MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جو شور بن کر تھیں اٹھیں ،وہ سب کے کانوں میں پڑیں

Jo Shoor Ban Kar Thee Uthee wo sab kay kanoo Main Paree غزل جو شور بن کر تھیں اٹھیں ،وہ سب کے کانوں میں پڑیں جو سینے میں گھٹتی رہیں ، چیخیں بھلا کس نے سنیں جذبات میں یوں آئینہ ،ٹوٹے گا کس کو تھا پتا احساس یہ اس پل ہوا ،جب یک بیک کرچیں […]

جو شور بن کر تھیں اٹھیں ،وہ سب کے کانوں میں پڑیں Read More »

نیازِ عشق کا ناموس لٹوانا بھی آتا ہے

Niaz e Ishq ka Namoos Lutwana bhi aata Hay غزل نیازِ عشق کا ناموس لٹوانا بھی آتا ہے جو ابن الوقت ہیں ان کو بدل جانا بھی آتا ہے جو کی ہے دوستی سورج سے تو محتاط بھی رہیے ملائم دھوپ کو، گلزار جھلسانا بھی آتا ہے ذرا سی ٹھیس پر مانا بکھر جاتے ہیں

نیازِ عشق کا ناموس لٹوانا بھی آتا ہے Read More »

شہد میں ڈوبے ہوئے کڑوے کریلے مسترد

Shahd Main Doobay Hoyee Karway Karellay Mustarid غزل شہد میں ڈوبے ہوئے کڑوے کریلے مسترد جو بھی کہیے صاف کہیے، پیچ، لچھے ، مسترد چپے چپے پر اگائیں گے محبت کے گلاب نفرتوں کے روڑے، پتھر، کیل ،کانٹے مسترد دین بازی اور شئے ہے، دین داری اور چیز دین کے جُبّے میں لپٹے ڈھونگ سارے

شہد میں ڈوبے ہوئے کڑوے کریلے مسترد Read More »

فرق تجھ سے ہے اک ذرا مجھ میں

Farq Tujh say Hay ik Zara Mujh Main غزل فرق تجھ سے ہے اک ذرا مجھ میں سنگ تجھ میں ہے، آئنہ مجھ میں بے بسی کی فقط کتاب نہیں ‘عزمِ محکم’ بھی ہے لکھا مجھ میں فہم و دانش کا نور ہوں یکسر فکر کا جلتا ہے دیا مجھ میں مہر و ایثار کا

فرق تجھ سے ہے اک ذرا مجھ میں Read More »

کچھ ستارے ضوفشاں ہیں، کچھ لکیریں منحنی

Kuxh Sitary Zoofishan Hain Kuch lakeerain Munhani غزل کچھ ستارے ضوفشاں ہیں، کچھ لکیریں منحنی ہر کوئی ہوتا نہیں دنیا میں قسمت کا دھنی آنکھ کی چھوڑیں، نظر کا زاویہ پہچانیئے کچھ نگاہیں پارسا ہیں، کچھ ہیں نیزے کی انی اک ذرا سی بات ہی لائی تھی دونوں کو قریب اک ذرا سی بات پر

کچھ ستارے ضوفشاں ہیں، کچھ لکیریں منحنی Read More »

سپنے سہانے آن بسیں گے نَینَن نَینَن ان شا اللہ

Sapnay Suhanay aan Basain Gay Nainan Nainan In sha Allah غزل سپنے سہانے آن بسیں گے نَینَن نَینَن ان شا اللہ منزل کی سب راہیں ہوں گی روشن روشن ان شاء اللہ بستی بستی، قریہ قریہ، گلشن گلشن ان شاء اللہ پیار کی خوشبو سے مہکے گا آنگن آنگن ان شاء اللہ من کے پیڑ

سپنے سہانے آن بسیں گے نَینَن نَینَن ان شا اللہ Read More »

جو تھے اڑان پہ طائر وہی شکار ہوئے

Jo They Urraan pa Taair wohi Shikaar Hoyee غزل جو تھے اڑان پہ طائر وہی شکار ہوئےیہ سانحے بھی عجب تھے جو بار بار ہوئے ہماری آنکھوں کے حلقے ریاضتوں کے گواہہمی خرابیٔ قسمت کے ذمے دار ہوئے صبا نے جھاڑا بھی دامن تو کیسے پھولوں پرجو ضبط حال میں بکھرے نہ مشک بار ہوئے

جو تھے اڑان پہ طائر وہی شکار ہوئے Read More »

زرد پتوں کی یہ رت کیا کیا نہ سمجھائے مجھے

Zard Pattoo ki Yeh Rut Kia Kia na Samjhayee Mujhy غزل زرد پتوں کی یہ رت کیا کیا نہ سمجھائے مجھےہر تھکا ہارا شجر آئینہ دکھلائے مجھے دیر تک مہکا کیا ویرانۂ کنج خیالاس سے مل کے موتیے کے پھول یاد آئے مجھے اپنی گہرائی کا مجھ کو خود بھی اندازہ نہیںخود میں جب ڈوبوں

زرد پتوں کی یہ رت کیا کیا نہ سمجھائے مجھے Read More »

جو ہم سے زندگی ہر دم خفا معلوم ہوتی ہے

Jo Hum say Zindagi Her Dam Khafa Maloom Hoti Hay غزل جو ہم سے زندگی ہر دم خفا معلوم ہوتی ہےہمیں تو صاف اپنی ہی خطا معلوم ہوتی ہے ذرا سی بد گمانی تھی اور ان کا اب یہ عالم ہےدعا دیتے ہیں ان کو بد دعا معلوم ہوتی ہے لگائیں گے گلے سے کب

جو ہم سے زندگی ہر دم خفا معلوم ہوتی ہے Read More »

رستہ کوئی معیار سے ہٹ کر نہیں دیکھا

Rasta koi mayyaar say Hat kar nahi dekha غزل رستہ کوئی معیار سے ہٹ کر نہیں دیکھاقامت سے کسی سائے کے گھٹ کر نہیں دیکھا دیوار انا سے تھیں پرے اس کی صدائیںپتھر ہوئے پر ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا کیا جانے کسی پیاسے کے کام آنے کی راحتکوزے میں سمندر نے سمٹ کر

رستہ کوئی معیار سے ہٹ کر نہیں دیکھا Read More »