خوش ہو گیا تو کیا ہے خفا ہو گیا تو کیا
Khush Ho Gaya to Kia hay khafa ho gaya to kia غزل خوش ہو گیا تو کیا ہے خفا ہو گیا تو کیاتو بندہء خدا ہے خدا ہو گیا تو کیا تعمیل کرنے والے مرے زر خرید ہیںمیرے خلاف حکمِ سزا ہو گیا تو کیا در پر ترے لگی ہے ملاقاتیوں کی بھیڑاک ملنے والا […]
خوش ہو گیا تو کیا ہے خفا ہو گیا تو کیا Read More »