MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جہاں تلک اسے آؤں نظر دریچے سے

Jahan talk ussay Aaoon nazar Dareechay Say غزل جہاں تلک اسے آؤں نظر دریچے سےوہ دیکھتا ہے مجھے سر بسر دریچے سے جدا ہوا تھا بنا کر وہ نقسِ پا جس پروہ رہ گزر بھی آتی ہے نظر دریچے سے بڑھا کے ہاتھ اسے رات چھو لیا میں نےجو چاند جھانک رہا تھا ادھر دریچےسےاسے […]

جہاں تلک اسے آؤں نظر دریچے سے Read More »

موسمِ دشت کا کچھ رنگ و ثمر رہنے دے

Mosim e Dasht ka kuch rang o samar rehnay day غزل موسمِ دشت کا کچھ رنگ و ثمر رہنے دےبال سلجھا نہ ابھی گردِ سفر رہنے دے کوئی عرفانِ فلک دے نہ ہی ادراکِ زمیںبس جو تھوڑی ہے مجھے اپنی خبر رہنے دے ایک صحرا کی نگاھوں میں چبھن رہتی ہےنم تو درکار ہے تھوڑا

موسمِ دشت کا کچھ رنگ و ثمر رہنے دے Read More »

سرخ رو ہونے کو رنگِ ارغواں بےکار ہے

Surkh ro Honay ko Rang e arghwaan Baykaar Hay غزل سرخ رو ہونے کو رنگِ ارغواں بےکار ہےاب چمن کی پتیوں کو خون ِ دل درکار ہے تو بھی تھوڑی دور جا کر خندہِ دشمن لگا یارِ میرے تو بھی اس کی جیت میں حقدار ہے آ کبھی اور ساتھ میرے رات کے تیجے پہر

سرخ رو ہونے کو رنگِ ارغواں بےکار ہے Read More »

رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ

Rahay Raqeeb say baaham wo seem Bar Mehfooz غزل رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظ دریغ چشم کرم سے نہ رکھ کہ اے ظالمکرے ہے دل کو مرے تیری یک نظر محظوظ نہ بار بار ہوس ہو نبات کی مجھ کورکھے جو ایک ہی بوسہ میں

رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ Read More »

رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض

Rakhtay Hain meray ashk say yeh deeda e tar Faiz غزل رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیضدامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گہر فیض پر نور عجب کیا ہے کرے مجھ کو کرم سےرکھتی ہے دو عالم پہ تری ایک نظر فیض اک جام پہ بخشے ہے یہاں رتبہ جسم کوکس

رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض Read More »

گرچہ گل کی سیج ہو اس پر بھی اڑ جاتی ہے نیند

Garcha Gul ki seej Ho tus per bhi ur jaati Hay neend غزل گرچہ گل کی سیج ہو اس پر بھی اڑ جاتی ہے نیندسر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیند دیکھ سکتا ہی نہیں آنکھوں سے ٹک آنکھیں ملامنتظر سے مثل نرگس تیرے شرماتی ہے نیند جب سے یہ مژگاں ہوئے

گرچہ گل کی سیج ہو اس پر بھی اڑ جاتی ہے نیند Read More »

ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ

Hoayee Janab main abh Tak na teray Ham Gustaakh غزل ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخخدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخ چھپایا راز محبت کو دل میں پر ہیہاتکرے ہے نام مرا بد یہ چشم نم گستاخ جو آوے جی میں سو کہہ لے میں ہوں وہ اے پیارےرہوں

ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ Read More »

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب

Na Gul say hay Gharaz teray Na hay gulzaar say matlab غزل نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلبرکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہےبر آوے کس طرح اللہ اب خوں خوار سے مطلب بجز حق کے

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب Read More »

ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب

Saaqi hay garcha bay shummar sharab غزل ساقی ہے گرچہ بے شمار شرابنہیں خوش تر سوائے یار شراب قتل پر کس کے آج ہوتی ہےتوسن حسن پر سوار شراب رکھ کرم پر ترے نظر مجرمنوش کرتے ہیں بے شمار شراب ان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقیچاہتے ہیں جو بار بار شراب یا علی حشر

ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب Read More »

دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوب

Dil Ho Gaya Hay Gham say tray daagh Daar khoob غزل دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوبپھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوب کب تک رہوں حجاب میں محروم وصل سےجی میں ہے کیجے پیار سے بوس و کنار خوب ساقی لگا کے برف میں مے کی صراحی

دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوب Read More »