MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے

اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھےراستہ تم کو نہیں، خود کو دکھانا ہے مجھے رہزنوں کو دے دیا ہے میں نے تاوان سفرکارواں کو منزلوں تک لے کے جانا ہے مجھے تار ٹوٹے، ساز بکھرے، گو ترنم نہ سہینغمہ ہائے زندگی تو گنگنانا ہے مجھے کہکشاں پر چل نہ پائے یہ قدم تو کیا ہواراہِ

اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے Read More »

عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں

عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیںآدمی انسانیت سے آشنا ہوتا نہیں جان و دل رکھ کے ہتھیلی پہ وہاں جاتا تو ہوںحادثہ یہ ہے کہ کوئی حادثہ ہوتا نہیں ہو خدا محبوب جس کو بس خدا محبوب ہوکوئی بھی محبوب اُس کا پھر خدا ہوتا نہیں بزمِ مقتل ہے سجی جلاد

عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں Read More »

رازداں ہم نے بنایا آپ کو

رازداں ہم نے بنایا آپ کودل کی مسند پر بٹھایا آپ کو دھیرے دھیرے آن پہنچے روح میںیوں رگ ِ جاں میں بسایا آپ کو کہکشاں لا کر بچھا دی صحن میںجب کبھی گھر میں بلایا آپ کو جرأت ِ اظہار ہم سے چھِن گئیجب بھی حالِ دل سنایا آپ کو زہر میں ڈوبے ہوئے

رازداں ہم نے بنایا آپ کو Read More »

جرم الفت کی سزا دینے لگے

جرم الفت کی سزا دینے لگےلوگ ہم کو یوں دعا دینے لگے چھوڑ دی ہم نے تمنا وصل کیہجر کے صدمے مزہ دینے لگے قرب ِ جاناں میں جو کہ گزرے روزوشبیاد جب آئے رلا دینے لگے جب ہوا محو سفر میرا جنوںعلم و دانش راستہ دینے لگے منتظر یوں ہیں کہ گھڑیاں رک گئیںلمحے صدیوں کا پتہ دینے لگے ان سے

جرم الفت کی سزا دینے لگے Read More »

از رہِ التفات بنتی ہے

از رہِ التفات بنتی ہےآپ چاہو تو بات بنتی ہے آگہی سر اٹھائے جب اپناوجہ تشہیرِ ذات بنتی ہے زلفِ جاناں کا رخ پہ لہرانااسطرح دن میں رات بنتی ہے منحصر ہے نگاہِ عاشق پرحسن کی کیا اوقات بنتی ہے ظلمتِ شب کا یہ تقاضاہےدل جلاؤ کہ بات بنتی ہے سید الطاف بخاری

از رہِ التفات بنتی ہے Read More »

میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے

میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہےپھر بھی لوگوں نے مرا افسانہ بنا رکھا ہے تیری آنکھوں سے ہی پیمانہ بھرا کرتے ہیںہم کو معلوم ہے ، میخانے میں کیا رکھا ہے گو ترےساتھ رہے پر تجھے مل نہ سکےجیسے پانی نے کناروں کو جدا رکھا ہے چاند سے ان کی توجہ کو

میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے Read More »

محوِ گردش زمیں، آسماں رقص میں

محوِ گردش زمیں، آسماں رقص میںآج لگتا ہے سارا جہاں رقص میں چل رہی ہیں ہوائیں ادھر سے ادھرتم وہاں رقص میں ،ہم یہاں رقص میں دیکھ کر جس کو زاہد لگے جھومنےمے کشوں کا تھا وہ کارواں رقص میں اپنی حالت پہ آئینہ حیرت میں تھاٹوٹ کر جو گریں کرچیاں رقص میں شاعری میں جو

محوِ گردش زمیں، آسماں رقص میں Read More »

شوخ آنچل جو اڑ کر ہوا ہو گیا

شوخ آنچل جو اڑ کر ہوا ہو گیاکتنا رنگین رنگِ فضا ہو گیا رنگِ رخسار ِ عالم نکھرنے لگاکون گلشن میں جلوہ نما ہو گیا دل جو مدت سے تھا مبتلائے بلااک نظر سے ہی اچھا بھلا ہو گیا گرمی ٔ دید سے وہ بھی گھائل ہوئےسوچ رکھاتھا کیا اور کیا ہوگیا مجھ کو اچھا لگا

شوخ آنچل جو اڑ کر ہوا ہو گیا Read More »

تم مجھے بے وفا سمجھتی ہوTum Mujhe Bewafa Samjhti Ho

تم مجھے بے وفا سمجھتی ہو یعنی کے سابقہ سمجھتی ہو یہ محبت تو ایک عبادت ہے تم جسے آسرا سمجھتی ہو میں تمہارا ہوں بس تمہارا ہوں کیوں مجھے دوسرا سمجھتی ہو کوئی جاں سے چلا گیا اپنی اور تم واقعہ سمجھتی ہو یہ مری انتہا ہے تم جس کو اب تلک ابتدا سمجھتی

تم مجھے بے وفا سمجھتی ہوTum Mujhe Bewafa Samjhti Ho Read More »