MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یاد کیوں آرہا ہے مجھ کو تُو

یاد کیوں آرہا ہے مجھ کو تُوکیوں نہیں بھولتا ہے مجھ کو تُو لاکھ سجدوں, ریاضتوں کے بعدکون سا مل گیا ہے مجھ کو تُو زندگی ایک آزمائش ہےاور اُس پر سِوا ہے مجھ کو تُو لوگ جو بھی کہیں، کہیں لیکننسخہءِ کیمیا ہے مجھ کو تُو اعتبار و یقیں کی ڈوری سےکیوں نہیں باندھتا […]

یاد کیوں آرہا ہے مجھ کو تُو Read More »

زخم دنیا کو گر دکھائیں گے

زخم دنیا کو گر دکھائیں گےلوگ تو تالیاں بجائیں گے آپ کی زندگی میں میرے بعدلوگ آئیں گے لوگ جائیں گے کتنی بار آپ مجھ کو پرکھیں گےکتنی بار آپ، آزمائیں گے ختم بھی کیجیے نا ! قصّے کواور کتنا اِسے بڑھائیں گے دیکھئے گا کہ مجھ کو پاتے ہیآپ بھی مجھ کو بھول جائیں

زخم دنیا کو گر دکھائیں گے Read More »

تم تمنّا ہو اور ضرورت بھی

تم تمنّا ہو اور ضرورت بھیتم محبّت بھی ہو عبادت بھی آئینہ دیکھنا بھی مشکل ہےکیا عجب چیز ہے محبت بھی عشق ہے جھوٹ اِک زمانے کااور سب سے بڑی حقیقت بھی ماں کے گھر رہ گئی انا اور ضدآہ میں ڈھل گئی شکایت بھی کہہ دیا نا کہ عشق ہے تم سےاب بھلا دوں

تم تمنّا ہو اور ضرورت بھی Read More »

یہ زینب نام کا جو واقعہ ہے

یہ زینب نام کا جو واقعہ ہےاسی میں گویا اک محشر بپا ہے مجھے اک عمر تو شکوہ رہا ہےمگر اب تو سکوں سا آ گیا ہے تمہیں تہذیب لانے کی پڑی ہےمگر ،بھوکے کا، روٹی مسئلہ ہے بھلا بیٹھے ہیں ہم آ کر جہاں میںہمیں کس واسطے بھیجا گیا ہے محبّت اور ہَوس ہم

یہ زینب نام کا جو واقعہ ہے Read More »

کھو گیا میرا ہمسفر لوگو

کھو گیا میرا ہمسفر لوگوکیسے تنہا کروں سفر لوگو ماں کے اشکوں میں بہہ گیا ہو گامجھ کو ملتا نہیں ہے گھر لوگو جس کی ضامن تھی آیت الکرسیجل گیا دل کا وہ نگر لوگو میں ہوں زیرِ اثر محبت کےمجھ پہ ہو گا نہیں اثر لوگو کل جو سر پر سوار تھے میرےآج لگتے

کھو گیا میرا ہمسفر لوگو Read More »

قیصر صدیقی شخصیت اور شاعری

تحریر آشکار احمد صدیقی قیصر صدیقیشخصیت اور شاعری__ افتخار احمد، قیصر صدیقی اردو کے عظیم شاعر تھے-ان کے والد کا نام مولوی عبدالغنی تھا۔ قیصر صدیقی 19 مارچ, 1937 بروز جمعہ کو سمستی پور شہر سے تین کیلومیٹر پورب بوڑی گندھک کے دکھنی کنارے پر آباد ایک چھوٹے سے گاؤں گوھر نوادہ میں پیدا ہوئے

قیصر صدیقی شخصیت اور شاعری Read More »

آنکھوں میں اعتکاف کا حق بھی نہیں مجھے

Aankhoo Main aitakaaf ka haq bhi nahi mujhay غزل آنکھوں میں اعتکاف کا حق بھی نہیں مجھے کیا خواب کے طواف کا حق بھی نہیں مجھے کیا مجھ میں ایک دل کا دھڑکنا بھی جرم ہے کیا عین شین قاف کا حق بھی نہیں مجھے پاؤں کا ساتھ دیتی نہیں سر زمینِ خاک اور سیرِ

آنکھوں میں اعتکاف کا حق بھی نہیں مجھے Read More »

وہ مجھے دے کے بددعا گزرا

Wo mujhay Day kay bad dua Guzra غزل وہ مجھے دے کے بددعا گزرا حادثہ سوچ پر نیا گزرا بھاگ نکلے یوں حسن کے پیچھے عشق ہوتا نہیں گیا گزرا ہم تغافل کی زد میں ہیں اب کے چپکے چپکے وہ کج ادا گزرا میں گریزاں تھی ہر گھڑی اس سے وہ بھی پل بھر

وہ مجھے دے کے بددعا گزرا Read More »

اپنے خوابوں کے جو قاتل سے الجھ بیٹھے ہیں

Apnay Khwaboo Kay jo qatil Say ulajh Bethay Hain غزل اپنے خوابوں کے جو قاتل سے الجھ بیٹھے ہیں یوں سمجھ لو کہ کسی سِل سے الجھ بیٹھے ہیں مسئلہ کوزہ گروں کو بھی یہ درپیش تھا دوست یہ مصور بھی ترے تل سے الجھ بیٹھے ہیں دل ستم گر کے مخالف نہیں ہو سکتا

اپنے خوابوں کے جو قاتل سے الجھ بیٹھے ہیں Read More »

زندگی خون کی ریلی سے بہت ملتی ہے

Zindagi Khoon ki reeli say boht Miti Hay غزل زندگی خون کی ریلی سے بہت ملتی ہے درحقیقت یہ پہیلی سے بہت ملتی ہے تیرے آنے کی خبر کیسے چھپاؤں میں بھلا تیری خوشبو بھی چنبیلی سے بہت ملتی ہے اس اداسی نے یہاں شعر ہی کہنے ہیں فقط یہ اداسی جو سہیلی سے بہت

زندگی خون کی ریلی سے بہت ملتی ہے Read More »