MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اپنے ہی باب میں نقصان بہت کرتے ہیں

غزل اپنے ہی باب میں نقصان بہت کرتے ہیں میزبانی مرے مہمان بہت کرتے ہیں اشک زخماتے ہیں کرچی کی طرح آنکھوں کو ہم تری یاد میں نقصان بہت کرتے ہیں نیند میں ان کے سبھی راز کو افشا کر کے جاگنے والوں کو حیران بہت کرتے ہیں لوٹ کر آتے نہیں وہ کبھی آنسو […]

اپنے ہی باب میں نقصان بہت کرتے ہیں Read More »

سنا رہا تھا کہانی سنانے والا کوئی

غزل سنا رہا تھا کہانی سنانے والا کوئی اور اس کہانی میں تھا سچ بتانے والا کوئی یہ شام بھی بڑی مصروفیت میں گزری ہے سو یاد آیا نہیں یاد آنے والا کوئی یہ منحرف ہے پرندوں کی دوستی سے بہت ہے اس شجر پہ برا وقت آنے والا کوئی گزر ہوا ہے یہ کس

سنا رہا تھا کہانی سنانے والا کوئی Read More »

کیسے نہ کہا جائے اسے کام کا منظر

غزل کیسے نہ کہا جائے اسے کام کا منظر آنکھوں کی ضرورت ہے در و بام کا منظر دل ہے ہی اندھیروں کا طلبگار سو اس میں اترے گا بہر طور کسی شام کا منظر جس جس میں نہ آئیں گے نظر مجھ کو مرے لوگ میں نام اُسے دوں گا فقط نام کا منظر

کیسے نہ کہا جائے اسے کام کا منظر Read More »

آنکھوں پہ بھروسہ تو بہر طور کریں گے

غزل آنکھوں پہ بھروسہ تو بہر طور کریں گے ہم گریہ ابھی اور ابھی اور کریں گے ورنہ توکبھی منہ نہ لگاتے تمہیں پاگل اب دل نے کہا ہے تو کبھی غور کریں گے ہم اتنا سمجھتے ہیں تمہیں یار مقدم تم کچھ بھی کہوہم اُسےفی الفورکریں گے چاہو تو ملاقات بھی ہوسکتی ہے اپنی

آنکھوں پہ بھروسہ تو بہر طور کریں گے Read More »

رونے کے ساتھ ساتھ رلانے کا وقت ہے

غزل رونے کے ساتھ ساتھ رلانے کا وقت ہے بچھڑے ہووں کا سوگ منانے کا وقت ہے شب بھرمیں چپ رہاہوں اندھیروں کےخوف سے اب دن ہے اور خواب سنانے کا وقت ہے چہروں پہ بن رہی ہے لگاتار بے بسی اے کوزہ گر یہ چاک گھمانے کا وقت ہے سایہ جدھر بھی دیکھا دکھائی

رونے کے ساتھ ساتھ رلانے کا وقت ہے Read More »

وار ایسا ہو کہ بالکل بھی نہ خالی جائے

غزل وار ایسا ہو کہ بالکل بھی نہ خالی جائے صلح کی ورنہ کوئی راہ نکالی جائے حیف ہےان پہ جو بنتے ہیں جدائی کا سبب ایسے لوگوں کی طرف آگ اچھالی جائے جب بھی ہونے لگے وحشت تو یہ دل کرتا ہے چاروں جانب تری تصویر بنا لی جائے روز کرتی ہے یہ نقصان

وار ایسا ہو کہ بالکل بھی نہ خالی جائے Read More »

کیوں الٹی جانب تو بہہ رہا ہے کیوں اب روانی کا مسئلہ ہے

غزل کیوں الٹی جانب تو بہہ رہا ہے کیوں اب روانی کا مسئلہ ہے جواب آیا یہ وسط دریا سے میرے پانی کا مسئلہ ہے کوئی بھی کردار شہر بھر سے کسی کو راغب جو کر نہ پایا تو صاف ظاہر ہے لکھنے والے تری کہانی کا مسئلہ ہے وہ تیس سالہ حسین عورت ابھی

کیوں الٹی جانب تو بہہ رہا ہے کیوں اب روانی کا مسئلہ ہے Read More »

اِک کنجِ قفس میں جو فسوں بول رہا ہے

غزل اِک کنجِ قفس میں جو فسوں بول رہا ہے حیرت کے لبادے میں سکوں بول رہا ہے میں دشت کا مارا ہوں مجھے غور سے دیکھو چہرے پہ تھکن دل میں جنوں بول رہا ہے اب کس سے میں پوچھوں کہ کسی شے کی ضرورت ہر بندہ ہی اب کن فیکوں بول رہا ہے

اِک کنجِ قفس میں جو فسوں بول رہا ہے Read More »

تیز چلتی ہے یہ آرام کہاں دیکھتی ہے

غزل تیز چلتی ہے یہ آرام کہاں دیکھتی ہے زندگی عشق میں انجام کہاں دیکھتی ہے خود کو گروی بھی رکھا خواب بھی سستے بیچے خواہشِ وصل بھلا دام کہاں دیکھتی ہے دنیا کہتی ہے مری آنکھ نے دنیا دیکھی اس نے دیکھے ہیں جو آلام کہاں دیکھتی ہے اب بھی موقع ہے بڑا نام

تیز چلتی ہے یہ آرام کہاں دیکھتی ہے Read More »

کھولیں گے نہیں قفل نہ پہچان کریں گے

غزل کھولیں گے نہیں قفل نہ پہچان کریں گے ہم دور سے اندازہ ء زندان کریں گے سیٹی سےبلالیں گے پرندوں کو زمیں پر مینار ترے شہر کے ویران کریں گے صحرا میں اتاریں گے سفینے مرےملاح دریا ترے پانی کو پریشان کریں گے اک بار فقط اذنِ ملاقات عطا ہو پھروصل کی خواہش نہ

کھولیں گے نہیں قفل نہ پہچان کریں گے Read More »