ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے
غزل ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے دیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیے جس قیامت سے ڈراتا بھی ہے ڈرتا بھی ہے شیخ ٹھوکروں میں آپ کی شام و سحر دیکھا کیے تم تو آسودہ شب وعدہ تھے خواب ناز میں شب سے لے کر صبح تک ہم سوئے در […]
ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے Read More »