MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بند آنکھوں سے مرا خواب چھپایا تم نے

Band aankhoo main mra khowab chupaya tum nay غزل بند آنکھوں سے مرا خواب چھپایا تم نےمسندِ دل پہ بصد شان بٹھایا تم نے کیا کبھی مجھ سے بھی چاہی تھی اجازت اس نےکیوں مرے نام کا تمغہ یہ سجایا تم نے روبرو آئنہ دیکھا جہاں سوچا تم کویوں تصور میں سہی عکس دکھایا تم […]

بند آنکھوں سے مرا خواب چھپایا تم نے Read More »

ہم بھروسا تیرے وعدے پہ کیے جائیں گے

ہم بھروسا تیرے وعدے پہ کیے جائیں گےڈوب کر پیار میں اظہار کیے جائیں گے اس تغافل پہ نہیں ان سے کرم کی امیدہم تو مجبور ہیں اقرار کیے جائیں گے پا بجولاں بھی جنوں ہو وہ پکاریں تو سہیآگ دریا دریا کو بھی ہم پار کیے جائیں گے ہم کو چاہت کے سمندر میں

ہم بھروسا تیرے وعدے پہ کیے جائیں گے Read More »

یوں ہم سے گریزاں بھی ہو مائل بہ کرم بھی

یوں ہم سے گریزاں بھی ہو مائل بہ کرم بھیگویا ہے بیک وقت سخاوت بھی ستم بھی حیرت ہے جہاں والوں کو کیا چیز ہیں ہم بھیہونٹوں پہ تبسم بھی ہے آنکھوں میں ہے نم بھی ہم نے تو نہ چاہا تھا مگر ہو گیا ایساخوشیوں کے تعاقب میں چلے آئے ہیں نم بھی ہونا

یوں ہم سے گریزاں بھی ہو مائل بہ کرم بھی Read More »

حسنِ صرصر ہے جسے بادِ صبا کہتے ہیں

حسنِ صرصر ہے جسے بادِ صبا کہتے ہیںلوگ ناداں سمِ قاتل کو دوا کہتے ہیں یہ ضروری تو نہیں ہے کوئی قائل کرلےحسنِ خاموش کو سب شعلہ نوا کہتے ہیں کتنے چالاک ہیں اس دور کے اہلِ ثروتظلم کرتے ہیں مگر اس کو ردا کہتے ہیں محوِحیرت ہوں کہ اب بھی ہیں جہاں میں کچھ

حسنِ صرصر ہے جسے بادِ صبا کہتے ہیں Read More »

گزار آئی ہوں وہ لمحے تیری قربت میں

گزار آئی ہوں وہ لمحے تیری قربت میںوہ یاد آتے ہیں شدت سے دورِ فرقت میں کبھی یاں ہم نے کسی کی طرف نہیں دیکھانظر کا رزق بچایا وفا کی غربت میں نظر اٹھا کہ اگر دیکھ لو مری جانبکمی نہ آئے گی ہر گز تمہاری شہرت میں کبھی جو وقت ملے گردشِ حیات سے

گزار آئی ہوں وہ لمحے تیری قربت میں Read More »

ان کی محفل میں فقط نقش بہ دیوار ہیں ہم

ان کی محفل میں فقط نقش بہ دیوار ہیں ہماس طرح بیٹھے ہیں جیسےکہ گنہ گار ہیں ہم جو ہمارا ہے وہ رشتہ نہیں سمجھے گا کوئیبس مقابل میں ترے آئنہ بردار ہیں ہم حسرتیں دل کی پریشان کیے رکھتی ہیںاپنے نا کردہ گناہوں میں گرفتار ہیں ہم کم نظر دیکھ کے حیراں ہے یہ

ان کی محفل میں فقط نقش بہ دیوار ہیں ہم Read More »

آج گم گشتہ خیالات نے چونکایا ہے

Aaj Gumgashta khyalat nay chonkaya hay غزل آج گم گشتہ خیالات نے چونکایا ہےپھر کوئی دشت جنوں سے مجھے لے آیا ہے ذہن آوارہ نے احساس کو راہیں دے کرمنزل دار و رسن تک مجھے پہنچایا ہے خوف نے لوٹ لی ہر گام پہ نبضوں کی اساسدر بدر روح کی گلیوں میں مرا سایہ ہے

آج گم گشتہ خیالات نے چونکایا ہے Read More »

خواہشِ بال و پر میں رہتا ہے

خواہشِ بال و پر میں رہتا ہےمطمئن کون گھر میں رہتا ہے لمحہ لمحہ سفر میں رہتا ہےچاند کب کس نگر میں رہتا ہے جان جاں آج کل ترا قاتلکوچۂ چارہ گر میں رہتا ہے بھول جاؤں اسے مگر کیسےوہ جو میری نظر میں رہتا ہے ہم تو صحرا نورد ہیں منظرؔخوف دیوار و در

خواہشِ بال و پر میں رہتا ہے Read More »

کس قدر روح پشیماں ہے تمہیں کیا معلوم

کس قدر روح پشیماں ہے تمہیں کیا معلومکب کہاں کون پریشاں ہے تمہیں کیا معلوم میرے افکار پہ احساس کا صحرا حاویاور تخیل میں گلستاں ہے تمہیں کیا معلوم ان کے ماحول پہ رقصاں ہیں بہاریں نغمےمیرا ہر گیت غم جاں ہے تمہیں کیا معلوم رات بے چین ہے آنکھوں میں سمٹنے کے لئےتیرگی زیست

کس قدر روح پشیماں ہے تمہیں کیا معلوم Read More »

دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھا

دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھاجو مرے ہم راہ تھا لیکن مرا سایہ نہ تھا سوچ کا طوفان شادابی بہا کر لے گیاایسا لگتا ہے کہ یہ چہرہ کبھی میرا نہ تھا موسم گل میں ہوائیں جیسے پتھرائی رہیںخوشبوؤں کا کوئی جھونکا اس طرف آیا نہ تھا یوں اچانک جاگ

دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھا Read More »