MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تنگ حالات میں سردار کہاں تھا پہلے

Tang Haalaat main Sardaar Kahan tha pehly غزل تنگ حالات میں سردار کہاں تھا پہلےیہ مضافاتی گنہگار کہاں تھا پہلے اک حسیں شخص کا رستہ یہ ہوا کرتا تھارونقِ شہر یہ بازار کہاں تھا پہلے واعظِ شہر نے حوروں کا تصور ہے دیامیں بھی جنت کا طلب گار کہاں تھا پہلے پھر بھی کچھ لوگ […]

تنگ حالات میں سردار کہاں تھا پہلے Read More »

کبھی لہجہ کبھی دوری کبھی کردار کا دکھ

Kabhi lehja kabhi doori kabhi kirdaar ka dukh غزل کبھی لہجہ کبھی دوری کبھی کردار کا دکھکشتیاں کب ہیں سمجھتیں کسی پتوار کا دکھ اک پڑوسی نے بنایا ہے مکاں قصر نمااک پڑوسی کو ہے گرتی ہوئی دیوار کا دکھ میں خوشی سے تو نہیں چہرے بدلتا ہو یہاںاسی کردار میں پوشیدہ ہے فنکار کا

کبھی لہجہ کبھی دوری کبھی کردار کا دکھ Read More »

چمکا نہیں یہ داغِ جبیں دیکھتا رہا

Chamka Nahi Yeh Dagh e Jabeen Dekhta Raha غزل چمکا نہیں یہ داغِ جبیں دیکھتا رہامیں آسمان ہو کے زمیں دیکھتا رہا کردار دیکھنا بھی ضروری تو تھا مگراس بے وفا کو صرف حسیں دیکھتا رہا شاید اسی خمار کو کہتے ہیں زندگیجو دیکھنے کا تھا ہی نہیں دیکھتا رہا hکیسی تلاش کیسا مرا انتظار

چمکا نہیں یہ داغِ جبیں دیکھتا رہا Read More »

کہُر میں کوئی ٹھکانہ تلاش کرتے ہوئے

Kuhar main koi Thikana talash karty Hoyee غزل کہُر میں کوئی ٹھکانہ تلاش کرتے ہوئےردائے خوف پہ ڈرتا تھا پاؤں دھرتے ہوئے یہاں تو حسن ہے ، فطرت ، طویل خاموشیبھلے میں دشت میں آیا ہوں تھوڑا ڈرتے ہوئے کسی کی آنکھ سے منظر کشید کرنے تھےکہ یاد آیا ادھر سے ابھی گزرتے ہوئے خدا

کہُر میں کوئی ٹھکانہ تلاش کرتے ہوئے Read More »

وہ پارسائی کے چرچوں کے ابر چھٹنے لگے

wo Parsaai kay charchoo kay abr chatnay lagay غزل وہ پارسائی کے چرچوں کے ابر چھٹنے لگےہوا چلی تو بدن سے لباس ہٹنے لگے کمال یہ کہ کسی سمت بھی ملال نہ تھاوہ جوشِ ربط گیا رابطے بھی گھٹنے لگے یہ دھوپ کون سی آنکھوں سے آج تکنے لگیکہ ستر پوش گلوں کے لباس پھٹنے

وہ پارسائی کے چرچوں کے ابر چھٹنے لگے Read More »

مجھے بھی فکر ہے لیکن میں تنگ نہیں آتا

Mujhay bhi fikr hay laikn main Tang Nahi aata غزل مجھے بھی فکر ہے لیکن میں تنگ نہیں آتامرے پرندوں کو اڑنے کا ڈھنگ نہیں آتا اے بد مزاج مسافر سمجھ گیا ہوں میںترے سفر میں کوئی کیچ ، جھنگ نہیں آتا ہوا کی مرضی ہے جس پیڑ کو ہرا رکھےمجھے یہ شکوہ شکایت یہ

مجھے بھی فکر ہے لیکن میں تنگ نہیں آتا Read More »

زندگی راحت ہی راحت ہے چلو یونہی سہی

Zindagi Rahat Hi Rahat Hay chaloo Youn hi sahi غزل زندگی راحت ہی راحت ہے چلو یونہی سہی یہ تصور خوبصورت ہے چلو یونہی سہی اب کوئی ارماں نہ حسرت ہے چلو یونہی سہی آج کل فرصت ہی فُرصت ہے چلو یُونہی سہی میری باتوں کی صداقت ، میرے لہجے کا ثبات تُم کو لگتا

زندگی راحت ہی راحت ہے چلو یونہی سہی Read More »

جب دل میں حرارت ہو اور ذہن ہو سودائی

Jab Dil Main Hararat Ho aur Zehn Ho soodaee غزل جب دل میں حرارت ہو اور ذہن ہو سودائی پا لیتے ہیں منزل تب منزل کے تمنائی حالات کے ہاتھوں ہم ڈوبے بھی ہیں ابھرے بھی مرنے کی دعا مانگی ، جینے کی قسم کھائی اس سمت بھی آئینہ ،اس سمت بھی آئینہ اب کون

جب دل میں حرارت ہو اور ذہن ہو سودائی Read More »

پہلے سے آج کتنی جدا ہو گئی ہوں میں

Pwhlay say aaj Kitni Juda Ho gaee Hoon Main غزل پہلے سے آج کتنی جدا ہو گئی ہوں میں حیرت سے تک رہی ہوں کہ کیا ہو گئی ہوں میں اپنی ہنسی کی تہ میں جب اتری تو یہ کھُلا اندر سے جانے کب کی فنا ہو گئی ہوں میں پہنچے کسی کو چوٹ تو

پہلے سے آج کتنی جدا ہو گئی ہوں میں Read More »

دھیرے دھیرے گھول رہی ہے دل کی فضا میں صندل رات

Dheery Dheery Ghool Rahi Hay Dil ki Fizza main sandal Raat غزل دھیرے دھیرے گھول رہی ہے دل کی فضا میں صندل رات فرشِ زمیں پر آئینے جیسی پورے چاند کی چنچل رات دھوپ کی نرمی گرمی سہتے دن بیتا ہے، شام ڈھلی خواب سہانے لیکر آئی نرمل، کومل، شیتل رات قطرہ قطرہ خون نچوڑا

دھیرے دھیرے گھول رہی ہے دل کی فضا میں صندل رات Read More »