کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے
Kissi kay zakhm per ashkoon ka phaya rakh diya jayee غزل کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائےچلو سورج کے سر پر تھوڑا سایہ رکھ دیا جائے مرے مالک سر شاخ شجر اک پھول کی مانندمری بے داغ پیشانی پہ سجدہ رکھ دیا جائے گنہ گاروں نے سوچا ہے مسلسل نیکیاں کر […]
کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے Read More »