MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خوش ہو گیا تو کیا ہے خفا ہو گیا تو کیا

Khush Ho Gaya to Kia hay khafa ho gaya to kia غزل خوش ہو گیا تو کیا ہے خفا ہو گیا تو کیاتو بندہء خدا ہے خدا ہو گیا تو کیا تعمیل کرنے والے مرے زر خرید ہیںمیرے خلاف حکمِ سزا ہو گیا تو کیا در پر ترے لگی ہے ملاقاتیوں کی بھیڑاک ملنے والا […]

خوش ہو گیا تو کیا ہے خفا ہو گیا تو کیا Read More »

ہمارے سینے میں خنجر کہاں گڑے ہوئے ہیں

Hamary seenay main Khanjar Kahan Gary Hoyee Hain غزل ہمارے سینے میں خنجر کہاں گڑے ہوئے ہیںوفورِ عشق سے ہم جاں بہ لب پڑے ہوئے ہیں ہم اپنا حال بتاتے نہیں سو یاروں نےہمارے نام پہ قصے کئی گھڑے ہوئے ہیں کسی کے سر پہ سجے تھے کسی کے ہاتھوں میںیہ جتنے پھول سرِ راہ

ہمارے سینے میں خنجر کہاں گڑے ہوئے ہیں Read More »

ہم اک تلاش میں یوں آئنہ اٹھاتے ہیں

Ham ik Talash main youn Aaina Uthaty Hain غزل ہم اک تلاش میں یوں آئنہ اٹھاتے ہیںکہ جیسے گاؤں میں کھوجی کھرا اٹھاتے ہیں یہاں کے لوگوں کا بنیادی مسئلہ ہے یہییہ روز ایک نیا مسئلہ اٹھاتے ہیں شناورانِ محبت کی سادگی مت پوچھیہ لوگ آج بھی کچا گھڑا اٹھاتے ہیں سنا ہے شہر کی

ہم اک تلاش میں یوں آئنہ اٹھاتے ہیں Read More »

پہلی بازی ہے آخری ہے میاں

Pehli Bazi Hay Aakhri Hay Miaan غزل پہلی بازی ہے آخری ہے میاںزندگی داؤ پر لگی ہے میاں دل کی حالت عیاں ہے آنکھوں سےدیکھ سرخی ہے اور جلی ہے میاں ہم نے مصنوعی دکھ نہیں لکھےہم نے جو کچھ کہا وہی ہے میاں میرے کمرے میں گھپ اندھیرا ہےتیری گلیوں میں روشنی ہے میاں

پہلی بازی ہے آخری ہے میاں Read More »

بگاڑ

BIGAAR NAZM بگاڑ جبلت کیوں بگڑتی ہے کسی انسان کی آخرکبھی سوچا کبھی سمجھا کبھی جانا بتاؤ تماگر معلوم ہو جاتا گہر نایاب یہ ہم کویقیں جانو کبھی ماتم نہ ہوتا عام سڑکوں پرکوئی درگور نہ ہوتا کوئی پامال نہ ہوتامگر ہونا نہ ہونا طے کیا ہے سارا قدرت نےہزاروں دلدلوں کے درمیاں رستے بنائے

بگاڑ Read More »

علم و فن کا خاندانی سفیر فیروز ناطق خسرو

تحریر شاہ روم خان ولی شاعری کے افق ہمارے کائناتی آفاق کی طرح گو وسیع و بسیط نہیں تاہم حیات و کائنات کی پردہ کشائی اور اس کے ایک چھوٹے سے کرّے میں آباد انسان اور اس کی دنیا کے تہہ در تہہ راز ہائے سر بستہ کو منکشف کرنے کا فریضہ اور اس کے

علم و فن کا خاندانی سفیر فیروز ناطق خسرو Read More »

چین آیا ہے تو اب نیند بھی آ جائے گی

چین آیا ہے تو اب نیند بھی آ جائے گیاور دھرتی ہمیں آرام سے کھا جائے گی تو یونہی دیکھتا رہ جائے گا ، اور موجِ ہواپُستکِ عمر کے سب حرف مٹا جائے گی ہم نشیں تو بھی کسی روز وہاں ہو گا جہاںمری دستک، نہ اشارہ، نہ صدا جائے گی اب یہ آواز ہمیں

چین آیا ہے تو اب نیند بھی آ جائے گی Read More »

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہےحصارِ رنگ سے نکلیں تو بات بنتی ہے کسی کسی کو زمانہ فروغ دیتا ہےکسی کسی کی زمانے کے سات بنتی ہے نقوشِ ریگ سہی، تو بھی کچھ بنا کے تو دیکھکہ رفتہ رفتہ یونہی کائنات بنتی ہے مرے نجوم پہ اب مستقل اندھیرا ہےتری نگاہ میں

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے Read More »

سامانِ طرب اور زمانے کے لئے ہیں

سامانِ طرب اور زمانے کے لئے ہیںہم جسم کا اسباب اُٹھانے کے لئے ہیں اے کاریگرِ حسن کبھی تو نے یہ سوچایہ چاند بھی مٹی میں ملانے کے لئے ہیں ان سوختہ جانوں کو نہ دھرتی میں اُتارویہ پھول تو گنگا میں بہانے کے لئے ہیں سورج کی طرف دیکھ کے آنکھیں نہیں بجھتیںدو ہاتھ

سامانِ طرب اور زمانے کے لئے ہیں Read More »

تیری صورت تری آواز بھی پہچانتے ہیں

تیری صورت تری آواز بھی پہچانتے ہیںہم کسی اور حوالے سے تجھے جانتے ہیں ہم نے بھی عمر گزاری ہے شبِ ہجراں میںہم بھی یاروں کو ستاروں کی طرح جانتے ہیں ہاتھ خالی ہیں تو دانائی کا اظہار نہ کرایسی باتوں کا بڑے لوگ برا مانتے ہیں اس قدر اوجِ نزاکت پہ ہے اب رشتۂ

تیری صورت تری آواز بھی پہچانتے ہیں Read More »