MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ کارِ زیاں جچتا نہیں دیدہ وروں پر

غزل یہ کارِ زیاں جچتا نہیں دیدہ وروں پر پاگل ہیں جو اتراتے ہیں بے کار غموں پر تب سے ہے خفا جیسے مری ذات سے تتلی اک شعر کہا تھا کبھی جگنو کے پروں پر اس واسطے دھڑکن میں توازن نہیں باقی اترا ہے صحیفہ ترے شہکار لبوں پر آنکھیں ہیں کھلی پھر بھی […]

یہ کارِ زیاں جچتا نہیں دیدہ وروں پر Read More »

آ جائیں کام اس لیے گِن کے بہاو میں

غزل   آ جائیں کام اس لیے گِن کے بہاو میں پھینکےہیں میں نےکتنے ہی تنکے بہاو میں مفہوم بے بسی کا ذرا اُن سے پوچھیے دریا بہا کے لے گیا جِن کے بہاو میں سیلاب ہٹ رہا ہے پہنچ کر مقام سے آنسوگرے ہیں دوستا کِن کے بہاو میں ٹھہراو مت کسی کو ِان

آ جائیں کام اس لیے گِن کے بہاو میں Read More »

میں آشنائے سفر ہوں، تھکن سے واقف ہوں

غزل میں آشنائے سفر ہوں، تھکن سے واقف ہوں کہ راہِ عشق کی ساری دُکھن سے واقف ہوں میں شب گزیدہ سہی، تیرگی سے خائف بھی مگر اُمید کی روشن کرن سے واقف ہوں حصولِ منزلِ مقصود ہے ہدف میرا میں اپنے شوق سے، اپنی لگن سے واقف ہوں رہِ حیات پہ چلنے کا تجربہ

میں آشنائے سفر ہوں، تھکن سے واقف ہوں Read More »

گردِ ملال چہرے پہ مَلتا رہا ہوں مَیں

غزل گردِ ملال چہرے پہ مَلتا رہا ہوں مَیں سڑکوں پہ دھوپ اوڑھ کے چلتا رہا ہوں مَیں کارِ ہنر ہے کوئی نہ کارِ نمایاں کچھ سائے کا کام ڈھلنا ہے ڈھلتا رہا ہوں مَیں وعدہ ہوں اور وعدے کی تقدیر کی طرح فردا کے احتمال پہ ٹلتا رہا ہوں مَیں دنیا کی ٹھوکروں نے

گردِ ملال چہرے پہ مَلتا رہا ہوں مَیں Read More »

جس دیس ترے حُسن کی جاگیر کُھلے گی

غزل   جس دیس ترے حُسن کی جاگیر کُھلے گی شمشیر پہ شمشیر پہ شمشیر کُھلے گی یہ بندِ قبا صرف نہیں بندِ قبا یار جس دن بھی کُھلا یہ، مِری تقدیر کُھلے گی اِک ناؤ بناؤں گا، سجاؤں گا تبھی تو اِس دَور کے رانجھا پہ نئی ہیر کُھلے گی دہلیز پہ فوراً میں

جس دیس ترے حُسن کی جاگیر کُھلے گی Read More »

عشق کی بازی جیت کے ہاری جا سکتی ہے

غزل عشق کی بازی جیت کے ہاری جا سکتی ہے تیرے بنا بھی عمر گزاری جا سکتی ہے ملنے میں ہے تجھ کو دھڑکا رُسوائی کا اور فرقت میں جان ہماری جا سکتی ہے میری آنکھوں کا آئینہ بھی تو دیکھو اِس میں بھی تو زلف سنواری جا سکتی ہے عقل و دانش، فہم و

عشق کی بازی جیت کے ہاری جا سکتی ہے Read More »

گُل سے ملتے ہی مہکنے کا ہنر لے آئے

غزل گُل سے ملتے ہی مہکنے کا ہنر لے آئے جیسی صحبت میں رہے ویسا اثر لے آئے ذائقہ موت کا چکھنا اُسے لازم ہو گا چاہے لکھوا کے کوئی عمرِ خضرؑ لے آئے ہم سا تاجر بھی زمانے میں کوئی ہو گا بَھلا پھول بیچے تھے مگر زخمِ جگر لے آئے اُس کے آنے

گُل سے ملتے ہی مہکنے کا ہنر لے آئے Read More »

سب سے اَنجان کِیا خود سے شناسا کر کے

غزل سب سے اَنجان کِیا خود سے شناسا کر کے کیا مِلا اُس کو مِری ذات تماشا کر کے اِس قدر بھی کوئی احساس سے عاری ہو گا؟ وہ بہت خوش ہے مجھے شہر میں رُسوا کر کے وہ مجھے دے نہ سکا میری وفا کا بدلا میں ہی شرمندہ ہُوا اُس سے تقاضا کر

سب سے اَنجان کِیا خود سے شناسا کر کے Read More »

مِری تقدیر کی آب و ہَوا لے کر نہیں آئے

غزل مِری تقدیر کی آب و ہَوا لے کر نہیں آئے برائے نام بادل تھے، گھٹا لے کر نہیں آئے تمھاری خیریت مطلوب تھی آنا پڑا ہم کو ہم اپنے دل میں کوئی مدّعا لے کر نہیں آئے دَمِ آخر بھی بچے کی زباں پر بس یہ جملہ تھا مِرے ابّو ابھی تک کیوں دوا

مِری تقدیر کی آب و ہَوا لے کر نہیں آئے Read More »

محشر ہی بپا ہے نہ قیامت کی گھڑی ہے

غزل   محشر ہی بپا ہے نہ قیامت کی گھڑی ہے پھر بھی میں جسے دیکھوں اسے اپنی پڑی ہے محصورِ انا کا تو نکل آنا ہے مشکل دیوار پہ دیوار پہ دیوار کھڑی ہے اوروں کی حفاطت کی وہان بات کرے کون منصف کو جہان اپنی حفاطت کی پڑی ہے اس سے مری خوداری

محشر ہی بپا ہے نہ قیامت کی گھڑی ہے Read More »