ہونٹوں کی کچھ آنکھوں کی دعا اور ہی کچھ ہے
Hontoo ki kuch aankhoo ki dua aur hi kuch hay غزل ہونٹوں کی کچھ آنکھوں کی دعا اور ہی کچھ ہے میرے تو مقدّر میں لکھا اور ہی کچھ ہے اے درد ! نہیں تیرا جو ہے کوئی مسیحا دل میرا سمجھتا ہے دوا اور ہی کچھ ہے ہو جائے یقیں اس کو گئ جان […]
ہونٹوں کی کچھ آنکھوں کی دعا اور ہی کچھ ہے Read More »