MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے

غزل ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے دیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیے جس قیامت سے ڈراتا بھی ہے ڈرتا بھی ہے شیخ ٹھوکروں میں آپ کی شام و سحر دیکھا کیے تم تو آسودہ شب وعدہ تھے خواب ناز میں شب سے لے کر صبح تک ہم سوئے در […]

ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے Read More »

حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی

غزل حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی نظارہ قبضۂ قدرت سے باہر یوں بھی ہے یوں بھی جو یہ بسمل حیا سے ہے تو وہ مجروح دیکھے سے نگاہ ناز اس قاتل کی خنجر یوں بھی ہے یوں بھی جبیں اس در پہ ہے وہ در ہے اونچا عرش

حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی Read More »

جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگی

غزل جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگی کتنی دنیا ترے جلوؤں سے نکھرتی ہوگی آج تک بھی ترے جلووں کو نہ پہنچیں نظریں کب کوئی آنکھ ترے رخ پہ ٹھہرتی ہوگی کتنی گہرائیوں میں ڈوبتی ہوگی ہستی جب کوئی بات کسی دل میں اترتی ہوگی اے مرے دل یہ غریب الوطنی کیسی ہے کس

جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگی Read More »

فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہے

غزل فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہے اے عشق ترا کوئی ہوا خواہ نہیں ہے گو درد تمنا کو بڑھاتا ہے ترا ذکر دل پھر بھی ترے نام سے آگاہ نہیں ہے اے حسن یقیں دیر و حرم کی ہے فضا تنگ اس در سے پلٹنے کی کوئی راہ نہیں ہے یہ کس نے

فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہے Read More »

جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا

غزل جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا اب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دینا بڑی کافر کشش ایماں میں ہے اے عازم کعبہ نہ لے جانا دل اپنے ساتھ بت خانے میں رکھ دینا مرا دل بھی شراب عشق سے لبریز ہے ساقی یہ بوتل بھی اڑا کر کاگ

جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا Read More »

تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیا

غزل تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیا آج کیا آ گئی جی میں جو ادھر دیکھ لیا ہم کس امید پہ آئندہ کوئی آہ کریں ہم نے کس آہ کو ممنون اثر دیکھ لیا کروٹیں لیتے ہوئے تم بھی تصور میں ملے تم کو بھی زینت آغوش نظر دیکھ لیا تیرے

تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیا Read More »

کنایتاً بھی ترا نام جب سنا میں نے

غزل کنایتاً بھی ترا نام جب سنا میں نے وفور شوق میں سر کو جھکا دیا میں نے ہجوم غم میں ادائے قلندری نہ گئی مسرتوں سے بھی رکھا ہے فاصلہ میں نے بتوں نے حوصلہ افزائیاں تو کیں میری مگر تجھی کو پکارا مرے خدا میں نے تمام عمر اندھیروں سے میری جنگ رہی

کنایتاً بھی ترا نام جب سنا میں نے Read More »

نیند کا رس فضا میں گھولو ہو

غزل نیند کا رس فضا میں گھولو ہو اے میاں کیا زبان بولو ہو میرے حالات پر ہیں تنقیدیں تم کبھی خود کو بھی ٹٹولو ہو آہ فریاد نالہ و شیون ایسے عالم میں کیسے سو لو ہو یہ بتاؤ کہ یاد میں اس کی تم بھی دامن کبھی بھگو لو ہو رخ ہوا کا

نیند کا رس فضا میں گھولو ہو Read More »

اور سمت سفر راستہ اور ہے

غزل اور سمت سفر راستہ اور ہے عہد حاضر کا شاید خدا اور ہے آندھیاں کس لیے مطمئن ہو گئیں میرے گھر میں ابھی اک دیا اور ہے جھوٹی خبروں کی تشہیر مت کیجئے میری بستی کا وہ واقعہ اور ہے عافیت کی تمنا مناسب نہیں باقی اک عرصۂ کربلا اور ہے ہم تمنائے ختم

اور سمت سفر راستہ اور ہے Read More »

اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئی

غزل اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئی سوز یقیں کی بزم سجاتا نہیں کوئی پتھراؤ ہو رہا ہے ہمارے مکان پر کیا جرم ہو گیا ہے بتاتا نہیں کوئی اپنے پڑوسیوں کی حفاظت کے واسطے راتوں کی میٹھی نیند گنواتا نہیں کوئی غم تو کہانیوں کی طرح سب نے سن لیا لیکن کوئی علاج

اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئی Read More »