MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوں

Fizzaoo say Guzarta Ja Raha hoon غزل فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوںخلاؤں میں بکھرتا جا رہا ہوں میں ریگستان میں بیٹھا ہوں لیکنسمندر میں اترتا جا رہا ہوں زمانہ لمحہ لمحہ جی رہا ہےمیں لمحہ لمحہ مرتا جا رہا ہوں وہ جتنے دور ہوتے جا رہے ہیںمیں اتنا ہی سنورتا جا رہا ہوں چلا […]

فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوں Read More »

ستارے جب کسی مہتاب کا قصہ سناتے ہیں

Sitaray jab kissi Mahtab ka qissa sunatay hain غزل ستارے جب کسی مہتاب کا قصہ سناتے ہیںمرے خوابوں کے آنگن میں اجالے مسکراتے ہیں حقیقت سامنے لانے سے جب دامن بچاتے ہیںتو گر کر آئنہ ہاتھوں سے خود ہی ٹوٹ جاتے ہیں ہمیں تو مسکرانے کے سوا کچھ بھی نہیں آتاہجوم غم میں بھی ہم

ستارے جب کسی مہتاب کا قصہ سناتے ہیں Read More »

آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں

Aaoo Ham Tum Ishq ki btin rain غزل آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریںڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریں پھول کی باتیں کریں گلزار کی باتیں کریںپیار کی باتیں کریں بس پیار کی باتیں کریں بات ہم دونوں کو یہ تو سوچنی ہی چاہئےپیار کے موسم میں کیوں تکرار

آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں Read More »

ہم جو کرتے تھے وہی تم بھی عبادت کرتے

ہم جو کرتے تھے وہی تم بھی عبادت کرتےتم سے پہلے بھی کہا تھا کہ محبت کرتے عمر ساری مری گزری ہے مری ماں کی طرحآیت الکرسی سے اِک گھر کی حفاظت کرتے ہر ستم سہہ کے بھی خاموش ہوں، لب بستہ ہوںتم سے ہوتے جو اگر ہم، تو شکایت کرتے ہم محبّت میں اگر

ہم جو کرتے تھے وہی تم بھی عبادت کرتے Read More »

عمر گزری ہے مری دشت میں گریہ کرتے

عمر گزری ہے مری دشت میں گریہ کرتےآ کبھی دیکھ مجھے آنکھ کو دریا کرتے بخش دیتا ہے خدا گنج ِ قناعت جن کووہ توَنگر کی تجوری نہیں دیکھا کرتے جن کو مل جائے توکُّل کا سبق بچپن سےاپنی عُسرَت کا ڈھنڈورا نہیں پِیٹا کرتے وقت اچھا ہو تو بس شکر بجا لاتے ہیںاپنی اوقات

عمر گزری ہے مری دشت میں گریہ کرتے Read More »

کل جو کہتا تھا خوش نوا مجھ کو

کل جو کہتا تھا خوش نوا مجھ کوکر دیا اُس نے بے صدا مجھ کو تیرگی میں تمہارے کام آتیتم نے دن میں جلا دیا مجھ کو میری ضد نے انا پرستی نےکتنا مشکل بنا دیا مجھ کو اب ترستا ہے روشنی کے لئےجس نے خود ہی بجھا دیا مجھ کو بے گناہی کا میری

کل جو کہتا تھا خوش نوا مجھ کو Read More »

ایک چپ کی صدا سمجھتے ہو

ایک چپ کی صدا سمجھتے ہوپتّھروں کا کہا سمجھتے ہو قیدِ تنہائی کاٹنی ہے مجھےوقت کا فیصلہ سمجھتے ہو خون کی گردشوں میں شام ہوخود کو مجھ سے جدا سمجھتے ہو دسترس میں نہیں تمہارے جوبس اُسی کو خدا سمجھتے ہو زندہ درگور ہے محبت میںتم جسے بے وفا سمجھتے ہو سوچ تک کے کتر

ایک چپ کی صدا سمجھتے ہو Read More »

محبت کا سبق سکھلا رہی ہوں

محبت کا سبق سکھلا رہی ہوںوہ پتّھر ہے جسے پگھلا رہی ہوں مرے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہےمیں جتنا وقت کو بہلا رہی ہوں یقیں جانو کسی پچھلے جنم میںتمہاری ہی تو میں لیلٰی رہی ہوں رہا دل میں کبھی لب تک نہ آیامیں وہ بے معنی سا جملہ رہی ہوں دیا تھا دل

محبت کا سبق سکھلا رہی ہوں Read More »

کچھ نہ کچھ تو چھپا رہے ہو تم

کچھ نہ کچھ تو چھپا رہے ہو تمیہ جو آنکھیں چرا رہے ہو تم جیسے مجھ کو خرید لائے ہوحق تو ایسے جتا رہے ہو تم مجھ کو اپنا بنا رہے ہو یاصرف باتیں بنا رہے ہو تم عام سی بات ہے بچھڑ جاناکیوں قیامت اُٹھا رہے ہو تم سب کی باتیں ادہر اُدہر کر

کچھ نہ کچھ تو چھپا رہے ہو تم Read More »

ایک پیالی چائے پی لینے سے کیا ہو جائے گا

ایک پیالی چائے پی لینے سے کیا ہو جائے گادوستی کا باہمی اِک سلسلہ ہو جائے گا ایک مدّت سے نہیں دیکھی ہیں شب کی رونقیںتم جو آؤ گے تو اپنا رت جگا ہو جائے گا آپ کا کیا جائے گا، گر مسکرا دیں گے حضور !دیکھیے ! اِس سے غریبوں کا بھلا ہو جائے

ایک پیالی چائے پی لینے سے کیا ہو جائے گا Read More »