MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میری آنکھوں میں جو نم ہے کم ہے – Meri Ankhon main jo nam hai kam hai

میری آنکھوں میں جو نم ہے کم ہے بس یہی حاصلِ غم ہے کم ہے میں نہیں بھولا تری یاد کوئی دل پہ ہر بات رقم ہے کم ہے اس سے مر سکتی نہیں سچائی ایک ہی پیالہ جو سَم ہے کم ہے مت قسم کھا تو قسم سے یہ قسم پہلے کھائی جو قسم […]

میری آنکھوں میں جو نم ہے کم ہے – Meri Ankhon main jo nam hai kam hai Read More »

دیکھوں تو نظر آتے ہیں آثار مکمل – Daikhu tou nazar atay hain asaar mukammal

دیکھوں تو نظر آتے ہیں آثار مکمل غم دے کے مجھےجائے گا غمخوار مکمل میں ایک محبت کا ادھورا سا فسانہ اے کاش وہ کردے مجھے اِک بار مکمل سپنوں کا یہ گھر پائے گا تکمیل بھلا کیا جب در ہی مکمل ہے نہ دیوار مکمل قسمیں ہیں کبھی وعدے کبھی جھوٹی تسلی کرنا ہے

دیکھوں تو نظر آتے ہیں آثار مکمل – Daikhu tou nazar atay hain asaar mukammal Read More »

اِک وَرق تھا جسے کتاب کیا – Aik warq tha jise kitab kia

اِک وَرق تھا جسے کتاب کیا جب رقم زندگی کا باب کیا میں نے غم کو خوشی میں ڈھالا ہے میں نے کانٹے کو بھی گلاب کیا وسوسوں کی بلاؤں نے شاید سانس لینا مرا عذاب کیا بس خسارا خسارا چاہت تھی یہ کھلا میں نے جب حساب کیا اشک اشکوں میں ہی ڈبوئیں ہیں

اِک وَرق تھا جسے کتاب کیا – Aik warq tha jise kitab kia Read More »

تلخ سی حقیقت ہے – Talkh si haqeeqat hai

تلخ سی حقیقت ہے زندگی مصیبت ہے مختصر کہانی میں ہجر کی طوالت ہے سر پہ دھوپ کی شدت پاؤں میں مسافت ہے تیرے غم کے لمحوں میں اِک عجیب راحت ہے تو ہے خوش تو میں غمگیں اپنی اپنی قسمت ہے نفرتوں کی بستی میں پیار اِک عبادت ہے یاد اب نہیں انؔور کس

تلخ سی حقیقت ہے – Talkh si haqeeqat hai Read More »

سنوں جاناں محبت اِک سزا ہے نا کہا ہے نا – Suno jana muhabbat aik saza hai na kaha hai na

سنوں جاناں محبت اِک سزا ہے نا کہا ہے نا کلیجہ نوچنے والی بلا ہے نا کہا ہے نا فقط ہم ہی نہ بچھڑیں گے فقط ہم ہی نہ اجڑیں گے زمانے میں یہ پہلے بھی ہوا ہے نا کہا ہے نا یہ سینہ چاک کرکے تم کو دکھلائیں تو مانوگے تمہارا نام ڈھڑکن پر

سنوں جاناں محبت اِک سزا ہے نا کہا ہے نا – Suno jana muhabbat aik saza hai na kaha hai na Read More »

میں خوش تھا بہت گردشِ ایام سے پہلے – Main khush tha boht gardish e ayam se pehle

میں خوش تھا بہت گردشِ ایام سے پہلے مسکان مرے لب پہ تھی کہرام سے پہلے اس شرط پہ رخصت میں تمہیں کرنے لگا ہوں تم لوٹ کر آجاؤ اگر شام سے پہلے دن سر پہ اٹھائے ہوئے دن بھر میں تھکا ہوں اب بوجھ شبِ غم کا ہے آرام سے پہلے دے دے کے

میں خوش تھا بہت گردشِ ایام سے پہلے – Main khush tha boht gardish e ayam se pehle Read More »

اپنے اندر کی بَلا چاٹ گئی – Apne andar ki bala chatt gae

اپنے اندر کی بَلا چاٹ گئی مجھ کو بس میری انَا چاٹ گئی آرزؤں کی لحد پر لکھ دو اِن کو بے جرم سزا چاٹ گئی کب اندھیروں نے کیا ہے یہ ستَم میری آنکھوں کو ضیاء چاٹ گئی تیری راہوں میں جو رکھے تھے چراغ ان کو بے رحم ہَوا چاٹ گئی کچھ مجھے

اپنے اندر کی بَلا چاٹ گئی – Apne andar ki bala chatt gae Read More »

کہیں پہ چاند جگنو اور ستارے میں نے لکھے تھے – Kahin pe chand Jugnoo or sitare maine likhe thy

کہیں پہ چاند جگنو اور ستارے میں نے لکھے تھے اندھیرے میں کئی روشن نظارے میں نے لکھے تھے مجھے کچھ تو تسلی زرد پتوں کو بھی دینی تھی خزاں میں بھی بہاروں کے اشارے میں نے لکھے تھے تمہاری آنکھ میں دریا کبھی جو موجزن دیکھا بپھرتی غم کی موجوں پر کنارے میں نے

کہیں پہ چاند جگنو اور ستارے میں نے لکھے تھے – Kahin pe chand Jugnoo or sitare maine likhe thy Read More »

اب در ہی سلامت ہے نا دیوار سلامت – Ab dar he salamat hai na deewar salamat

اب در ہی سلامت ہے نا دیوار سلامت صد شکر عمارت کے ہیں آثار سلامت افلاس کے لشکر نے ہے وہ قتل گری کی سر کوئی سلامت ہے نہ دیوار سلامت پتھرائے ہیں لب اور زباں گنگ ہے لیکن آنکھوں میں ہے آنکھوں کی وہ گفتار سلامت ہر غم میں وہ غمخواری مرے غم کی

اب در ہی سلامت ہے نا دیوار سلامت – Ab dar he salamat hai na deewar salamat Read More »