یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہے
غزل یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہے لیکن کبھی میں نے اسے دیکھا بھی نہیں ہے انسان ہے وہ کوئی فرشتہ بھی نہیں ہے اس سا کوئی دنیا میں نرالا بھی نہیں ہے دنیا میں کسی کو کبھی کمتر نہیں سمجھا میں کون ہوں کیا ہوں کبھی سوچا بھی نہیں ہے […]
یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہے Read More »