اپنے ہی باب میں نقصان بہت کرتے ہیں
غزل اپنے ہی باب میں نقصان بہت کرتے ہیں میزبانی مرے مہمان بہت کرتے ہیں اشک زخماتے ہیں کرچی کی طرح آنکھوں کو ہم تری یاد میں نقصان بہت کرتے ہیں نیند میں ان کے سبھی راز کو افشا کر کے جاگنے والوں کو حیران بہت کرتے ہیں لوٹ کر آتے نہیں وہ کبھی آنسو […]
اپنے ہی باب میں نقصان بہت کرتے ہیں Read More »