MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے

غزل کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے کچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی جھڑ گئے کچھ آندھیاں بھی اپنی معاون سفر میں تھیں تھک کر پڑاؤ ڈالا تو خیمے اکھڑ گئے اب کے مری شکست میں ان کا بھی ہاتھ ہے وہ تیر جو کمان کے پنجے میں گڑ گئے سلجھی تھیں […]

کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے Read More »

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے

غزل ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے تمہاری یادوں کے ساتھ تنہا سفر کیا ہے سنا ہے اس رت کو دیکھ کر تم بھی رو پڑے تھے سنا ہے بارش نے پتھروں پر اثر کیا ہے صلیب کا بار بھی اٹھاؤ تمام جیون یہ لب کشائی کا جرم تم نے اگر

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے Read More »

عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا

غزل عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا حصول رزق ہوا بھی تو زیر دام ہوا تھا انتظار منائیں گے مل کے دیوالی نہ تم ہی لوٹ کے آئے نہ وقت شام ہوا ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا کہیں پہ سر کہیں پگڑی کا احترام ہوا ذرا سی عمر عداوت کی لمبی فہرستیں عجیب

عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا Read More »

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

غزل جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے بچے لیکن سوئے ہوئے تھے کس سے کہانی کہتے سچ کہنے کا حوصلہ تم نے چھین لیا ہے ورنہ شہر میں پھیلی ویرانی کو سب ویرانی کہتے وقت گزرتا جاتا اور یہ زخم ہرے رہتے تو بڑی حفاظت سے رکھی ہے تیری نشانی

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے Read More »

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

غزل باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے دریا کے اس پار بھی گہرا سناٹا ہے شور تھمے تو شاید صدیاں بیت چکی ہیں اب تک لیکن سہما سہما سناٹا ہے کس سے بولوں یہ تو اک صحرا ہے جہاں پر میں ہوں یا پھر گونگا بہرا سناٹا ہے جیسے اک طوفان سے پہلے کی

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے Read More »

یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگا

غزل یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگا نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگا تعلقات میں آئی ہے بس یہ تبدیلی ملیں گے اب بھی مگر انتظار کم ہوگا میں سوچتا رہا کل رات بیٹھ کر تنہا کہ اس ہجوم میں میرا شمار کم ہوگا پلٹ تو آئے گا شاید کبھی یہی

یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگا Read More »

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے

غزل وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے بیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہے آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہوگی آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے Read More »

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور

غزل یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور کیا پھر یوں ہی دی جائے گی اجرت پہ گواہی کیا تیری سزا اب کے بھی پائے گا کوئی اور انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور Read More »

اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

غزل اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے اس شہر خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھے سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں

اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں Read More »

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی

غزل وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی یہ انتظار سحر کا تھا یا تمہارا تھا دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشم دریا میں لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایا بھی بہت مہین تھا پردہ لرزتی آنکھوں کا

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی Read More »