MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آج دنیا ہے دِوانی میری

Aaj Dunya hay dwani meri غزل آج دنیا ہے دِوانی میریبس ؔمحبت ہے نشانی میری اِک نیا رُوپ غزل کا ہے مِریدیکھ لے شعلہ بیانی میری لاکھ چاہوں کہ وہ سن لے لیکن“کب وہ سنتا ہے کہانی میری” ایک دریا کی طرح بہتی ہوںبہتی لہروں میں روانی میری اِس کو لافانی بنا دوں گی میںزیست […]

آج دنیا ہے دِوانی میری Read More »

زخم دل کے یوں دکھانا چاہیے

Zakhm dil kay youn dikhana chahyee غزل زخم دل کے یوں دکھانا چاہیےرنج میں بھی مسکرانا چاہیے روٹھے ساجن کو منانا چاہیےوعدہء الفت نبھانا چاہیے سننے والا سُن کے جس کو داد دےحال دل کا یوں سنانا چاہیے صرف ہاتھوں کو ملانا کچھ نہیںدل کو بھی دل سے ملانا چاہیے لوگ کہتے ہیں زمانے کو

زخم دل کے یوں دکھانا چاہیے Read More »

یہ عجیب میرے نصیب تھے

Yah ajeeb meray Naseeb They غزل یہ عجیب میرے نصیب تھےوہ جو دُور تھے تو قریب تھے وہ ہی اب بھی ہیں مرے ہم نشیںوہ ہی کل بھی میرے حبیب تھے مری زندگی کے وہ ہم سفرمری منزلوں سے قریب تھے کوئی رنج و غم نہ ملال تھاکہ وہ دن بھی کتنے عجیب تھے تھا

یہ عجیب میرے نصیب تھے Read More »

نسلِ انساں جارہی ہے کس ڈگر پر اور کہاں

Nasl e Insaan jaa rahi hay kiss Dagar pr aur kahan غزل نسلِ انساں جارہی ہے کس ڈگر پر اور کہاںآدمی پر آج تو حیواں کا ہوتا ہے گماں خون کا پیاسا ہے آدم زاد جانے آج کیوںسانحہء کربلا برپا ہے، ہوتا ہے گماں نفرتوں کے بیج، رنگ و نسل اور مذہب کی آڑظلم و

نسلِ انساں جارہی ہے کس ڈگر پر اور کہاں Read More »

جان سے ایک دن ہم گزر جائیں گے

Jaan sa aik din Ham guzar jaeen Gay غزل جان سے ایک دن ہم گزر جائیں گےبن کے خوشبو تمہاری بکھر جائیں گے گر تصور میں جاناں تمہیں دیکھ لیںآپ ہی آپ ہم تو سنور جائیں گے حرف آیا ہماری وفا پر اگرشدتِ رنج سے ہم تو مر جائیں گے ہم قفس میں ہیں، صیاد

جان سے ایک دن ہم گزر جائیں گے Read More »

آجکل کی شادیاں

AAj Kal ki Shadiaan نظم آجکل کی شادیاں آجکل کی شادیاں رسموں سے جو بھر پور ہیںباپ و ماں بھی کیا کریں،اولاد سے مجبور ہیں پہلے تھی شادی، ولیمہ میں مہذب سی پھبناب مہینوں شور و غُل کرنے کا نکلا ہے چلن پہلے کچھ ہمجولیاں کرتی تھیں گھر پر انتظاماب تو ہوگا “ہال” میں اعلیٰ

آجکل کی شادیاں Read More »

کچھ ایسے محبت کا اظہار کر

Kuch aysay Mahabat ka izhaar kar غزل کچھ ایسے محبت کا اظہار کردِلوں کو تُو محفل کے سرشار کر ہمیں عام اُلفت کا قائل نہ جانہمیں دل کی نظروں سے تُو پیار کر کیے تھے جو وعدے رہِ عشق میںعمل سے تُو اب اُن کا اظہار کر لبوں کو بھی دے تُو کبھی جنبشیںکبھی ہم

کچھ ایسے محبت کا اظہار کر Read More »

مسیحائی سے سخنوری کا اقبال

مسیحائی سے سخنوری کا اقبال موج سخن پبلیکیشن سے شائع ہونے والا شعری مجموعہ "دل مضطرب ” پر تبصرہ عرفان خانی بانی عالمی ادب اکادمی زیست اک ایسا جنگل ہے جس کو گلشن بناتے بناتے عمریں بیت جاتی ہیں جو اس جنگل میں ہمت حوصلہ ہار گیا اسکا نام مٹ گیا اور جس نے خاردار

مسیحائی سے سخنوری کا اقبال Read More »

مسافروں سے کہیں کہ رک کر یہیں پہ آئیں قیام کرلیں ، تھکن مٹائیں

غزل مسافروں سے کہیں کہ رک کر یہیں پہ آئیں قیام کرلیں ، تھکن مٹائیںبدن کا سایہ پسند ہو تو انھیں بتائیں قیام کرلیں ، تھکن مٹائیں مری دعا میں اثر عطا کر مرے خدایا رفاقتوں میں سکون بھر دےتمام پنچھی مرے نگر میں خوشی منائیں قیام کرلیں ، تھکن مٹائیں تلاش رزقِ حلال کرتے

مسافروں سے کہیں کہ رک کر یہیں پہ آئیں قیام کرلیں ، تھکن مٹائیں Read More »

کتنا حسین موڑ کہانی میں آگیا

Kitna Haseen Moor Kahani Main aagaya غزل کتنا حسین موڑ کہانی میں آگیابھیگا بدن پلٹ کے جو پانی میں آگیا اپنا بدن سمیٹ کے گلدان میں رکھاوہ بھی سنور کے رات کی رانی میں آگیا لانا تھا مجھ کو شبنمی پھولوں کا اقتباسہر زخم دل کے ساتھ روانی میں آگیا قطرہ ملا تو میں نے

کتنا حسین موڑ کہانی میں آگیا Read More »