Teray Bakhshy Hoyee Ilzaam say aaj
غزل
تیرے بخشے ہُوئے الزام سے آج
جُڑ گئے ہم بھی ترے نام سے آج
کیا مجھے یاد کیا ہے اُس نے
دل کی حالت ہے عجب شام سے آج
ساقی اب لُطف و کرم رہنے دے
ہمکو نفرت ہے ترے جام سے آج
ہم بھی مصروف ہیں اب دنیا میں
کام رکھ تو بھی ذرا کام سے آج
کوئی خوابوں میں چلا آیا تھا
رات گُزری بڑے آرام سے آج
اے عدیل اب نہ وہ اُلجھے ہم سے
کہدو یہ گردِشِ ایّام سے آج
اسرار عدیل نور پوری
Israr Adeel Noor Poori