MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں

آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں اس سے بدتر نہ کوئی سال ہوا ہے جاناں میں نے چاہا ہی نہیں تھا جو ہُوا ہے اب کے تو بھلے مل نہ سہی مجھ سے مگر جان جگر بے سبب روٹھ کے مجھ سے،نہ گلہ کرکے کوئی پھول ،موسم کو، بہاروں کو خفا کردے گا […]

آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں Read More »

جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا

کس لیۓ آنکھ مرے دوست چرائی تُو نے یہ وہ تصویر نہیں ہے جو دکھائی تُو نے بات نکلی ہے تو پھر بیٹھ ذرا یہ تو بتا کیا کبھی سوچا مجھے دیدۂ نم تر کر کے دیکھ کے مجھ کو تری آنکھ میں جگنو چمکے؟ سوچ کے میری ہنسی ملنے کو مجھ سے ترسے؟ سرد

جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا Read More »

نظم ہونے لگی

ُسرحدِ خواب پر دشتِ امکان میں شاخِ تخیل سر سبز ہونے لگی نظم ہونے لگی رات کے اُس پہر جونہی سوچا تمہیں دھیرے دھیرے سے سپنوں میں کھونے لگی نظم ہونے لگی بے پناہ چاہتیں جو لٹاتی رہی جو پڑی مشکلیں، مسکراتی رہی، ضبط بونے لگی نظم ہونے لگی غیر کے سنگ تھے رنگ ہی

نظم ہونے لگی Read More »

سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے

سُنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے کبھی تم نے پلٹ کے مجھ سے لو یُو ٹو نہیں بولا کہ کتنےسال نکلے ہیں مرے دامن میں اب تک بھی وہی دو تین جملے ہیں سفر آغاز کرنے پر جو تم نے مجھ سے بولے تھے بس اُس کے بعد خاموشی مقّدر بن

سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے Read More »

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

ہوا کے واسطے اِک کام چھوڑ آیا ہوںدِیا جلا کے سرِشام چھوڑ آیا ہوں امانتِ سحر و شام چھوڑ آیا ہوںکہیں چراغ، کہیں جام چھوڑ آیا ہوں کبھی نصیب ہو فُرصت تو اُس کو پڑھ لیناوہ ایک خط جو تیرے نام چھوڑ آیا ہوں ہوائے دشت و بیاباں بھی مُجھ پہ برہم ہےمیں اپنے گھر

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں Read More »

ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے

ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہےکہ نخل خشک پہ ماہ تمام آخری ہے میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پرسکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگناخرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے گزر چلا ہوں کسی کو یقیں دلاتا ہواکہ لوح دل پہ

ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے Read More »