MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے

Kissi kay zakhm per ashkoon ka phaya rakh diya jayee غزل کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائےچلو سورج کے سر پر تھوڑا سایہ رکھ دیا جائے مرے مالک سر شاخ شجر اک پھول کی مانندمری بے داغ پیشانی پہ سجدہ رکھ دیا جائے گنہ گاروں نے سوچا ہے مسلسل نیکیاں کر […]

کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے Read More »

اس طرح آنکھوں کو نم دل پر اثر کرتے ہوئے

Is tarah aankhoo ko nam dil per asar karty hoyee غزل اس طرح آنکھوں کو نم دل پر اثر کرتے ہوئےجا رہا ہے کون نیزوں پر سفر کرتے ہوئے زندگی فاقوں کے سائے میں بسر کرتے ہوئےجی رہا ہوں خون دل خون جگر کرتے ہوئے لکھ رہا ہوں نام بچوں کے غموں کی جائدادان کی

اس طرح آنکھوں کو نم دل پر اثر کرتے ہوئے Read More »

خشک دامن پہ برسنے نہیں دیتی مجھ کو

Khushk daman pa barsnayNahi deti mujh ko خشک دامن پہ برسنے نہیں دیتی مجھ کومیری غیرت کبھی رونے نہیں دیتی مجھ کو ایک خواہش ہے جو مدت سے گلا گھونٹے ہےاک تمنا ہے جو مرنے نہیں دیتی مجھ کو زندگی روز نیا درد سناتی ہے مگراپنے آنسو کبھی چھونے نہیں دیتی مجھ کو دل تو

خشک دامن پہ برسنے نہیں دیتی مجھ کو Read More »

مہکتی آنکھوں میں سوچا تھا خواب اتریں گے

Mehakti Ankhoo main socha tha klhwab utrain gay غزل مہکتی آنکھوں میں سوچا تھا خواب اتریں گےپتا نہ تھا کہ یہاں بھی عذاب اتریں گے فریب کھائے گی ہر بار میری تشنہ لبیبدن کے دشت پہ جب جب سراب اتریں گے مری لحد پہ نہ روشن کرے چراغ کوئییہ وہ جگہ ہے جہاں آفتاب اتریں

مہکتی آنکھوں میں سوچا تھا خواب اتریں گے Read More »

یہ وقت جب بھی لہو کا خراج مانگتا ہے

Yeh waqt jab bhi laho ka khiraj mangta hay غزل یہ وقت جب بھی لہو کا خراج مانگتا ہےہمارے جسم میں زخموں کے پھول ٹانکتا ہے یہ آفتاب نہیں دیتا چاند کو کرنیںتمام دن کی مسافت کا درد بانٹتا ہے بجھے گی کیسے خدا جانے اس کے پیٹ کی آگیہ سرخ سرخ سا سورج ستارے

یہ وقت جب بھی لہو کا خراج مانگتا ہے Read More »

زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا

Zindagi ab is qader saffak ho jayee gi kia غزل زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیابھوک ہی مزدور کی خوراک ہو جائے گی کیا میرے قاتل سے کوئی اے کاش اتنا پوچھ لےیہ زمیں میرے لہو سے پاک ہو جائے گی کیا ہر طرف عریاں تنی کے جشن ہوں گے روز و

زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا Read More »

ہائیکو لیاقت علی عاصم

Liaqat Ali asim Hycoos ہائیکو افرا تفری ہےچوہوں کو معلوم نہیںبلی اندھی ہے ہائیکو تتلی کی ہے بھولشیشہ توڑ کے چومے گیپیپر ویٹ کا پھول ہائیکو یارب اتنی ڈھیلکفر نہ ہو تو میں پھونکوںصورِ اسرافیل لیاقت علی عاصم

ہائیکو لیاقت علی عاصم Read More »

روزنِ تقدیر قسط 32

#از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر ماہشان نے ردا بیگم کی مرضی کے مطابق گورنمنٹ کالج میں ایڈمیشن تو لے لیا تھا لیکن ردا بیگم کی عزت اب ماہشان کی نظروں میں ختم ہوگئی تھی وہ اب آمنہ کے گھر بھی رہنا نہیں چاہتی تھی اسے بس اب اپنا انتظام کرنا تھا ۔۔۔۔صبح کا وقت تھا ماہشان اور آمنہ

روزنِ تقدیر قسط 32 Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 31

#قسط_نمبر_31 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_31 #rozan_e_taqdeer #strong_heroine_based #caring_hero_based #no_more_forced_marriages_base #evil_genius_villian_base ادھر عباد امریکہ پہنچ گیا تھا اپنے تمام تر کاموں کو وہ امریکہ سے ہی لیڈ کرتا تھا اس کی تمام تر ٹیم امریکہ میں تھی کسی کو شک نہ ہو اس کۓ وہ کینیڈا میں زیادہ عرصہ گزارتا امریکہ میں فیملی کے نام پر صرف

روزنِ تقدیر قسط نمبر 31 Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 30

قسط_نمبر_30 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_30 #rozan_e_taqdeer #strong_heroine_based #caring_hero_based #no_more_forced_marriages_base #evil_genius_villian_based راستے میں ان دونوں نے کوئی بات نہیں کی گھر میں آتے ہی دونوں فاطمہ بیگم کو سلام کر کے سیدھے کمرے میں چلے گۓکمرے میں آتے ہی ماہشان سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئ عیان اسکو دیکھتا کوٹ اتار کر اسٹینڈ پر لٹکاتے اس کے

روزنِ تقدیر قسط نمبر 30 Read More »