جب اعتبار تک گیا
Jab aitbar tak gaya غزل جب اعتبار تک گیایقیں؛گمان؛شک گیا اک اجنبی خیال سےقلم بہک بہک گیا مری زباں سے دکھ مراپھر آسمان تک گیا قدم بھی ہم قدم نہ تھےسفر بھی جیسے تھک گیا تری کماں کا تیر تھااتر کے جاں تلک گیا ہنسی میں کیا تھا سعدیہوہ جھینپ کر جھجھک گیا سعدیہ سراج […]