MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تمام پردے ہٹائے تو دلربا نکلا

Tamam Parday Hatay to dil ruba nikla غزل تمام پردے ہٹائے تو دلربا نکلاوہ ایک شخص جو غیروں سے ماورا نکلا تیرے نصیب میں لگی تھی چاندنی راتیںمیرے نصیب کی پرچی میں کربلا نکلا۔ میں اپنے آپ سے منہ پھیرلوں بھلا کیسےکہ گھر کے آئینے کا تم سے رابطہ نکلا۔ حبیب تو نہیں ہاں میرا […]

تمام پردے ہٹائے تو دلربا نکلا Read More »

بے وفا آپ گر وفا کرتے

Baywafa Aap jo wafa karty غزل بے وفا آپ گر وفا کرتےہم کسی سے کیوں التجا کرتے اس جدائی سے لاکھ بہتر تھاجسم سے روح کو جدا کرتے۔ ہم سراپا ہیں آئینہ جاناںآئینے سے نہیں چھپا کرتے۔ آپ تھے آپ کا تصور تھا،پھر کسی کا گمان کیا کرتے۔ اک خدا اور ہوتا ممکن توہم صنم

بے وفا آپ گر وفا کرتے Read More »

( شامت_ اعمال )

           ( شامت_ اعمال )             کورونا کے حوالے سے           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہا کرتے تھے اہل علم و دانشسر نگوں رکھو،تو جیسا آیا ہے دنیا میں خود کوجوں کا توں رکھو،اکڑ کر چل نہ پائوگےتجھے تو پر نہیں ہیں، توہوا میں اڑ نہ پائوگے۔لڑکپن سے جوانی یاجوانی سے بڑہاپا،پھسل گئے رات دنجیون کا رستہ کس

( شامت_ اعمال ) Read More »

ترے سوا مرے دل کی صدا سنے گا کون

Try siwa mry Dil ki sada sunnay ga koon غزل ترے سوا مرے دل کی صدا سنے گا کونقدم قدم پہ میرا سائباں بنے گا کون دل و دماغ پہ چھائی ہے تیرگی میرےھوا کے دوش وگرنہ دیا رکھے گا کون یہاں تو سارے کے سارے ہیں بت شکن جاناںمرے سوا ترے قدموں میں سر

ترے سوا مرے دل کی صدا سنے گا کون Read More »

آنکھوں نے کوئی بھی تیرے جیسا نہیں دیکھا

Aankhoo nay koi bhi tery jaisa Nahi dekha غزل آنکھوں نے کوئی بھی تیرے جیسا نہیں دیکھاایسا نہیں دیکھا کہیں ویسا نہیں دیکھا دیکھے ہیں شفق رنگ افق رنگ کئی، پر!!یوں چودہویں کے چاند سا چہرا نہیں دیکھا خوشبوئیں دوڑ آتی ہیں پھولوں کو چھوڑ کر،ميں نے تمہیں کبھی کہیں تنھا نہیں دیکھا۔ صحرا ہو

آنکھوں نے کوئی بھی تیرے جیسا نہیں دیکھا Read More »

زمیں پر آسمانوں سے زمانوں کے انعام آئے۔

Zameen per Aasmanoo say zamanoo kay Inaam Aayee نعتِ نبی صلی اللہ علیہ والیہ وسلم زمیں پر آسمانوں سے زمانوں کے انعام آئے۔محمد مصطفیٰ خیر الورٰی خیرالانام آئے۔ وہ جنکے واسطے مقبول آدم کی ہوئی توبہشفیع المذنبیں خیرالبشر خیرالدوام آئے۔ زمیں سے آسماں تک ظلم کا عالم جواں تھا تب،جمیع عالم کو سمجھانے حلال آئے

زمیں پر آسمانوں سے زمانوں کے انعام آئے۔ Read More »

محبتوں کے سفر رائیگاں نہیں ہوتے

Mahbatoo kay safar Raieegan Nahi hoty غزل محبتوں کے سفر رائیگاں نہیں ہوتے جو ساتھ چلتے ہوئے بدگماں نہیں ہوتے اسی جہان میں جیتے ہیں زندگی اپنی وہ جن کے سر پہ کبھی آسماں نہیں ہوتے سفر سے پہلے ذرا سوچ لے پری پیکر کہ راہ عشق میں منزل نشاں نہیں ہوتے مرا وجود بکھرتا

محبتوں کے سفر رائیگاں نہیں ہوتے Read More »

ہم کو آشفتگی نے مارا ہے

Ham ko Aashiftagi Nay mara hay غزل ہم کو آشفتگی نے مارا ہے ہر قدم سر کشی نے مارا ہے چھوڑا دامن اجل نواز نے تو راہ میں زندگی نے مارا ہے اتنی نفرت رہی تعفن سے روح کی شستگی نے مارا ہے دوستی بادلوں سے ہے میری پھر بھی تشنہ لبی نے مارا ہے

ہم کو آشفتگی نے مارا ہے Read More »

کیوں میرے لیے آج ہے تلوار سے بڑھ کر

Kyu meray lyee aaj hay Talwaar say Barh kar غزل کیوں میرے لیے آج ہے تلوار سے بڑھ کر جو دل کے چمن میں رہا گلزار سے بڑھ کر پھنس جاؤ بھنور میں جو کبھی میری طرح تم تنکے کو وہاں پاؤ گے پتوار سے بڑھ کر ہوتے ہیں کف دست میں سانپوں کی طرح

کیوں میرے لیے آج ہے تلوار سے بڑھ کر Read More »

تخم دوراں میں محبت کا سماں کیسا ہے

tukham dooran main mahbat ka samaan kaisa hay غزل تخم دوراں میں محبت کا سماں کیسا ہے موت کی راہ پہ جیون کا نشاں کیسا ہے کیسے برفاب خرد تیرے پگھلنے کے لیے سرد ذہنوں میں کہیں شعلہ بیاں کیسا ہے ہر بلندی ہوئی مشروط زبوں حالی سے ایسی تخریب میں تعمیر جہاں کیسا ہے

تخم دوراں میں محبت کا سماں کیسا ہے Read More »