MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اندر کی بات بات سے آگے کی چیز ہے

Andar ki baat baat say aagay ki cheez Hay غزل اندر کی بات بات سے آگے کی چیز ہےعشق ان کے التفات سے آگے کی چیز ہے گلزار پھول پات سے آگے کی چیز ہےدل تیری کائنات سے آگے کی چیز ہے ہر ذات ہی صفات سے آگے کی چیز ہےلیکن وہ ذات ذات سے […]

اندر کی بات بات سے آگے کی چیز ہے Read More »

ہاتھ میں کاسہ اٹھایا دل پہ پتھر رکھ لیا

Hath main kaasa Uthaya dil pa pathar Rakh lia غزل ہاتھ میں کاسہ اٹھایا دل پہ پتھر رکھ لیاتیرے غم کا مان ہم نے ٹھوکروں پر رکھ لیا لگ نہ جائے پھر کہیں دامن کے پھولوں کو نظرہم نے ہر خارِ چمن دل میں چبھو کر رکھ لیا وصل ہے کچھ اور شے انصاف ہے

ہاتھ میں کاسہ اٹھایا دل پہ پتھر رکھ لیا Read More »

کافر ہوئے جاتے ہیں مسلمان دھڑادھڑ

Kaafar Hoyee Jaaty Hain Muslamaan dhRa Dhar غزل کافر ہوئے جاتے ہیں مسلمان دھڑادھڑاسلام ہے اور شیخ کے احسان دھڑادھڑ عہد ایک بھی قرآن میں امّت سے نہ باندھامُلّا سے کیے وعدہ و پیمان دھڑادھڑ ہم چار کتابوں میں رہے ڈھونڈتے حکمتکر بھی گئے ڈنڈے سے وہ درمان دھڑادھڑ کام ایک کا تھا اور لگے

کافر ہوئے جاتے ہیں مسلمان دھڑادھڑ Read More »

زیب دیتا نہیں بندے کو خدا ہو جانا

Zeeb Deeta Nahi Banday Ka khuda Ho jaana غزل زیب دیتا نہیں بندے کو خدا ہو جاناورنہ دشوار ہے کیا خود میں فنا ہو جانا زہر کے واسطے ممکن ہے دوا ہو جاناتیرے بیمار کو تجھ سے ہی شفا ہو جانا ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں اے دل لیکناس طرح مرنے پہ تیار بھی

زیب دیتا نہیں بندے کو خدا ہو جانا Read More »

دنیا کتاب میں ہے نہ عقبیٰ نصاب میں

Dunya Kitaab Main Hay no Uqba Kitaab Main غزل دنیا کتاب میں ہے نہ عقبیٰ نصاب میںخاموش ہے وفا صلۂِ غم کے باب میں جوہر ہے زندگی کا فقط پیچ و تاب میںورنہ ہے اٹھ کے بیٹھنے والا بھی خواب میں تو نے تو لکھ رکھا ہے سبھی کچھ کتاب میںہم زندگی گزار گئے کس

دنیا کتاب میں ہے نہ عقبیٰ نصاب میں Read More »

اگر ہم چھوڑ دیں عرض ہنر خاموش ہو جائیں

Agar Ham Choor Dain Arz e Hunar Khamosh Ho jaeen غزل اگر ہم چھوڑ دیں عرض ہنر خاموش ہو جائیںہمارے ساتھ یہ دیوار و در خاموش ہو جائیں اسی باعث تو ہونٹوں پر سوال اب تک نہیں آیاکہیں ایسا نہ ہو یہ چارہ گر خاموش ہو جائیں طلسم بے یقینی ہر قدم پر گھیر لیتا

اگر ہم چھوڑ دیں عرض ہنر خاموش ہو جائیں Read More »

دور رہ بھی نہ سکوں پاس بلا بھی نہ سکوں

Door Reh bhi Na sakoon Paas Bula bhi Na sakoon غزل دور رہ بھی نہ سکوں پاس بلا بھی نہ سکوںتو وہ اپنا ہے جسے اپنا بنا بھی نہ سکوں اے مسیحا کوئی تدبیر مسیحائی کی کرزخم ایسا ہے کہ ہر اک کو دکھا بھی نہ سکوں حسن کی اور تب و تاب بڑھا دیتا

دور رہ بھی نہ سکوں پاس بلا بھی نہ سکوں Read More »

راستہ دیکھ رہا ہوں اسی امکان کے ساتھ

Rasta Deekh Raha Hoon issi Imkaan Kay sath غزل راستہ دیکھ رہا ہوں اسی امکان کے ساتھجیسے وہ بھول گیا ہو مجھے سامان کے ساتھ جس میں تم سیڑھیاں گن گن کے چلے آتے تھےوہی کمرا ہے مرا آج بھی دالان کے ساتھ دیدنی ہوتا ہے منظر وہ جنوں خیزی کاجب میں دامن کو ملاتا

راستہ دیکھ رہا ہوں اسی امکان کے ساتھ Read More »

جانے اس شخص کو یہ کیسا ہنر آتا ہے

Jaany Us Shakhs Ko yeh kaisa Hunar Aata Hay غزل جانے اس شخص کو یہ کیسا ہنر آتا ہےرات ہوتی ہے تو آنکھوں میں اتر آتا ہے اس کی چاہت کا تو انداز جدا ہے سب سےوہ تو خوشبو کی طرح روح میں در آتا ہے بات کرتا ہے تو الفاظ مہک اٹھتے ہیںجس طرح

جانے اس شخص کو یہ کیسا ہنر آتا ہے Read More »

جو دل پر ضرب کاری لگ رہی ہے

Jo Dil per zarb kaari lag rahi hay غزل جو دل پر ضرب کاری لگ رہی ہےیہ خوشبو بھی تمہاری لگ رہی ہے تمہاری یاد میں سویا ہوا ہوںبدن کو نیند پیاری لگ رہی ہے محبت ایک لمحے میں ہوئی تھیاب اس میں عمر ساری لگ رہی ہے تمہارے درد پر دل دکھ رہا ہےتمہاری

جو دل پر ضرب کاری لگ رہی ہے Read More »