MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزا

Rahay No Rooz Ishrat Aafreen josh e bahaar afza غزل رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزاگل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہر جا نہ پوچھو کوئی عیش و خرمی کو عہد میں اس کےکہ جس کے فیض سے گھر گھر ہے دور ساغر صہبا ارسطو جاہ وہ فرخ نژاد اہل […]

رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزا Read More »

عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا

Aalam tri Nigah say hay Sarshaar Dekhna غزل عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنامیری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا ناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشقدانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا گردش سے تیری چشم کے مدت سے ہوں خرابتس پر کرے ہے مجھ سے یہ اقرار دیکھنا ناصح

عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا Read More »

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

Gul kay Honay ki Tawqoo pa jyee Bethi Hoon غزل گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہےہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاںبلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگاہسیکڑوں عاشقوں کا خون

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے Read More »

مہ لقا بائی چندا : اردو کی پہلی نسائی آواز

Mah laq baaee Chanda مہ لقا بائی چندا : اردو کی پہلی نسائی آواز ڈاکٹر راحت سلطانہمحبوب چوک۔حیدرآباد مہ لقا بائی چندا کو ایک عرصے تک اُردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ کا اعزاز حاصل رہا ۔ اس کا دیوان ۱۲۱۳ھ میں مرتب ہوا تھا (۱) ۔ لیکن جب مولوی نصیر الدین ہاشمی نے لطف

مہ لقا بائی چندا : اردو کی پہلی نسائی آواز Read More »

جھیلیں گے ہم آزار پہ آزار کہاں تک

Jheelain Gay ham azzar pay aazar Kahan Tak غزل جھیلیں گے ہم آزار پہ آزار کہاں تکخود دار پہ چڑھتے رہیں خوددار کہاں تک ہر روز جہاں اک نئی دیوار کھڑی ہورکھ پاؤ گے اس گھر کو ہوادار کہاں تک مہنگائی نے فاقوں سے ملاقات کرادیفاقوں سے گلے ملتے رہیں یار کہاں تک ملا کو

جھیلیں گے ہم آزار پہ آزار کہاں تک Read More »

بلایا پھر سے امریکا ہے مجھ کو

Bulaya phir say Amreeka Hay Mujh ko غزل بلایا پھر سے امریکا ہے مجھ کومجھے کیوں اتنا بھایا جا رہا ہے جوانی میں بلانا تھا جہاں پربڑھاپے میں بلایا جا رہا ہے وہاں میں شعر پڑھنے جا رہا ہوںجہاں اب شعر گایا جا رہا ہے ادب کو وہ ادب سے بیچتے ہیںادب سے اب کمایا

بلایا پھر سے امریکا ہے مجھ کو Read More »

کبھی عیار بیٹھا ہے کبھی مکار بیٹھا ہے

Kabhi ayaar Betha Hay Kabhi Makkaar Betha Hay غزل کبھی عیار بیٹھا ہے کبھی مکار بیٹھا ہےیہاں سالار کے منصب پہ کب سالار بیٹھا ہے نہ دے پایا ابھی تک ووٹ میں بس ایک ملا کوالیکشن چھ ہوئے ہیں اور وہ چھ بار بیٹھا ہے مجھے ڈر ہے مرا بکرا نہ بن جائے کہیں لیڈرگلے

کبھی عیار بیٹھا ہے کبھی مکار بیٹھا ہے Read More »