ہجر کی بے تابیاں تھیں حسرتوں کا جوش تھا
غزل ہجر کی بے تابیاں تھیں حسرتوں کا جوش تھا حسن کا آغوش پھر بھی حسن کا آغوش تھا ہم تو جس محفل میں بیٹھے شغل ناؤ نوش تھا زندگی میں موت بھی آئے گی کس کو ہوش تھا ضبط کرتے کرتے آخر پھوٹ نکلی دل کی بات ہنس پڑا گلشن میں جو بھی غنچۂ […]
ہجر کی بے تابیاں تھیں حسرتوں کا جوش تھا Read More »