MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بتاؤ مرے پاس آنے سے پہلے

Bataoo mry pass aanay say pehlay غزل بتاؤ مرے پاس آنے سے پہلےمِلے کیوں فلانے فلانے سے پہلے گریبان اپنا بھی تم دیکھ لیناکسی پر بھی تہمت لگانے سے پہلے نظر اپنی بدنامیوں پر بھی رکھنالبوں پر مرا نام لانے سے پہلے نہ سوچا ہو تم نے تو پھر سوچ لیناکہ یاد آئیں گے ہم […]

بتاؤ مرے پاس آنے سے پہلے Read More »

تجھ کو نزدیک پا رہا ہوں میں

Tujh ko Nazdeek Paa Raha hoon Main غزل تجھکو نزدیک پا رہا ہوں میںکیا تجھے یاد آ رہا ہوں میں آئینے کو ہٹا رہا ہوں میںخود کو خود سے چُھپا رہا ہوں میں یاد بن کر ضرور آ جاناغم کی محفل سجا رہا ہوں میں ہے تعاقُب میں تیرے بدنامیشہر سے تیرے جا رہا ہوں

تجھ کو نزدیک پا رہا ہوں میں Read More »

ناکامیوں سے اپنی مانا کہ غمزدہ ہوں

Nakamioo say apni Mana ka Ghamzada Hoon غزل ناکامیوں سے اپنی مانا کہ غمزدہ ہوںتدبیر کے قلم سے تقدیر لِکھ رہا ہوں اے بیوفا مَیں تجھ سے اب بھی کہاں جُدا ہوںدُشنام بنکے تیرے ہونٹوں پہ آ گیا ہوں کیسے بتاؤں تم کو جس دن سے تم مِلے ہواس دن سے آج تک مَیں خود

ناکامیوں سے اپنی مانا کہ غمزدہ ہوں Read More »

اب اور دیگی ہمیں کیا خوشی زمانے کی

Ab aur deegi Hamain kia Khushi Zamany ki غزل اب اور دیگی ہمیں کیا خوشی زمانے کیہمیں تو غم میں بھی عادت ہے مسکرانے کی محبّتوں کے کئی راز منکشف ہوں گےکُھلےگی جب بھی حقیقت مرے فسانے کی کئی تو آج اِسی سوچ میں پریشاں ہیںفلاں سے دوستی کیوں ہو گئی فلانے کی تمہاری دید

اب اور دیگی ہمیں کیا خوشی زمانے کی Read More »

تم بھلائی جو کروگے تو بھلائی دیگا

Tum Bhalaee jo Karoo Gay to Bhalaeee Day ga غزل تم بھلائی جو کروگے تو بھلائی دیگاجب خطا ہوگی کوئی اُس کی سزا بھی دیگا میرے ہونٹوں پہ لرزتا ہے جو خاموش بیاںتم اگر دل سے سُنوگے تو سُنائی دیگا میں تجھے بھول بھی جاؤں تو نتیجہ کیا ہےوقت کب مجھکو ترے غم سے رہائی

تم بھلائی جو کروگے تو بھلائی دیگا Read More »

تیرے بخشے ہُوئے الزام سے آج

Teray Bakhshy Hoyee Ilzaam say aaj غزل تیرے بخشے ہُوئے الزام سے آججُڑ گئے ہم بھی ترے نام سے آج کیا مجھے یاد کیا ہے اُس نےدل کی حالت ہے عجب شام سے آج ساقی اب لُطف و کرم رہنے دےہمکو نفرت ہے ترے جام سے آج ہم بھی مصروف ہیں اب دنیا میںکام رکھ

تیرے بخشے ہُوئے الزام سے آج Read More »

ہم اس صنم سے کوئی بھی سودا کئےبغیر

Ham us sanam say koi bhi sooda kyee Baghair غزل ہم اس صنم سے کوئی بھی سودا کئےبغیر   لوٹ آئے درسےآج تو سجدہ کئےبغیر   انجام سےتو دل نہ کبھی تھا یہ بےخبر   لیکن  رہا  نہ عرض  تمنّا کئے بغیر۔۔۔۔    رہتے ہیں تل کا تاڑبنا نےکےشغل میں  بخشیں گےکیاوہ رازکاچرچاکئےبغیر   کیچڑاچھالتے

ہم اس صنم سے کوئی بھی سودا کئےبغیر Read More »

ہر ایک بات میں اک طرز کج ادائی کی

Her aik Baat main ik tirz kaj addaee ki غزل ہر ایک بات میں اک طرز کج ادائی کی نہیں ہے تم سے توقع کوئ بھلائی کی نہیں  ہے دل کو اذیت  فقط  جدائی کی مگرہےاس سے سوا اسکی بیوفائی کی ہوں عبد میں بھی ترا تو جو ہےمرا معبود مجھےخدا کی ضرورت تجھےخدائی کی

ہر ایک بات میں اک طرز کج ادائی کی Read More »

گزر رہا ہے یہ موسم بھی اور مہینہ بھی

Guzar Raha Hay yeh Moosim Bhi aur Maheena Bhi غزل گزر رہا ہے یہ موسم بھی اور مہینہ بھی مگرہیں خشک ابھی تک یہ جام مینا بھی انھوں نےسیکھ لیایوں ہی اب توجینابھی ‘اٹھا چکے ہیں کبھی سختئ شبینہ بھی، اٹھالئےہیں جنھوں نےیہ سنگ ہاتوں میں لئے ہیں  ساتھ ہی  وہ اپنےآب گینہ بھی وہ

گزر رہا ہے یہ موسم بھی اور مہینہ بھی Read More »

وہ   ایّام  طفلی   نوابی   نوابی

Wo ayaam e Tifli Nawabi Nawabi غزل وہ   ایّام  طفلی   نوابی   نوابی یہ  اب عہد  پیری خرابی خرابی کہاں ہیں وہ موسم  گلابی  گلابی وہ فرصت کی شامیں شہابی شہابی سوالی اگر حسن کی ہوں ادائیں نہ ہو عشق کیوں کرجوابی جوابی ضیا پاشئ حسن سے اس کا چہرہ رہا  آپ  ہی

وہ   ایّام  طفلی   نوابی   نوابی Read More »