MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب اعتبار تک گیا

Jab aitbar tak gaya غزل جب اعتبار تک گیایقیں؛گمان؛شک گیا اک اجنبی خیال سےقلم بہک بہک گیا مری زباں سے دکھ مراپھر آسمان تک گیا قدم بھی ہم قدم نہ تھےسفر بھی جیسے تھک گیا تری کماں کا تیر تھااتر کے جاں تلک گیا ہنسی میں کیا تھا سعدیہوہ جھینپ کر جھجھک گیا سعدیہ سراج […]

جب اعتبار تک گیا Read More »

میں اب اتنی اکیلی ہوگئ ہوں

Main Ab itni akeeli ho gaee hoon غزل میں اب اتنی اکیلی ہوگئ ہوںکہ خود اپنی سہیلی ہوگئ ہوں کوئ آسیب مجھ میں بس گیا ہےمیں جنگل کی حویلی ہوگئ ہوں تو مجھ کو سوچنا اب زندگی بھرمیں اب ایسی پہیلی ہوگئ ہوں ترا غم پیرہن جب سے کیا ہےمیں دلہن سی نویلی ہوگئ ہوں

میں اب اتنی اکیلی ہوگئ ہوں Read More »

لاکر

نظممیں نے رو کے سجدے میںخدا سے التجا کی ہےعطا کر دیجیے Lockerمجھے اس کی ضرورت ہےمیں اس میں ان گنتتحفے دعاؤں کےذخیرہ کرنا چاہتی ہوںمیں ہر بچے کو ورثے میںدعاؤں کا خزانہ دے کےجانا چاہتی ہوںکہ وہ حسب ضرورت؛دعائیںمیرے Locker سے جب چاہیں نکالیںانہیں احساس تک نہ ہوانہیں یہ یاد تک نہ ہوکہان کی

لاکر Read More »

(کرب نسوانیت)

نظمکتنے سمندر خشک ہوےکتنے ستارے ڈوب گئےکتنے چمن برباد ہوےکتنے فخر گمنام ہوئےاورکس کی ردا نیلام ہوئسر سر کرتی خاموش ہواہر بار گذر کیوں جاتی ہےتھم جایا کررک جایا کرکچھ شور مچا کے جایا کرطوفان اٹھا کے جایا کرتہمت کے کمان کے تیروں کوتو واپس بھی لوٹایا کراس دنیا کے فرعونوں کوبے نام و نسب

(کرب نسوانیت) Read More »

(نئے خواب کیسے دیکھوں)

نظم۔۔عمر رواں سے کچھ بھی شکایت نہیں مجھے لیکن یہ سوچ کر ہی تھکن ہورہی ہے اب کیسے شمار ہوں گے میرے بےشمار خواب تکیہ کے نیچے خواب چھپاتی تھی رات کو انبار اسقدر ہے کہ سونا محال ہے آنکھوں کا احتجاجتقاضا یہ مجھ سے ہےپہلے گنوں وہ خوابجو تکیہ میں دفن ہیںلیکن یہ سوچ

(نئے خواب کیسے دیکھوں) Read More »

بچہ ہے بلکتا کہ مچلتا ہوا آنسو

Bacha Hay Bilakta kay machalta howa Aansoo غزل بچہ ہے بلکتا کہ مچلتا ہوا آنسوخوراک ہے چھاتی میں کہ ڈھلتا ہوا آنسو ڈر ہے کہ مری آنکھ کا ناسور نہ بن جائےیہ صبر کی آغوش میں پلتا ہوا آنسو ہوتا ہے تمناؤں کا خوں نوکِ زباں پردیکھو تو کبھی دل سے نکلتا ہوا آنسو اک

بچہ ہے بلکتا کہ مچلتا ہوا آنسو Read More »

اے دل ترا یہ شور مچانا کرے گا کیا

Aye Dil tra yeh shoor Machana Karay ga kia غزل اے دل ترا یہ شور مچانا کرے گا کیامیں جانتا ہوں اب وہ بہانہ کرے گا کیا دیوار سے لگا دیا آنکھیں بھی نوچ لیںاب اور اس سے بڑھ کے زمانہ کرے گا کیا جب اپنے مول لے نہ سکی زندگی تو پھربازار گرم دنیا

اے دل ترا یہ شور مچانا کرے گا کیا Read More »

میرے لیے حیات کا رستہ بھی تنگ تھا

Mery lyee Hayyat Ka rasta bhi Tang tha غزل میرے لیے حیات کا رستہ بھی تنگ تھاجس وقت مجھ میں میں نہیں کوئی ملنگ تھا کل رات بج رہی تھی عجب دل میں گھنٹیاںکل رات مجھ میں معرکہ کوئی دَبنگ تھا اس وقت میرے نام چلی آئی اک خوشیجب میں بساطِ عجز پہ مصروفِ جنگ

میرے لیے حیات کا رستہ بھی تنگ تھا Read More »

جاں نثاروں کی طرح ساتھ میں رہنے والے

Jaan Nisaroo ki Tarah sath main rehnay walay غزل جاں نثاروں کی طرح ساتھ میں رہنے والےہیں یہی لوگ مری گھات میں رہنے والے اب یہ عالم ہے کہ دن رات لہو روتے ہیںہم تھے رنگین خیالات میں رہنے والے اپنی وحشت کو بچاتے ہوئے مرجاتے ہیںشہر سے دور مضافات میں رہنے والے ہم جو

جاں نثاروں کی طرح ساتھ میں رہنے والے Read More »

جوں جوں ترا شعور اسیروں میں آئے گا

joon joon tra shaoor aseeroo main aayee ga غزل جوں جوں ترا شعور اسیروں میں آئے گاتیرے بدن کا لوچ سلاخوں میں آئے گا اس کی نظر میں ہیچ ہیں صدیوں کے فاصلےوہ جب بھی آنا چاہے گا لمحوں میں آئے گا سوچا نہ تھا کبھی کہ مرے گھر ایک فردبس شادیوں میں اور جنازوں

جوں جوں ترا شعور اسیروں میں آئے گا Read More »