MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دشوار یوں بھی نقل مکانی پڑی مجھے

Dushwaar Youn Bhi Naql e Makaani Pari Mujhy غزل دشوار یوں بھی نقل مکانی پڑی مجھےرستے ہی سے بساط اٹھانی پڑی مجھے کچھ دن تو اس کے دل پہ رہا حکمراں مگریہ سلطنت بھی چھوڑ کے جانی پڑی مجھے اس نے کہا کہ کیسے بکھرتا ہے آدمیمٹھی میں بھر کے خاک اڑانی پڑی مجھے اک […]

دشوار یوں بھی نقل مکانی پڑی مجھے Read More »

سکوت بڑھنے لگا ہے صدا ضروری ہے

Sakoot Barhnay Laga Hay Sada Zaroori Hay غزل سکوت بڑھنے لگا ہے صدا ضروری ہےکہ جیسے حبس میں تازہ ہوا ضروری ہے پھر اس کے بعد ہر اک فیصلہ سر آنکھوں پرمگر گواہ کا سچ بولنا ضروری ہے بہت قریب سے کچھ بھی نہ دیکھ پاؤ گےکہ دیکھنے کے لیے فاصلہ ضروری ہے تم اپنے

سکوت بڑھنے لگا ہے صدا ضروری ہے Read More »

سیلاب گزر رہا ہے

Seelab Guzr Raha Hay نظم یہ پانی ہے…..یا خون کی لکیریںسیلاب، میرے آنسوؤں میں ڈوباتو دریا مجھے کربلا دکھائی دینے لگااُلٹی چارپائی پر بہتے ہوئے کنبے کولہروں پر کھینچتا ہوا تنہا شخصپتھرائی ہوئی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتا رہااور ہیلی کاپٹر….سیلابی علاقوں کا جائزہ لینے کے لیے اُڑتے رہےپل ٹوٹےتو دل کی طنابوں سے

سیلاب گزر رہا ہے Read More »

کیسا احساس ہے، حیرانی بہت ہوتی ہے

Kaisa Ahsas Hay Hyraani bohat Hoti Hay غزل کیسا احساس ہے، حیرانی بہت ہوتی ہےدکھ نہیں ہوتا، پشیمانی بہت ہوتی ہے فیصلہ سخت سہی اُس سے بچھڑ جانے کابعدازاں ہجر میں آسانی بہت ہوتی ہے اکثر اوقات میں خالی ہی پڑا رہتا ہوںبعض اوقات فراوانی بہت ہوتی ہے میں ابھی دیکھ کے آیا ہوں ہرے

کیسا احساس ہے، حیرانی بہت ہوتی ہے Read More »

دراڑوں سے رِستی کہانی

DaraaRoon say risti Kahani نظم ہم کہیں جا چکے ہیںاور گزرا ہوا وقتگھروں کی سیڑھیوں میں ٹھہر گیا ہےپہلے زینے سے آخری زینے تکچاپ دیتی ہوئی کہانیکچھ ہی دن پہلے کی بات لگتی ہےیہیں….یہیں کہیں…..وقت کی گرد میں دفنائے ہوئے لوگمحبت کی باتیں کیا کرتے تھےاہتمامِ سخن یوں تھاکہ مصرعوں کے درمیان آنے والیخاموشی بھی

دراڑوں سے رِستی کہانی Read More »

یہ جو ویرانی میں خوشبوئے صبا شامل ہے

Yah jo weeraani main Khushboo e Saba Shamil Hay غزل یہ جو ویرانی میں خوشبوئے صبا شامل ہےاِس تباہی میں تو لگتا ہے خدا شامل ہے زخم کو پُھول بنایا تو نظر آیا مجھےخُون کے رنگ میں اِک رنگِ حنا شامل ہے کوئی دن آئے گا، دنیا کو سنائی دے گامیری اِس چُپ میں اگر

یہ جو ویرانی میں خوشبوئے صبا شامل ہے Read More »

بنامِ سوزِ نہاں، لا الہ الا اللہ

Banaam e sooz e Nihaan La ilah Ilal laah غزل بنامِ سوزِ نہاں، لا الہ الا اللہکچھ اشک اور دھواں لا الہ الا اللہ وہی ہے پیاس مرے ساحلوں سے لپٹی ہوئیوہی ہے آ بِ رواں لا الہ الا اللہ نشانیوں سے بھرے آسماں کی وسعت میںکہاں ہے میرا نشاں لا الہ الا اللہ وہ

بنامِ سوزِ نہاں، لا الہ الا اللہ Read More »

اگر بکھر گیا ہوں میں

Agar Bikhar Gaya hoon Main غزل اگر بکھر گیا ہوں میںتو اب کدھر گیا ہوں میں وہ ماننے پہ تھا مجھےمگر مُکر گیا ہوں میں گلی میں ایک دشت ہےگلی گزر گیا ہوں میں میں خواب تھا کمال کاذرا بکھر گیا ہوں میں فلک پہ اِک نشیب ہےوہاں اُتر گیا ہوں میں تمہی سے پیار

اگر بکھر گیا ہوں میں Read More »

اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں

Abh koi Raah bhi aasaan Nahi Dekhnay Main غزل اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میںدیکھتے رہتے ہیں اور دھیان نہیں دیکھنے میں کتنی ویران نظر آتی ہے تا حد نظریہی دنیا کہ جو ویران نہیں دیکھنے میں ان دنوں فرصتِ تعبیر کہاں ممکن ہےان دنوں خواب بھی آسان نہیں دیکھنے میں ویسے تو

اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں Read More »

زندگی تھی ہی نہیں، زخم کسی یاد کے تھے

Zindagi Thee Hi Nahi Zakhm kissi Yaad kay they غزل زندگی تھی ہی نہیں، زخم کسی یاد کے تھےہم نے وہ دن بھی گزارے جو ترے بعد کے تھے ہم کبھی کر نہ سکے ورنہ سخن ایسے بھیجو نہ تحسین کے تھے اور نہ کسی داد کے تھے اب جو ویران ہوئے ہیں تو یقیں

زندگی تھی ہی نہیں، زخم کسی یاد کے تھے Read More »