ٹوٹی ہے قسم ٹوٹے کئی بار بھرم تک
Tooti hay Qasam Tootay Kaee Baar bharam Tak غزل ٹوٹی ہے قسم ٹوٹے کئی بار بھرم تکپھر پہنچا ہوں اے عشق ترے نقشِ قدم تک برباد نہ ہو جائے کہیں خوابوں کا مسکنرہنا ہے مجھے سینہ سپر آخری دم تک ہوجائیں اگر باغی مقدر کی لکیریںپھر اپنے کہاں رہتے ہیں گھر بار صنم تک اس […]
ٹوٹی ہے قسم ٹوٹے کئی بار بھرم تک Read More »








