MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں

Qeht e wafayee wada o peemaan hay in dino غزل قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوںزوروں پہ احتیاط دل و جاں ہے ان دنوں ملعون ہیں جو موسم گل کے جنوں میں ہیںمتروک رسم چاک گریباں ہے ان دنوں یہ رسم رفتگاں تھی فراموش ہو گئیاپنے کئے پہ کون پشیماں ہے ان دنوں […]

قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں Read More »

رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی

Rakha Nahi Gurbat nay kabhi apna bharam bhi غزل رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھیمے خانہ بھی ویراں ہے کلیسا بھی حرم بھی لوٹا ہے زمانے نے مرا بیش بھی کم بھیچھینا تھا تجھے چھین لیا ہے ترا غم بھی بے آب ہوا اب تو مرا دیدۂ نم بھیاے گردش عالم تو

رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی Read More »

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوں

Sehra Main Ghatta Ka Muntazir hoon غزل صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوںپھر اس کی وفا کا منتظر ہوں اک بار نہ جس نے مڑ کے دیکھااس جان صبا کا منتظر ہوں بیٹھا ہوں درون‌‌ خانۂ غمسیلاب بلا کا منتظر ہوں جان آب بقا کھوج میں ہےمیں موج فنا کا منتظر ہوں کھل جاؤں گا

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوں Read More »

رو لیتے تھے ہنس لیتے تھے بس میں نہ تھا جب اپنا جی

Ro Leetay they Hans Letay They bus Main na Tha jab apna Jee غزل رو لیتے تھے ہنس لیتے تھے بس میں نہ تھا جب اپنا جیتم نے ہمیں دیوانہ کیا ہے ایسی تو کوئی بات نہ تھی اب یہ تمہارا کام کہ جانو ہم پروانہ تھے یا دیپدن بیتا تو جلتے جلتے جلتے جلتے

رو لیتے تھے ہنس لیتے تھے بس میں نہ تھا جب اپنا جی Read More »

ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے

Zulm To Yeh Hay ka Shaaki mry Kirdaar ka Hay ظہور نظر ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہےیہ گھنا شہر کہ جنگل در و دیوار کا ہے رنگ پھر آج دگر برگ دل زار کا ہےشائبہ مجھ کو ہوا پر تری رفتار کا ہے اس پہ تہمت نہ دھرے میرے جنوں

ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے Read More »

کب سے لبوں پہ ساقی ترا نام ہی تو ہے

Kab Say laboon pay Saqi Tra Naam hi to Hay غزل کب سے لبوں پہ ساقی ترا نام ہی تو ہے طالب نظر کا تیری لگے جام ہی تو ہے مدحت سرائی میں کروں سرکار ﷺ کی فقط سارے جہاں میں اچھا یہی کام ہی تو ہے ہو گی سحر طلوع بہت ہے یقیں مجھے

کب سے لبوں پہ ساقی ترا نام ہی تو ہے Read More »

شور پازیب کا ہوتا ہے کدھر شام کے بعد

Shoor Pazeeb Ka hota hay Kidher Shaam ky baad غزل شور پازیب کا ہوتا ہے کدھر شام کے بعد "کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد” دور جاتے ہو کبھی تم جو صنم مجھ کو لگے سونا سونا سا مرا عشق نگر شام کے بعد مسکراہٹ کی تھی آواز رچی کانوں میں

شور پازیب کا ہوتا ہے کدھر شام کے بعد Read More »

ہم بھی ہوئے ہیں ان سے پشیماں کبھی کبھی

Ham bhi Hoyee Hain Un say Pasheman Kabhi Kabhi غزل ہم بھی ہوئے ہیں ان سے پشیماں کبھی کبھی ہونے لگے ہیں وہ بھی گریزاں کبھی کبھی دہشت گروں کو کوئی سروکار اس سے کیا کرتے ہیں خون پانی سے ارزاں کبھی کبھی اے دل تجھے تو خود پہ ہنسانے کے واسطے "پھاڑا ہے ہم

ہم بھی ہوئے ہیں ان سے پشیماں کبھی کبھی Read More »

بیچین ہی رہتے ہیں جاتے ہوئے دیکھا ہے

Baychain Hi Rehtay Hain Jaaty Hoyee Dekha Hay غزل بیچین ہی رہتے ہیں جاتے ہوئے دیکھا ہے آنکھوں میں عجب منظر اب تک وہی ٹھہرا ہے آنکھوں میں نشہ ایسا الٹا ہی نظر آئے "پربت ہے رواں دیکھو ٹھہرا ہوا دریا ہے” سرگرم یزیدی ہیں حق سچ کی لڑائی میں ماحول ہوا ایسا کچھ کرب

بیچین ہی رہتے ہیں جاتے ہوئے دیکھا ہے Read More »

یار من کے تھے قریں , اپنے ہی دشمن ٹھہرے

Yaar Man kay they qareen apnay hi dushman Thehray غزل یار من کے تھے قریں , اپنے ہی دشمن ٹھہرے "خیمہ زن جس میں خزاں ہو وہی گلشن ٹھہرے” زندگی لٹنے کا اب کس سے گلہ ہو یارو رہنما بھیس میں اپنے جو تھے رہزن ٹھہرے ہم نے رہنے کی جگہ دی جنہیں اپنے دل

یار من کے تھے قریں , اپنے ہی دشمن ٹھہرے Read More »