آج دنیا ہے دِوانی میری
Aaj Dunya hay dwani meri غزل آج دنیا ہے دِوانی میریبس ؔمحبت ہے نشانی میری اِک نیا رُوپ غزل کا ہے مِریدیکھ لے شعلہ بیانی میری لاکھ چاہوں کہ وہ سن لے لیکن“کب وہ سنتا ہے کہانی میری” ایک دریا کی طرح بہتی ہوںبہتی لہروں میں روانی میری اِس کو لافانی بنا دوں گی میںزیست […]
آج دنیا ہے دِوانی میری Read More »