اداسیوں کا مسلسل یہ دور چلنا ہے
غزل اداسیوں کا مسلسل یہ دور چلنا ہے نہ کوئی حادثہ ہونا نہ جی بہلنا ہے وہ اور ہوں گے ملا جن کو روشنی کا سفر ہمیں تو بجھتے چراغوں کے ساتھ چلنا ہے یہ ڈھلتی عمر کے رستے بہت تھکا دیں گے قدم قدم پہ نیا راستہ نکلنا ہے وداع ہو گئی کہہ کر […]
اداسیوں کا مسلسل یہ دور چلنا ہے Read More »