MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یادوں کے بند تم سے ادارے نہیں ہوئے

Yadoon Kay Band Ham say addary nahi hoyee غزل یادوں کے بند تم سے ادارے نہیں ہوئے پوری طرح سے ہم بھی تمہارے نہیں ہوئے کچھ دن کی ہم کو اور بھی مہلت ملے گی کیا کرنے تھے جتنے کام وہ سارے نہیں ہو ئے ٹھوکر لگی تو خود کو سنبھالا ہے ہم نے خود […]

یادوں کے بند تم سے ادارے نہیں ہوئے Read More »

ہنس دیکھے ہیں تو تالاب بھی ہو سکتے ہیں

Hans Dekhay Hain to Talaab bhi ho sakty Hain غزل ہنس دیکھے ہیں تو تالاب بھی ہو سکتے ہیں خشک آنکھوں میں کئی خواب بھی ہو سکتے ہیں آپ بس حُسن تکلم سے ذرا کام تو لیں بد زباں مائلِ آداب بھی ہو سکتے ہیں دل میں رکھا ہوا چہرہ جو اگر سامنے ہو دل

ہنس دیکھے ہیں تو تالاب بھی ہو سکتے ہیں Read More »

شاعری کا رنگ جمائے خوبصورت شاعرہ

Shairi a Rang Jamayee Khoobsurat haira غزل شاعری کا رنگ جمائے خوبصورت شاعرہ کیا تمہیں غزلیں سنائے خوبصورت شاعرہ بارِ دنیا بھی اٹھا رکھا ہے اس کمزور نے آ ترے بھی ناز اٹھائے خوبصورت شاعرہ جرم اتنا ہے کہ اِس کو بھی محبت ہو گئی خواب آنکھوں میں سجائے خوبصورت شاعرہ رقص کرتی ہیں ہوائیں

شاعری کا رنگ جمائے خوبصورت شاعرہ Read More »

کسی نے ٹھیک لکھا ہے محبت درد دیتی ہے

Kissi Nay Theek Likha hay Mohabat Dard Deti Hy غزل کسی نے ٹھیک لکھا ہے محبت درد دیتی ہے اب اپنا حال تکتی ہوں تو وحشت درد دیتی ہے دلِ بسمل تجھے اُسکی ضرورت پڑ گئی ہے اب تجھے پہلے بتایا تھا ضرورت درد دیتی ہے غلط فہمی میں ہو جاتے ہیں اکثر فیصلے اُلٹے

کسی نے ٹھیک لکھا ہے محبت درد دیتی ہے Read More »

محبت کی پہلی گهڑی یاد رکهنا

Mohabat ki pehli Ghari Yaad Rakhna غزل محبت کی پہلی گهڑی یاد رکهنا کلائی پہ باندهی گهڑی یاد رکهنا جدائی کے لمحے سلگتے ملیں گے ملن کی سہانی گهڑی یاد رکهنا مری بے خودی تھی،تری بےکلی تهی جو مل کر گزاری گهڑی یاد رکهنا سبھی کچھ بهلانا بهری زندگی میں مگر دل لگی کی گهڑی

محبت کی پہلی گهڑی یاد رکهنا Read More »

گِن گِن گزر رہے ہیں

Gin Gin Guzar Rahay Hain غزل گِن گِن گزر رہے ہیں جو دن گزر رہے ہیں بیٹھے ہیں ہم بظاہر لیکن گزر رہے ہیں اب سال اور مہینے تم بن گزر رہے ہیں کل تھے جو میرے دل میں ساکن، گزر رہے ہیں بوڑھے جوان اور سب کم سن گزر رہے ہیں جو تھے محبتوں

گِن گِن گزر رہے ہیں Read More »

آنکھ کے زندان میں رکھا گیا

Aankh kay zandaan Main Rakha Gaya غزل آنکھ کے زندان میں رکھا گیا ہجر کو امکان میں رکھا گیا دل کے اندر کیا جگہ خالی نہیں؟ درد کو دالان میں رکھا گیا ہائے دوہری ہو گئی میری کمر ایسا کیا سامان میں رکھا گیا زندگی کر لی گئی اغوا مری اور مجھے تاوان میں رکھا

آنکھ کے زندان میں رکھا گیا Read More »

سانپ کو سانپ ہی بلایا جائے

Sanp ko Sanp hi Bulaya jayee غزل سانپ کو سانپ ہی بلایا جائےآستینوں سے بھی گرایا جائے میرے گرنے کے منتظر جو ہیںقصہ یوسف انہیں سنایا جائے وہ جو مخلص ہیں؛نہ مرے ہمدردان سے کچھ فاصلہ بڑھایا جائے بات کرتے ہیں سخت لہجے میںاحترام ان کو اب سکھایا جائے درد جب خود بخود ہی سوجایئںکیوں

سانپ کو سانپ ہی بلایا جائے Read More »

زندگی ایک امتحان بنے

Zindagi Aik imtahan banay غزل زندگی ایک امتحان بنےجب کسی کا یقیں گمان بنے خوف رسوائ کیا انہیں کوئجو اندھیروں کے پاسبان بنے تیر پیوست میں نے رہنے دیاکیوں نکالوں کہ پھر نشان بنے کر تصور میں اک جہاں آبادتاکہ صحرا میں سائبان بنے خود سے ملنا ہے سعدیہ مجھ کورابطہ کوئی درمیان بنے سعدیہ

زندگی ایک امتحان بنے Read More »

مدت گزری ہونٹوں پر بن بات کا موسم ٹھہر گیا

Mudat Guzri Honto per bin Baat ka mosim Thahar gaya مدت گزری ہونٹوں پر بن بات کا موسم ٹھہر گیاتب سے جیسے آنکھوں میں برسات کا موسم ٹھہر گیا اک لمحے کی خواہش ہے کہ میرے دل کا موسم ہوجان کی بازی ہار گئے اب مات کا موسم ٹھہر گیا زخم بھی لگتے جایئں تو

مدت گزری ہونٹوں پر بن بات کا موسم ٹھہر گیا Read More »