دعا سلام نہیں نامہ و پیام نہیں
Dua Salam Nahi Naama o Payyam Nahi غزل دعا سلام نہیں نامہ و پیام نہیںکچھ اپنے چاہنے والوں سے ان کو کام نہیں وہ کیا تھی شام جدائی نہ پوچھ لگتا تھاکہ آخری تو کہیں زندگی کی شام نہیں جو غیر جیسا ہو وہ کس لیے ہمارا ہوجو اتنا اپنا لگے کیوں ہمارے نام نہیں […]
دعا سلام نہیں نامہ و پیام نہیں Read More »