MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہے

غزل تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہے راہیں ڈھونڈے منزل پائے انساں کتنا پیارا ہے وقت مصیبت آنسو پونچھے ہمدردی کی بات کرے ٹوٹے دل کو آس دلائے انساں کتنا پیارا ہے مانگے سو سو طرح معافی چھوٹی سی اک بھول کی بھی اپنی خطاؤں پر شرمائے انساں کتنا پیارا ہے دل کی […]

تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہے Read More »

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے

غزل خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے ہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گے کہستانوں سے پتھر کاٹ کر لائیں گے ہم لیکن کسی ظالم کے ہاتھوں زخم کا مرہم نہ بیچیں گے بلا سے دھول پھانکیں یا پرانے چیتھڑے پہنیں مگر یارو متاع علم و

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے Read More »

ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے

غزل ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے اک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجے اک جام محبت سے مسرت سے بھرا جام چھلکائیے چھلکائیے اب دیر نہ کیجے سچ کہتا ہوں اک عمر سے پیاسی ہے یہ محفل پیمانہ بکف آئیے اب دیر نہ کیجے ساون کی گھٹا بن کے سلگتی

ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے Read More »

ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میں

غزل ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میں دھیمے سروں میں گائے جو بابل تو ہم سنیں آنگن میں تیرے پھول رہی ہوگی کامنی! جی چاہتا ہے آج بسیرا وہیں کریں یہ چاند آج اگا ہے بڑی آرزو کے بعد آؤ مئے نشاط پئیں غم غلط کریں اپنی سہاگ رات کبھی بھولتیں نہیں میرے حسیں

ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میں Read More »

اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے

غزل اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے گھبرائے ہوئے پیکر اکتائے ہوئے چہرے کچھ درد کے مارے ہیں کچھ ناز کے ہیں پالے کچھ لوگ ہیں ہم جیسے کچھ لوگ ہیں تم جیسے ہر گاؤں سہانا ہو ہر شہر چمک اٹھے دل کی یہ تمنا ہے پوری ہو مگر کیسے بپھری ہوئی

اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے Read More »

چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا

غزل چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا آنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گا وہ لہو پی کر بڑے انداز سے کہتا ہے یہ غم کا ہر طوفان اس کے گھر کے باہر آئے گا کیا تماشا ہے ڈرے سہمے ہوئے ہیں سارے لوگ کیا مری بستی میں کوئی

چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا Read More »

تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شام

غزل تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شام ساغر کی طرح روز چھلکنے لگی ہے شام شاید کسی کی یاد کا موسم پھر آ گیا پہلو میں دل کی طرح دھڑکنے لگی ہے شام کچھ تو ہی اپنے خون رمیدہ کی لے خبر پلکوں پہ قطرہ قطرہ ٹپکنے لگی ہے شام صحرائے

تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شام Read More »

رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیں

غزل رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیں لوگ سودا ہیں خریدار ہیں تیری آنکھیں کیا یوں ہی جاذب و دل دار ہیں تیری آنکھیں خالق حسن کا شہکار ہیں تیری آنکھیں یہ نہ ہوتیں تو کسی دل میں نہ طوفاں اٹھتا شوق انگیز و فسوں کار ہیں تیری آنکھیں تیری معصومیت دل کا پتہ

رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیں Read More »

جہان رنگ و بو پر چھا رہا ہے

غزل جہان رنگ و بو پر چھا رہا ہے ہر اک پردے سے وہ جلوہ نما ہے بشر ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہا ہے سزا اپنے کئے کی پا رہا ہے تمنا اور پھر ان کی تمنا یہ عرفان خودی کی انتہا ہے بتوں کو دیکھ کر آتا ہے تو یاد بتوں کے حسن میں

جہان رنگ و بو پر چھا رہا ہے Read More »

جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے

غزل جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے کہ برہم کر لیا اپنا نظام زندگی میں نے سکھائے حسن کافر کو سلیقے خود نمائی کے سنوارا پے بہ پے اپنا مذاق عاشقی میں نے ہوئے روشن نہ پھر بھی بام و در فکر و تصور کے ہزاروں بار کی بزم جہاں میں

جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے Read More »