MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پلٹے کہاں جو وادئ ابہام تک گئے

Palty Kahan jo wadee a ibhaam Tak Gayee غزل پلٹے کہاں جو وادئ ابہام تک گئے کاذب طریق مجمعء کہرام تک گئے ہر اک تھکن کو اوڑھ کے خاکی وجود پر ہم زندگی کو کھوجنے انجام تک گئے ہم پر نزولِ حرف کے بادل برس پڑے لفظوں کو جب بھی ڈھونڈنے الہام تک گئے دعویٰ […]

پلٹے کہاں جو وادئ ابہام تک گئے Read More »

آیا نہ کبھی جینا ہمیں نظریں جھکا کر

Aaya na kabhi jeena Hamain Nazrain jhuka kar غزل آیا نہ کبھی جینا ہمیں نظریں جھکا کر رکھا ہے سر دار بھی سر ہم نے اٹھا کر آساں ہے بہت عہد وفا توڑ کے جانا ہم نے تو نبھایا ہے اسے خود کو مٹا کر لڑنا ہے شب ہجر کے لشکر سے ہمیشہ آغاز کریں

آیا نہ کبھی جینا ہمیں نظریں جھکا کر Read More »

ایسے کہ پھول بند قبا سے نکل پڑے

Aysay kay phool Band e qaba say nikal Paray غزل ایسے کہ پھول بند قبا سے نکل پڑے جیسے حیات دست فنا سے نکل پڑے تازہ ہوا کا جھونکا بھی آیا کہیں سے یوں فرحت گھٹن میں جیسے ہوا سے نکل پڑے تجھ کو تخیلات کے آنگن میں دیکھ کر چاہت کے راگ صوت صبا

ایسے کہ پھول بند قبا سے نکل پڑے Read More »

فصیل درد پہ روشن مثال زندہ ہے

Faseel e Shahr pa roshan misal zinda hay غزل فصیل درد پہ روشن مثال زندہ ہے ترے بغیر ترا خوش خصال زندہ ہے یہ جسد خاک تو مٹی تھا سو ہوا مٹی عدو یہ دیکھ جبیں پر جلال زندہ ہے کچھ ایسے فیصلے لکھے گئے مقدر میں کہ جن کا تہمت جاں پر وبال زندہ

فصیل درد پہ روشن مثال زندہ ہے Read More »

محبت کی صداؤں پر سہارے لوٹ آتے ہیں

Mohabat ki Sadaoo per saharay loot aatay Hain غزل محبت کی صداؤں پر سہارے لوٹ آتے ہیں وگرنہ بے مرادوں پر خسارے لوٹ آتے ہیں اگر طغیانیوں سےبچ بھی جائیں ہم زمیں زادے کناروں پر طلاطم کے اشارے لوٹ آتے ہیں شبِ دیجور میں تنہا کہاں تھے اے شبِ ہجراں ہمارے ساتھ رونے کو ستارے

محبت کی صداؤں پر سہارے لوٹ آتے ہیں Read More »

جب آبلوں سے کرب کے دھارے نکل پڑے

Jab aabloo say karb kay dhary nikal pary غزل جب آبلوں سے کرب کے دھارے نکل پڑے اذن سفر کے پھر سے اشارے نکل پڑے جب گرم پانیوں سے مری گفتگو ہوئی تو برف کے بدن سے شرارے نکل پڑے اس وقت اپنے آپ کی مجھ کو ملی خبر جب شہر گم شدہ سے شمارے

جب آبلوں سے کرب کے دھارے نکل پڑے Read More »

اُسکی زلف و لب و رخسار کی باتیں کرتا

Uski Zulf o lab o rukhsaar ki Batain Karta غزل اُسکی زلف و لب و رخسار کی باتیں کرتاکوئی تو مجھ سے مرے یار کی باتیں کرتا تیر و خنجر کی نہ تلوار کی باتیں کرتا اُسکی نظروں کے حسیں وار کی باتیں کرتا سچ یہی ہے کہ تجھے پیار کبھی تھا ہی نہیںپیار ہوتا

اُسکی زلف و لب و رخسار کی باتیں کرتا Read More »

تو اپنے حُسن کو اے مہہ لِقا سنبھال کے رکھ

Tu apnay Husn ko ayee mah laqa sanbhal ky rakh غزل تو اپنے حُسن کو اے مہہ لِقا سنبھال کے رکھکسی کی جان نہ لے لے ذرا سنبھال کے رکھ جو تیری آنکھوں میں آنسو دکھائی دیتے ہیںبہت ہی کام کے ہیں با خُدا سنبھال کے رکھ یہ تیرا سیمیں بدن ہی خود اک قیامت

تو اپنے حُسن کو اے مہہ لِقا سنبھال کے رکھ Read More »

کبھی تکرار ہوتی ہے کبھی برہم بھی ہوتے ہیں

Kabhi Takraar Hoti Hay Kabhi Barham bhi hoty Hain غزل کبھی تکرار ہوتی ہے کبھی برہم بھی ہوتے ہیںمحبّت میں خوشی کے ساتھ ہی کچھ غم بھی ہوتے ہیں ہمارے دل میں جس دن سے بنائی ہے جگہ تم نے۰پریشاں دیکھ کر تم کو پریشاں ہم بھی ہوتے ہیں فقط چہرہ نہیں ہوتا غزل کہتا

کبھی تکرار ہوتی ہے کبھی برہم بھی ہوتے ہیں Read More »

ہو کے ماحَول حیرت زدہ رہ گیا

Hookay Mahool Hairat Zada Reh Gaya غزل ہو کے ماحَول حیرت زدہ رہ گیاجس نے دیکھا تجھے دیکھتا رہ گیا مان جانے کے بعد اب ہے کیوں برہمیکیا کوئی اور شکوہ گِلہ رہ گیا یہ سمجھ لو کہ جیسے مِلے ہی نہ تھےاب تو بس اک یہی راستہ رہ گیا اُٹھ گیا آج دَولت کا

ہو کے ماحَول حیرت زدہ رہ گیا Read More »