بڑھا ہوا ہے زمانے پہ انحصار ولی
Barha Howa Hay zamanay pa inhisaar wali غزل بڑھا ہوا ہے زمانے پہ انحصار ولیوگرنہ دشت میں کیوں بیٹھتا غبار ولی یہ زندگی تجھے ملنی نہیں دوبارہ کبھیہر ایرے غیرے پہ نعمت نہ ایسے وار ولی بہت ہوا تجھے پایاب پانیوں کا سفریہ کشتی گہرے سمندر میں اب اُتار ولی خزاں کے خوف سے یوں […]
بڑھا ہوا ہے زمانے پہ انحصار ولی Read More »