MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہے

غزل یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہے لیکن کبھی میں نے اسے دیکھا بھی نہیں ہے انسان ہے وہ کوئی فرشتہ بھی نہیں ہے اس سا کوئی دنیا میں نرالا بھی نہیں ہے دنیا میں کسی کو کبھی کمتر نہیں سمجھا میں کون ہوں کیا ہوں کبھی سوچا بھی نہیں ہے […]

یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہے Read More »

کچھ تو دنیا سے کما لے جائیے

غزل کچھ تو دنیا سے کما لے جائیے ہم فقیروں کی دعا لے جائیے ہو سکے تو اس کی چوکھٹ کے لیے سجدۂ دل آشنا لے جائیے یہ بھی کیا کم ہے کہ اس کے شہر میں صرف زخموں کی ردا لے جائیے اب چراغوں سے دھواں اٹھنے لگا اب چراغوں کو اٹھا لے جائیے

کچھ تو دنیا سے کما لے جائیے Read More »

بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا

غزل بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا کسی دربار سے رشتے نہ رکھنا جوانوں کو جو درس بزدلی دیں کبھی ہونٹوں پہ وہ قصے نہ رکھنا اگر پھولوں کی خواہش ہے تو سن لو کسی کی راہ میں کانٹے نہ رکھنا کبھی تم سائلوں سے تنگ آ کر گھروں کے بند دروازے نہ رکھنا پڑوسی

بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا Read More »

جہان دل میں سناٹا بہت ہے

غزل جہان دل میں سناٹا بہت ہے سمندر آج کل پیاسا بہت ہے یہ مانا وہ شجر سوکھا بہت ہے مگر اس میں ابھی سایا بہت ہے فرشتوں میں بھی جس کے تذکرے ہیں وہ تیرے شہر میں رسوا بہت ہے بہ ظاہر پر سکوں ہے ساری بستی مگر اندر سے ہنگاما بہت ہے اسے

جہان دل میں سناٹا بہت ہے Read More »

خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کی

غزل خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کی امیر شہر سے یاری نہیں کی مرے عیبوں کو گنوایا تو سب نے کسی نے میری غم خواری نہیں کی مرے شعروں میں کیا تاثیر ہوتی کبھی میں نے اداکاری نہیں کی کسی منصب کسی عہدے کی خاطر کوئی تدبیر بازاری نہیں کی بس اتنی بات پر

خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کی Read More »

یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے

غزل یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے خوابوں کو پلکوں پہ سجانا کتنا اچھا لگتا ہے تیری طلب میں پتھر کھانا کتنا اچھا لگتا ہے خود بھی رونا سب کو رلانا کتنا اچھا لگتا ہے ہم کو خبر ہے شہر میں اس کے سنگ ملامت ملتے ہیں پھر بھی اس کے شہر میں

یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے Read More »

دشت تنہائی بادل ہوا اور میں

غزل دشت تنہائی بادل ہوا اور میں روز و شب کا یہی سلسلا اور میں اجنبی راستوں پر بھٹکتے رہے آرزوؤں کا اک قافلہ اور میں دونوں ان کی توجہ کے حق دار ہیں مجھ پہ گزرا تھا جو سانحہ اور میں سیکڑوں غم مرے ساتھ چلتے رہے جس کو چھوڑا اسی نے کہا اور

دشت تنہائی بادل ہوا اور میں Read More »

مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے

غزل مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے میں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہے مجھے کون سربلندی کی طرف بلا رہا ہے مرا نرگسی تخیل تو شکست کھا چکا ہے تجھے قاتلوں کے نرغے سے چھڑائے گا نہ کوئی یہ ہے مقتل اے مسافر تو کسے پکارتا ہے سر شام

مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے Read More »

غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگ

غزل غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگ دامان تار تار ہیں میرے یہاں کے لوگ پیدا کیا ہے جھوٹے مسیحاؤں نے جسے اس درد کے شکار ہیں میرے یہاں کے لوگ کیا جانیے ہیں کب سے جگر سوختہ مگر انساں کے غم گسار ہیں میرے یہاں کے لوگ گردن اگرچہ خم ہے

غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگ Read More »

پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میں

غزل پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میں اب آ گئے ہیں دیدہ وروں کے ہجوم میں کچھ بھی نہیں ہے اڑتی ہوئی راکھ کے سوا کیا ڈھونڈتے ہو کم نظروں کے ہجوم میں شہروں میں آئنوں کے خریدار ہی نہیں اک بے کلی ہے شیشہ گروں کے ہجوم میں پہچان لیجے کون ہے

پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میں Read More »