پلٹے کہاں جو وادئ ابہام تک گئے
Palty Kahan jo wadee a ibhaam Tak Gayee غزل پلٹے کہاں جو وادئ ابہام تک گئے کاذب طریق مجمعء کہرام تک گئے ہر اک تھکن کو اوڑھ کے خاکی وجود پر ہم زندگی کو کھوجنے انجام تک گئے ہم پر نزولِ حرف کے بادل برس پڑے لفظوں کو جب بھی ڈھونڈنے الہام تک گئے دعویٰ […]
پلٹے کہاں جو وادئ ابہام تک گئے Read More »