MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زندان کی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں

Zindan ki deevaar main dar Dhoond rahay hain غزل زندان کی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں ہم لوگ کوئی راہ ِمفر ڈھونڈ رہے ہیں معصومیت آنکھوں میں لڑکپن کی سجائے آکاش میں پریوں کا نگر ڈھونڈ رہے ہیں اس دور کشاکش میں روادرئ الفت ملنی تو نہیں ہم کو مگر ڈھونڈ رہے ہیں نفرت […]

زندان کی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں Read More »

شعور اوج پہ آ جائے تب غزل کہنا

Shaoor auj pa aajayee tab Ghazal Kehna غزل شعور اوج پہ آ جائے تب غزل کہنا پھر اسکے بعد میاں روز و شب غزل کہنا ابھی تو فکر کی پرواز ہے بلندی پر جو اب نہیں تو بتاؤ کہ کب غزل کہنا منہ کھولنے کی اجازت نہیں ملے تو وہیں خموشی اوڑھ کے تو زیر

شعور اوج پہ آ جائے تب غزل کہنا Read More »

قسم اپنی دلا کے پوچھا ہے

Qasam Apni Dila ky pocha hay غزل قسم اپنی دلا کے پوچھا ہے کیوں فسردہ ہوں آ کے پوچھا ہے سارا دن کیوں نظر نہیں آتے رات خوابوں میں آ کے پوچھا ہے تجھ میں کتنی ہے قوتِ برداشت اک ستم اور ڈھا کے پوچھا ہے اب بتا روشنی ہوئی کہ نہیں دل ہمارا جلا

قسم اپنی دلا کے پوچھا ہے Read More »

ہم نے تو کی تھی خواہشِ دیدار زیرِ لب

Ham Nay tu ki thee Khowahish e deedar Zeer e Lab غزل ہم نے تو کی تھی خواہشِ دیدار زیرِ لب کیوں مسکرا کے چل دیئے سرکار زیرِ لب دونوں جہاں ہمارے سنور جائیں گے حضور بس اک ذرا سا پیار کا اظہار زیرِ لب اقرار پر ہے آپ کے قائم مرا وجود بارِ خدا

ہم نے تو کی تھی خواہشِ دیدار زیرِ لب Read More »

شوق ہے چھپنے کا تو اے خانہ نشیں چھپ

Shoq hy Chupne ka to ae khana nasheen chup غزل شوق ہے چھپنے کا تو اے خانہ نشیں چھپ خول میں رہ ذات ہی کے اور وہیں چھپ برہم اگر آسماں ہے زیر زمیں چھپ خاک ہے تو خاک میں اے خاک نشیں چھپ قبر میں پندار کی سکون بہت ہے بات مری مان آ

شوق ہے چھپنے کا تو اے خانہ نشیں چھپ Read More »

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے

Din Aysay youn to Aayee hi kab thwy jo Raas They غزل دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھےلیکن یہ چند روز تو بے حد اداس تھے ان کو بھی آج مجھ سے ہیں لاکھوں شکایتیںکل تک جو اہل بزم سراپا سپاس تھے وہ گل بھی زہر‌ خند کی شبنم سے

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے Read More »

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں

Deepak Raag Hay Chahat apni kaahy sunaeen Tumhain غزل دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیںہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں ترک محبت ترک تمنا کر چکنے کے بعدہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئےروح کے زخموں

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں Read More »

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری

Her Ghari qayamat thee yeh na poch kab guzri غزل ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزریبس یہی غنیمت ہے تیرے بعد شب گزری کنج غم میں اک گل بھی لکھ نہیں سکا پورااس بلا کی تیزی سے صرصر طرب گزری تیرے غم کی خوشبو سے جسم و جاں مہک اٹھےسانس کی ہوا

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری Read More »

حیات وقف غم روزگار کیوں کرتے

Hayyat waqf Gham e Roozgaar kyu karty غزل حیات وقف غم روزگار کیوں کرتےمیں سوچتا ہوں کہ وہ مجھ سے پیار کیوں کرتے نہ میری راہ میں تارے نہ میرے پاس چراغوہ میرے ساتھ سفر اختیار کیوں کرتے نگاہ صرف بلاوا نہیں کچھ اور بھی ہےیہ جانتے تو ترا اعتبار کیوں کرتے غم حیات میں

حیات وقف غم روزگار کیوں کرتے Read More »

عشق میں معرکے بلا کے رہے

Ishq Main Maarkay Bala kay Rahay غزل عشق میں معرکے بلا کے رہےآخرش ہم شکست کھا کے رہے یہ الگ بات ہے کہ ہارے ہمحشر اک بار تو اٹھا کے رہے سفر غم کی بات جب بھی چلیتذکرے تیرے نقش پا کے رہے جب بھی آئی کوئی خوشی کی گھڑیدن غموں کے بھی یاد آ

عشق میں معرکے بلا کے رہے Read More »