MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ظالم تھا کل تلک جو مظلوم آج کل ہے

Zalim Tha Kal Talak jo Mazloom Aaj Kal hay غزل ظالم تھا کل تلک جو مظلوم آج کل ہےمعصوم آج کل ہے معصوم آج کل ہے دیوانگی میں اپنی ایسا گرا ستم گرزخموں کو دیکھ کر خود مغموم آج کل ہے اپنے زوال کی خود زندہ مثال ہے یہجو بادشاہ تھا کل تک محکوم آج […]

ظالم تھا کل تلک جو مظلوم آج کل ہے Read More »

اشکوں سے داغ دل کے نہ دھویا کریں گے ہم

Ashkoo say daagh dil kay na dhoya karain gay ham غزل اشکوں سے داغ دل کے نہ دھویا کریں گے ہمدامن کو اپنے اب نہ بھگویا کریں گے ہم آسان تو نہیں ہے مگر پھر بھی دوستواب یاد میں تمھاری نہ رویا کریں گے ہم گزرے گی جیسے تیسے گزاریں گے زندگیپر چاہتوں کے بیج

اشکوں سے داغ دل کے نہ دھویا کریں گے ہم Read More »

زندگی اک خدا کی نعمت ہے

Zindagi ik Khuda ki naimat Hay غزل زندگی اک خدا کی نعمت ہےآزمائش کی بھی یہ صورت ہے ہر قدم دیکھ کے رکھو لوگوزندگی موت کی مسافت ہے جینے مرنے پہ اختیار نہیںیہ ہی انسان کی حقیقت ہے ہر طرف ہائے ہو کا عالم اوررقص میں چار سو قیامت ہے موت کا شور ہے ہواؤں

زندگی اک خدا کی نعمت ہے Read More »

میری آنکھوں میں یہ جو پانی ہے

Meri Aankhoon main yeh jo Paani hay غزل میری آنکھوں میں یہ جو پانی ہےبس محبت کی مہربانی ہے تھوڑا سا وقت ہے اگر صاحباک . کتھا آپ کو سنانی ہے کیا سمجھتے ہیں آپ دنیا کورائگانی ہی رائگانی ہے بادشاہ ہے کوئی تو کوئی گداساری دنیا کی لمترانی ہے آپ کا میرا کچھ نہیں

میری آنکھوں میں یہ جو پانی ہے Read More »

گیت الفت کے سدا تم کو سنائے جاؤں

Geet ulfat kay Sada tum Ko sunayee JaooN غزل گیت الفت کے سدا تم کو سنائے جاؤںخار راہوں سے تمھاری میں ہٹائے جاؤں اے مرے سائیں تمھاری میں اطاعت کر کےاپنے اللہ کا فرمان نبھائے جاؤں کوئی تکلیف نہ دوں آپ کو سائیں میرےآپ کا ساتھ ہر اک رہ پہ نبھائے جاؤں آپ کی عزت

گیت الفت کے سدا تم کو سنائے جاؤں Read More »

زندگی کی کتاب کیا کہیے

Zindagi ki Kitab kia Kahyee غزل زندگی کی کتاب کیا کہیےہر سبق لاجواب کیا کہیے زندگی سوگوار پردے میںموت ہے بے نقاب کیا کہیے بن محبت کے زندگی یاروںجیسے سوکھا گلاب کیا کہیے کھیل ہے بھوک پیاس کا ساراناچتی ہے رکاب کیا کہیے لوگ چاہت میں مال و دولت کیبھول بیٹھے ثواب کیا کہیے آزماتا

زندگی کی کتاب کیا کہیے Read More »

زمیں تو نے بنائ آسماں تو نے بنایا ہے

Zameen Tu nay Banaee Aasman tu nay Banaya Hay غزل زمیں تو نے بنائ آسماں تو نے بنایا ہےبنا کراپنی قدرت سے اسے تو نے سجایا ہے زمیں سے آسماں تک تیری قدرت کے نمونے ہیںتری قدرت کا خاصہ ہے جو یہ جگ جھلملایا ہے بھٹکتے پھرتے تھے دن رات ہم ظلمت کی راہوں میںترا

زمیں تو نے بنائ آسماں تو نے بنایا ہے Read More »

دن ہے اپنا نہ رات ہے اپنی

Din Hay Apna no Raat Hay Apni غزل دن ہے اپنا نہ رات ہے اپنیکس مصیبت میں ذات ہے اپنی آپ نے کیا کبھی یہ سوچا ہےکیوں سسکتی حیات ہے اپنی ظلم کے آگے سر اٹھانے کیبزدلو! کیا بساط ہے اپنی تن پہ کپڑا نہ پیٹ میں روٹیپھر بھی اونچی یہ ذات ہے اپنی حق

دن ہے اپنا نہ رات ہے اپنی Read More »

ہمارے من کو ہیں خدشات وقت نازک ہے

Hamaray man ko hain khadshaat waqt nazuk hay غزل ہمارے من کو ہیں خدشات وقت نازک ہےکرو نہ دل کی کو ئی بات وقت نازک ہے بدل گئے ہیں جی حالات وقت نازک ہےنہ دل ہی اپنا نہ جزبات وقت نازک ہے نہ مال اپنا سلامت نہ جان ہے صاحبقدم قدم پہ ہیں خطرات وقت

ہمارے من کو ہیں خدشات وقت نازک ہے Read More »

دل لیا ہے تو لیا ہے یہ مری جان نہ لے

Dil lia hay to lia hay yeh mri jaan na lay غزل دل لیا ہے تو لیا ہے یہ مری جان نہ لے جان گر لے لے مری جان تو ایمان نہ لے روح فنکار کی رہنے بھی دے اس میں شامل ساز تو لے لے مگر ساز کی وہ تان نہ لے خوف دل

دل لیا ہے تو لیا ہے یہ مری جان نہ لے Read More »