MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دور سے آتی ہیں آوازیں شکستہ

Door say aati Hain Awaazeen Shikasta غزل دور سے آتی ہیں آوازیں شکستہہو گئی ہیں دل کی دیواریں شکستہ مستیِ شوقِ نظر میں اک جنوں تھاریگِ صحرا سے ہوئیں آنکھیں شکستہ بوکھلاہٹ اب زباں میں ہو گئی ہےکیسی باتیں ساری ہیں باتیں شکستہ عکس سارے دھندلے ہیں اب نظر میںخوبصورت سب ہیں تصویریں شکستہ ہو […]

دور سے آتی ہیں آوازیں شکستہ Read More »

ایک دریا وجد میں آیا ہوا ہے

Aik Darya wajd Main Ayya Howa Hay غزل ایک دریا وجد میں آیا ہوا ہےدل پرندہ وجد میں آیا ہوا ہے کر لیا کس نے بسیرا اب یہاں پرآشیانہ وجد میں آیا ہوا ہے کس جمال حشر ساماں کا ہے جلوہہر نظارہ وجد میں آیا ہوا ہے کون گزرا ہے یہاں سے پا بجولاںسارا رستہ

ایک دریا وجد میں آیا ہوا ہے Read More »

انہی کے نقشِ پا کے یہ نشاں ہیں

unhee Kay Naqsh e Paa Kay yeh Nishaan Hain غزل انہی کے نقشِ پا کے یہ نشاں ہیںستارے آسماں در آسماں ہیں فقط اک چاند تارا دیکھتے ہوبہت سے چاند تارے آسماں ہیں ہماری زندگی اپنی نہیں ہےکئی رشتے ہمارے درمیاں ہیں وہ ڈسنے کے مواقع ڈھونڈتے ہیںخداوندا یہ کیسے مہرباں ہیں یہ زخموں کے

انہی کے نقشِ پا کے یہ نشاں ہیں Read More »

آنکھوں نے کوئی بھی تیرے جیسا نہیں دیکھا

Aankhoo nay koi bhi try jaisa nahi dekha غزل آنکھوں نے کوئی بھی تیرے جیسا نہیں دیکھاایسا نہیں دیکھا کہیں ویسا نہیں دیکھا دیکھے ہیں شفق رنگ افق رنگ کئی، پر!!یوں چودہویں کے چاند سا چہرا نہیں دیکھا خوشبوئیں دوڑ آتی ہیں پھولوں کو چھوڑ کر،ميں نے تمہیں کبھی کہیں تنھا نہیں دیکھا۔ صحرا ہو

آنکھوں نے کوئی بھی تیرے جیسا نہیں دیکھا Read More »

گر ذرے کو کوئی ثبات نہ ہو

Gar zarry ko koi sabat na ho غزل گر ذرے کو کوئی ثبات نہ ہوتو خدائی میں کوئی بات نہ ہو کس کو احساس وصل کا ہوتاموت ھر دائمی حیات نہ ہو۔ ریگزاروں میں پیاسا مر جاؤںسامنے میرے پر فرات نہ ہو۔ کون ایمان غیب پر لاتادن نہ رات اگر رات نہ ہو۔ اک تصور

گر ذرے کو کوئی ثبات نہ ہو Read More »

جب تک تجھے اے جانِ وفا جانتا نہ تھا

Jab Tak tujhay ayee jaan e wafa janta no tha غزل جب تک تجھے اے جان_ وفا جانتا نہ تھاتب تک جناب اپنا پتا جانتا نہ تھا اتنا تو جانتا تھا وفا امتحان ہے،لیکن وفا کی ایسی سزا جانتا نہ تھا. میں جب بھی آپ ے آپ میں لوٹا تو دوستوخود اپنے خونِ دل کا

جب تک تجھے اے جانِ وفا جانتا نہ تھا Read More »

میری آنکھوں کے ساحل پر جب آنسو تیر آتے ہیں

Meri Aankhoon kay sahil per jab aansoo teer aaty hain غزل میری آنکھوں کے ساحل پر جب آنسو تیر آتے ہیںسفینے دل کی دنیا کے سنبھلنا بھول جاتے ہیں کہیں سے کشتئء مہرو وفا ہم تک بھی پہنچے گیلب_ ساحل امیدوں کے دئے شب بھر جلاتے ہیں میرا شعرو سخن فہم وفکر تم سے ہے

میری آنکھوں کے ساحل پر جب آنسو تیر آتے ہیں Read More »

کسی کا ناز پرور بن گیا ہوں

Kissi ka naaz Perwer Ban Gaya Hoon غزل کسی کا ناز پرور بن گیا ہوںکیا منظر تھا کیا منظر بن گیا ہوں مصور کا تصور کچھ بھی ہو پرمیں صحرا سے سمندر بن گیا ہوں میری تحریر بھی بکنے لگی ہےمیں حرفوں کا سوداگر بن گیا ہوں تجھے پایا تو مجھکو یوں لگا کہمقدر کا

کسی کا ناز پرور بن گیا ہوں Read More »

میرے اندر میرے باہر تھا

mery andar meray bahar tha غزل میرے اندر میرے باہر تھاایسا لگتا تھا کوئی شاعر تھا زندگی اس کا روپ لے آئیوہ میری ساعتوں پہ قادر تھا اس سے وابستہ تھیں میری خوشیاںمیرا سب کچھ اسی کی خاطر تھا غم جسے لوگ میرا سمجھے تھے!وہ نہیں تھا کبھی جو ظاہر تھا۔ بجلیاں ٹوٹ کر گریں

میرے اندر میرے باہر تھا Read More »

اک شہرِ بتاں وقت کی دیوار میں گم ہے

Ik Shahr e butaan waqt ki deewar say gum Hay غزل اک شہرِ بتاں وقت کی دیوار میں گم ہےدیوار  کسی  ان  کہے  کردار  میں  گم  ہے خاموش! جہانوں سے جدا اپنے جھاں میںاک فرش نشیں عرش کے اسرار میں گم ہے. معلوم نہیں کون فریفتہ ہے یہاں پر،لگتا ہے کہ سرکار بھی سرکار میں

اک شہرِ بتاں وقت کی دیوار میں گم ہے Read More »