MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور

غزل ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور بڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اور کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو گے یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور تردید تو […]

ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور Read More »

وہ واہمہ ہے کہاں یہ اصول جانا تھا

غزل وہ واہمہ ہے کہاں یہ اصول جانا تھا ملے تھے اس سے تو پھر اس کو بھول جانا تھا گنوا دی عمر کسی ربط رائیگاں کے لئے ہمیں تو ٹوٹتے رشتوں کو بھول جانا تھا نہ کام آئی تب و تاب فکر و فن میری وہ آئنہ ہوں جسے سب نے دھول جانا تھا

وہ واہمہ ہے کہاں یہ اصول جانا تھا Read More »

صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھ

غزل صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھ ایک سورج کو گریبان میں رکھ دن میں کچھ اور ہوں شب میں کچھ اور لمحہ لمحہ مجھے پہچان میں رکھ جل بجھا طاق سحر میں کب کا اب مجھے شب کے بیابان میں رکھ ہوئیں یخ بستہ سبھی پچھلی رتیں یاد کی دھوپ کو دالان

صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھ Read More »

مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی

غزل مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی اک منزل ہجرت میں جب یاد تری آئی رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے جائے گی کہاں لے کر اے شرم شناسائی یہ کیسا سویرا تھا کس درد

مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی Read More »

تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھے

غزل   تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھے وہ دھاگے ٹوٹ گئے جو بہت پرانے تھے ترے ملن سے ترا انتظار بہتر تھا بنے نہ جسم جو سائے وہی سہانے تھے سنائیں لفظوں کی سب سطح سنگ پر ٹوٹیں تمہیں یہ وار تو پھولوں پہ آزمانے تھے ہمارے بعد بھی رونق نہ آئی اس گھر پر

تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھے Read More »

خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریے

غزل خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریے لمبی عمروں سے بزرگوں کی دعا سے ڈریے ہم قدم بن گئے اس کے تو ٹھکانہ ہی نہیں آتی جاتی ہوئی بے سمت ہوا سے ڈریے نیت جرم ہی ہے جرم کا آغاز یہاں جو نہ کی ہو اسی ناکردہ خطا سے ڈریے سانحہ رونما

خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریے Read More »

کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھی

غزل کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھی میرے ہاتھوں میں تری زلف بھی زنجیر نہ تھی دیکھ کر تم کو سرابوں کا تماشا سا رہا خواب تھا یہ بھی کسی خواب کی تعبیر نہ تھی سو چکا تھا کسی معصوم فرشتے کی طرح اس کی آنکھوں میں تو قاتل کی بھی تصویر

کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھی Read More »

سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئے

غزل سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئے ہمارے ساتھ میں موسم بھی سب سہانے گئے تجھے خبر نہیں تعمیر نو کے پاگل پن چھتیں گریں تو پرندوں کے آشیانے گئے جہاں سرابوں کا اک موج موج سورج تھا وہیں بھڑکتی ہوئی پیاس سب بجھانے گئے بکھرنے دو کسی آوارہ یاد کی خوشبو کہ

سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئے Read More »

اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہے

غزل اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہے ہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہے کوئی آیا نہ گیا برسوں سے ان راہوں میں معرکہ کیسا سر راہ گزر باقی ہے جلنے پاتا نہیں کوئی دیا کوئی جگنو طاق دل میں گئی آندھی کا اثر باقی ہے اب بھی کہلاتا

اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہے Read More »

مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤں

غزل مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤں ورق ورق ہوں کسی دن کتاب بن جاؤں مرے بغیر بھی کچھ دن گزار لے اے دوست نہ اتنا پی کہ میں تیری شراب بن جاؤں بڑھا نہ فاصلے ہر روز اجنبی کی طرح نہ یوں بلا کہ میں تجھ پر عذاب بن جاؤں کیا

مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤں Read More »