MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا

Zulmat e dasht e adam main bhi agar jaoon ga غزل ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گالے کے ہمراہ مہ داغ جگر جاؤں گا عارض گل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گلچیںایک جھونکا ہوں فقط سن سے گزر جاؤں گا اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمرمیں کسی اور سمندر میں […]

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا Read More »

تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں

Tumhari Furqat main meri aankhoon say khoo kay aansoo Tapak Rahay Hain غزل تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیںسپہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیں عجیب ہے سوز و ساز الفت طرب فزا ہے گداز الفتیہ دل میں شعلے بھڑک رہے ہیں کہ لالہ

تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں Read More »

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں

Lutf e gunah main mil aur na maza sawab ka غزل لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میںعمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنامیرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہےہائے وہ دور جب

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں Read More »

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں

Meri Her Saans Ko sab Naghma e mehfil Samjhty hain غزل مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیںمگر اہل دل آواز شکست دل سمجھتے ہیں گماں کاشانۂ رنگیں کا ہے جس پر نگاہوں کواسے اہل نظر گرد رہ منزل سمجھتے ہیں الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میںنکل آتی ہیں موجیں

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں Read More »

تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے

Tumhari Yaad main Dunya ko hain Bhulayee Hoyee غزل تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئےتمہارے درد کو سینے سے ہوں لگائے ہوئے عجیب سوز سے لبریز ہیں مرے نغمےکہ ساز دل ہے محبت کی چوٹ کھائے ہوئے جو تجھ سے کچھ بھی نہ ملنے پہ خوش ہیں اے ساقیکچھ ایسے رند بھی ہیں

تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے Read More »

مرزا اسد اللہ خاں غالب کا فن سخن

موج سخن تحقیقی ڈیسک   غالب کی سوانح جس زمانے میں مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹمار ہا تھا اور مشرقی تہذیب کا آفتاب غروب ہونے کو تھا اس وقت شعر و ادب کی دنیا میں چند شمعیں روشن ہوئیں جنہوں نے آنکھوں کو خیرہ کر دیا ۔ مرزا اسد اللہ خان غالب اس عہد کے

مرزا اسد اللہ خاں غالب کا فن سخن Read More »

یہ عالم بے وفا کیوں ہو گیا ہے

Ye Aalam bay wafa kyoo Ho Gaya Hay غزل یہ عالم بے وفا کیوں ہو گیا ہےیہ آدم حرف سا کیوں ہو گیا ہے کہاں ہیں وہ وفائیں اور جذبےزمانہ بے وفا کیوں ہو گیا ہے زمین و آسماں بوجھل ہیں غم سےیہاں یہ سانحہ کیوں ہو گیا ہے بہاریں بھی ہیں موسم گل بھی

یہ عالم بے وفا کیوں ہو گیا ہے Read More »

یہ شہر مسافر خانہ ہے

Yeh Shahr Musafir Khana Hay غزل یہ شہر مسافر خانہ ہےدل اس میں خاک لگانا ہے ہر چیز یہاں کی ہے فانیجو آیا ہے اسے جانا ہے یہ کیسی دنیا ہے یاربہر کوئی یہاں بیگانہ ہے اشکوں کی درد کہانی کومجھے لکھنا اور سنانا ہے بس اتنا شام کا ہے کہنایہ جیون کھیل پرانا ہے

یہ شہر مسافر خانہ ہے Read More »

آشیاں ہے نہ آستاں اپنا

Ashyaan Hay no aastaan apna غزل آشیاں ہے نہ آستاں اپناکوئی ہمدم نہ راز داں اپنا ایک اڑتا غبار ہے ہر سوکہاں ڈھونڈوں میں کارواں اپنا زندگی ناتواں سی اک کشتیاور غم ہے یہ بادباں اپنا جب سے پائی ہے میں نے تیری وفاکہیں ملتا نہیں نشاں اپنا کب تلک شام درد سہتا رہےدل یہ

آشیاں ہے نہ آستاں اپنا Read More »

کوئی وہم کوئی گماں نہیں

Koi wehm koi Guman Nahi غزل کوئی وہم کوئی گماں نہیںکہیں زندگی کو اماں نہیں نہیں ہر کسی کو یہ آسرایہاں ہر کسی کا مکاں نہیں کسے ڈھونڈیے کہاں ڈھونڈیےکہیں منزلوں کے نشاں نہیں یہاں موت راہ میں ہے کھڑییہاں زندگی ہی رواں نہیں یہاں سر ہے تال ہے رقص ہےیہاں صرف آہ و فغاں

کوئی وہم کوئی گماں نہیں Read More »