MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوئی آس پاس نہیں رہا ‘ تو خیال تیری طرف گیا

Koi Aas Paas Nahi Raha tu Khyal teri Taraf Gaya غزل کوئی آس پاس نہیں رہا ‘ تو خیال تیری طرف گیامجھے اپنا ہاتھ بھی چُھو گیا، تو خیال تیری طرف گیا کسی حادثے کی خبر ہوئی، تو فَضا کی سانس اُکھڑ گئیکوئی اتّفاق سے بچ گیا، تو خیال تیری طرف گیا کوئی آ کے […]

کوئی آس پاس نہیں رہا ‘ تو خیال تیری طرف گیا Read More »

عشقیہ کی (key) جو آن(on) رکھتے ہیں

Ishqia Kee jo Aan Rakhty Hain غزل عشقیہ کی (key) جو آن(on) رکھتے ہیںدل میں الٹے پلان رکھتے ہیں وہ جو ہوتے ہیں وصل میں زخمیپاس پٹی کے تھان رکھتے ہیں پست قد کے بھی کچھ حسیں چہرےمنہ میں لمبی زبان رکھتے ہیں مستند اہل عشق گالوں پرتھپڑوں کے نشان رکھتے ہیں سچ تو یہ

عشقیہ کی (key) جو آن(on) رکھتے ہیں Read More »

چھت پہ زلفیں کھول کر پاگل نما

Chaat pa zulfain Khool Kar pagal numa غزل چھت پہ زلفیں کھول کر پاگل نمااس نے سورج کر دیا بادل نما رات بھر گالوں پہ ناچے اشک اوررات بھر کھنکی ندی پائل نما آپ نے بھی درد کے زنگار پرکیا چڑھا لی ہے ہنسی صیقل نما؟ راستہ ثانی نکالا تھا مگرراستہ. ثانی ، وہی اول

چھت پہ زلفیں کھول کر پاگل نما Read More »

سرِ کہسار سیدھی اور کچھ ترچھی لکیریں

Sar e Kuhsaar sedhi aur kuch tirchi lakeerain غزل سرِ کہسار سیدھی اور کچھ ترچھی لکیریںنمودِ ہست میں کوشاں ہیں برفیلی لکیریں مفصل کر رہی ہیں گفتگو رودادِ شب پرتری آنکھوں میں پھیلی سرخ تفصیلی لکیریں ابھی کھولے کہاں موسم نے پت جھڑ کے دریچےابھی ان شوخ پتوں پر کہاں پھیلی لکیری کوئی زرتاب اترا

سرِ کہسار سیدھی اور کچھ ترچھی لکیریں Read More »

بہت نازک ہے یہ دل دیکھیئے ایسا نہ کیجئے

Bohat Nazuk Hay ye Dil Dekhyee aysa Na kejyee غزل بہت نازک ہے یہ دل دیکھیئے ایسا نہ کیجئےکسی دن دھڑکنیں رک جائیں گی روٹھا نہ کیجئے بڑی مشکل سے سیدھی کیں ہیں قسمت کی لکیریںکسی کی بات میں آ کر انہیں ٹیڑھا نہ کیجئے فغاں سے لب گریزاں ہیں نگہ گریا سے عاریتو پھر

بہت نازک ہے یہ دل دیکھیئے ایسا نہ کیجئے Read More »

مشیعت کے سبھی پردے ہٹا کر دیکھ لیتا ہے

Masheeat kay sabhi parday Hata kar dekh letta Hay غزل مشیعت کے سبھی پردے ہٹا کر دیکھ لیتا ہےقلندر ہست میں دنیا بسا کر دیکھ لیتا ہے جنوں حدِ ریاضت سے تجاوز کر چکا ہو جبتو عاشق ہست کو دلبر بنا کر دیکھ لیتا ہے کسی کو آسماں تک راستہ درکار ہوتا ہےکوئی ہاتھوں کو

مشیعت کے سبھی پردے ہٹا کر دیکھ لیتا ہے Read More »

شب مبین کا مہتاب ارغواں کر کے

Shab e Mubeen ka mahtaab Arghwaan Kar kay غزل شب مبین کا مہتاب ارغواں کر کےسکون پانے لگا ہجر خوں رواں کرکے یقین وعدے پہ اس کے کرے ہے دل ، جبکہمجھے خبر ہے مُکر جائے گا زباں کر کے وہ خط کہ جن پہ ترے نقشِ لب مزین تھےانہیں سنبھال کے رکھا ہے نقدِ

شب مبین کا مہتاب ارغواں کر کے Read More »

عشق اس بار یوں ہوا مجھ کو

Ishq is Baar Youn Howa Mujh Ko غزل عشق اس بار یوں ہوا مجھ کورہ گیا قیس دیکھتامجھ کو تیری گلیوں کی خاک اڑانی ہےرقص کرنا ہے جا بجا مجھ کو اس کے چہرے کی چاندنی پا کرچاند لگنے لگا دیا مجھ کو شوق تھا نا تجھے اعانت کاگر گیا ہوں تو اب اٹھا مجھ

عشق اس بار یوں ہوا مجھ کو Read More »

ِمیں بدل جاوں گا ، نہیں ہو گا

Main Badal Jaoon ga Nahi Hoga غزل ِمیں بدل جاوں گا ، نہیں ہو گاہاں ، اگر آسماں زمیں ہو گا وہ ہے تشکیک میں تو جانے دولوٹ آئے گا جب یقیں ہو گا اس کی آنکھوں کا ابر کہتا ہےآج رخسار سرمگیں ہو گا حظ اٹھا لیں گے لمس کا اب کےوصل کی شب

ِمیں بدل جاوں گا ، نہیں ہو گا Read More »

یا تعلق ہی سرے سے نہ بنایا جا ئے

Ya Taluq hi siray say na Banaya Jayee غزل یا تعلق ہی سرے سے نہ بنایا جا ئےیا محبت کا ہر اک نازا ٹھایا جائے صبح کی شوخ کرن آنکھ میں رقصاں ہے ابھیسو ابھی شام کا گھونگھٹ نہ اٹھایا جائے خامشی اپنے تعیں ایک زباں ہوتی ہے .کیا ضروری ہے فلک سر پہ اٹھایا

یا تعلق ہی سرے سے نہ بنایا جا ئے Read More »