یہ کارِ زیاں جچتا نہیں دیدہ وروں پر
غزل یہ کارِ زیاں جچتا نہیں دیدہ وروں پر پاگل ہیں جو اتراتے ہیں بے کار غموں پر تب سے ہے خفا جیسے مری ذات سے تتلی اک شعر کہا تھا کبھی جگنو کے پروں پر اس واسطے دھڑکن میں توازن نہیں باقی اترا ہے صحیفہ ترے شہکار لبوں پر آنکھیں ہیں کھلی پھر بھی […]
یہ کارِ زیاں جچتا نہیں دیدہ وروں پر Read More »