MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہجر کی بے تابیاں تھیں حسرتوں کا جوش تھا

غزل ہجر کی بے تابیاں تھیں حسرتوں کا جوش تھا حسن کا آغوش پھر بھی حسن کا آغوش تھا ہم تو جس محفل میں بیٹھے شغل ناؤ نوش تھا زندگی میں موت بھی آئے گی کس کو ہوش تھا ضبط کرتے کرتے آخر پھوٹ نکلی دل کی بات ہنس پڑا گلشن میں جو بھی غنچۂ […]

ہجر کی بے تابیاں تھیں حسرتوں کا جوش تھا Read More »

حسن و الفت ساتھ ہیں آغاز سے انجام تک

غزل حسن و الفت ساتھ ہیں آغاز سے انجام تک میرا افسانہ سنا جائے گا تیرے نام تک زندگی کی تلخیاں ہیں گردش ایام تک لالہ و گل کا تبسم ہے چمن میں شام تک کیا خبر پردہ بہ پردہ کتنے جلوے ہیں نہاں چشم ظاہر بیں نے دیکھا ان کو حسن عام تک جن

حسن و الفت ساتھ ہیں آغاز سے انجام تک Read More »

کانٹوں پہ چل رہا ہوں محبت کی راہ میں

غزل کانٹوں پہ چل رہا ہوں محبت کی راہ میں کس حسن کی بہار ہے میری نگاہ میں دنیا گناہ گار ہے تیری نگاہ میں زاہد ہے تیرا زعم بھی داخل گناہ میں ذروں میں کیا نہیں ہے جو ہے مہر و ماہ میں پستی نگاہ میں ہے بلندی نگاہ میں دیوانگان عشق کو دنیا

کانٹوں پہ چل رہا ہوں محبت کی راہ میں Read More »

مجھ پر تری نظروں کا جو احساں نہیں ہوتا

غزل مجھ پر تری نظروں کا جو احساں نہیں ہوتا ہاتھوں سے مرے چاک گریباں نہیں ہوتا خالی کبھی کانٹوں سے گلستاں نہیں ہوتا کانٹوں سے کبھی پھول پریشاں نہیں ہوتا کچھ درد ہو کچھ سوز ہو کچھ نور ہو دل میں بس خاک کا پتلا ہی تو انساں نہیں ہوتا اے دوست سمجھتا ہوں

مجھ پر تری نظروں کا جو احساں نہیں ہوتا Read More »

کمال عشق میں سوز نہاں باقی نہیں رہتا

غزل کمال عشق میں سوز نہاں باقی نہیں رہتا بھڑک جاتے ہیں جب شعلے دھواں باقی نہیں رہتا جبیں تو پھر جبیں ہے آستاں باقی نہیں رہتا جہاں تم ہو کسی کا بھی نشاں باقی نہیں رہتا تمہیں دیکھوں تو کیا دیکھوں تمہیں سمجھوں کو کیا سمجھوں محبت میں تو اپنا بھی گماں باقی نہیں

کمال عشق میں سوز نہاں باقی نہیں رہتا Read More »

بحر ہستی سے بھی جی گھبرا گیا

غزل بحر ہستی سے بھی جی گھبرا گیا بے کسی بس اب کنارا آ گیا کم ہوا کرتے ہیں ایسے خوش نصیب تجھ پہ مر کر جن کو جینا آ گیا میرا مٹ جانا تماشا تھا کوئی آپ سے یہ کس طرح دیکھا گیا دکھ برے دل کی کہانی کچھ نہ پوچھ پھول کے ہنسنے

بحر ہستی سے بھی جی گھبرا گیا Read More »

پھولوں کی چاند تاروں کی محفل فریب ہے

غزل پھولوں کی چاند تاروں کی محفل فریب ہے رنگیں حقیقتوں میں بھی شامل فریب ہے پانی کے مد و جزر کو سمجھا ہے زندگی موجیں بھی ہیں فریب جو ساحل فریب ہے رنگینئ حیات کا عالم نہ پوچھیے ہر آرزو فریب ہے ہر دل فریب ہے محسوس دل میں درد سا ہونے لگا ہے

پھولوں کی چاند تاروں کی محفل فریب ہے Read More »

اسی صورت سے تسکین دل ناشاد کرتے ہیں

غزل اسی صورت سے تسکین دل ناشاد کرتے ہیں ابھی تک یاد آتے ہو ابھی تک یاد کرتے ہیں تباہی پر ہماری شکوۂ صیاد کرتے ہیں چمن میں ہیں کچھ ایسے بھی جو ہم کو یاد کرتے ہیں محبت نام ہے اس کا تعلق نام ہے اس کا نہ ہم آزاد ہوتے ہیں نہ وہ

اسی صورت سے تسکین دل ناشاد کرتے ہیں Read More »

دیکھا تھا کس نظر سے تم نے ہنسی ہنسی میں

غزل دیکھا تھا کس نظر سے تم نے ہنسی ہنسی میں اک درد مستقل ہے اب میری زندگی میں کعبہ بھی بت کدہ بھی ہے راہ بندگی میں یہ منزلیں ہیں کیسی دشوار عاشقی میں اے دوست یاد ان کی اب تک رلا رہی ہے دو دن جو مل گئے تھے ہنسنے کو زندگی میں

دیکھا تھا کس نظر سے تم نے ہنسی ہنسی میں Read More »

یہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھا

غزل یہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھا پھول کا ہنسنا ہی اس کی موت کا پیغام تھا غم نہ دیتے آپ تو راحت سے کس کو کام تھا زندگی کی گردشوں کے ساتھ دور جام تھا ٹھوکریں کھاتے گئے لب پر تمہارا نام تھا حشر کا منظر تھا راہ عشق میں جو

یہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھا Read More »