے پوچھتے ہیں وفات دل کیسے ہوئی کہاں ہوئی

کیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئی Read More »

جانے پھر تم سے ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو

غزل جانے پھر تم سے ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو کھل کے دکھ درد کی کچھ بات کبھی ہو کہ نہ ہو پھر ہجوم غم و جذبات کبھی ہو کہ نہ ہو تم سے کہنے کو کوئی بات کبھی ہو کہ نہ ہو آج تو ایک ہی کشتی میں ہیں منجدھار میں ہم پھر

جانے پھر تم سے ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو Read More »

میری ہر بات پہ بے بات خفا ہوتے ہو

غزل میری ہر بات پہ بے بات خفا ہوتے ہو جانے کیا بات ہے دن رات خفا ہوتے ہو چپ رہیں وقت ملاقات خفا ہوتے ہو پوچھ لیں بھول سے حالات خفا ہوتے ہو بات غیروں سے تو ہنس ہنس کے کیا کرتے ہو ہم سے ہوتے ہی ملاقات خفا ہوتے ہو دور ہوتے ہو

میری ہر بات پہ بے بات خفا ہوتے ہو Read More »