MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے

دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارےیہ ہم بدلتے ہیں یا بدلتے ہیں دن ہمارے جو کٹ گیا ہے سفر ابھی تک نہیں ہماراخبر نہیں اور کتنا چلتے ہیں دن ہمارے یہ کس کے جانے پہ بین کرتی ہیں چاند راتیںیہ کس کے جانے پہ ہاتھ ملتے ہیں دن ہمارا شمشیر حیدر

دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے Read More »

جہان خواب مہرباں کی خیر ہو

جہان خواب مہرباں کی خیر ہومرے زمین و آسماں کی خیر ہو ہوا کا رنگ ڈھنگ ہی کچھ اور ہےدعا کرو کہ آشیاں کی خیر ہو وہ چاہتا ہے اپنی اک سلامتیمیں چاہتا ہوں کارواں کی خیر ہو جہاں ہے تیرگی وہاں ہو روشنیجہاں ہے روشنی وہاں کی خیر ہو یہ جذب و کیف یوں

جہان خواب مہرباں کی خیر ہو Read More »

خوش کن خبر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے

خوش کن خبر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھےشب بھر سحر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے اڑنے کا اختیار کہاں میرے پاس تھابس بال و پر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے گھر اور گھر کے خواب سے ہجرت کے بعد بھیکیوں بام و در کے دھوکے میں رکھا گیا مجھ شمشیر حیدر

خوش کن خبر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے Read More »

صدیوں کے تعاقب میں لمحے نہیں جائیں گے

صدیوں کے تعاقب میں لمحے نہیں جائیں گےجائیں گے جہاں تک ہم رستے نہیں جائیں گے گو دشت نوردی کو ہم سیر سمجھتے ہیںلوٹیں گے تو چہرے بھی دیکھے نہیں جائیں گے سب ریت کی دیواریں گر جائیں گی لمحوں میںلیکن مرے دریا تو روکے نہیں جائیں گے شمشیر حیدر

صدیوں کے تعاقب میں لمحے نہیں جائیں گے Read More »

قت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے

وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہےخواب تعبیر میں ڈھلتا ہوا رہ جاتا ہے تجھ سے ملنے بھی چلا آتا ہوں ملتا بھی نہیںدل تو سینے میں مچلتا ہوا رہ جاتا ہے ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے کماں اپنی طرفاور پھر تیر نکلتا ہوا رہ جاتا ہے شمشیر حیدر

قت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے Read More »

اک نیند کی وادی سے گزارا گیا مجھ کو

اک نیند کی وادی سے گزارا گیا مجھ کوپھر خواب کی دہلیز پہ مارا گیا مجھ کو دل ہوں سو کسی چشم کے احسان ہیں سارےہاتھوں سے بنایا نہ سنوارا گیا مجھ کو رکھ دی گئی پہلے مرے سینے میں وہ خوشبوپھر عشق کے رنگوں سے نکھارا گیا مجھ کو شمشیر حیدر

اک نیند کی وادی سے گزارا گیا مجھ کو Read More »

جنوب و مشرق و مغرب ترے شمال ترا

جنوب و مشرق و مغرب ترے شمال ترامیں کیا کروں مرے چاروں طرف ہے جال ترا جہان سنگ صفت سے یہ کیسی امیدیںکرے گا کون یہاں آئنے ملال ترا یہ لوگ جانے کدھر سے جواب لے آئےچھپایا خود سے بھی میں نے ہر اک سوال ترا شمشیر حیدر

جنوب و مشرق و مغرب ترے شمال ترا Read More »

کوئی وجد ہے نہ دھمال ہے ترے عشق میں

کوئی وجد ہے نہ دھمال ہے ترے عشق میںمرا دل کہ وقف ملال ہے ترے عشق میں یہ جو خواب میں بھی ہے خواب کیف و سرور کاترے عشق کا ہی کمال ہے ترے عشق میں میں نکل ہی جاؤں گا وحشتوں کے حصار سےیہ تو سوچنا بھی محال ہے ترے عشق میں شمشیر حیدر

کوئی وجد ہے نہ دھمال ہے ترے عشق میں Read More »

سجے ہوئے بام و در سے آگے کی سوچتا ہوں

سجے ہوئے بام و در سے آگے کی سوچتا ہوںمیں گھر بنا کر بھی گھر سے آگے کی سوچتا ہوں کہیں اندھیرے میں جا بسوں گا چراغ بن کرمیں تیرے شمس و قمر سے آگے کی سوچتا ہوں تجھے سمندر سے کچھ نہیں اور لینا دینامگر میں لعل و گہر سے آگے کی سوچتا ہوں

سجے ہوئے بام و در سے آگے کی سوچتا ہوں Read More »

وہ عکس مجھ میں جنوں ساز رقص کرنے لگا

وہ عکس مجھ میں جنوں ساز رقص کرنے لگامیں آئنے کی طرح ٹوٹنے بکھرنے لگا شب الم ہے ستاروں سے ہم کلامی ہےاسی بہانے سفر خیر سے گزرنے لگا میں تم سے دور ہوا ہوں تو مصلحت ہے کوئییہ مت سمجھنا کہ مل کے نشہ اترنے لگا نہیں رہی ترے نقش قدم کی باس یہاںیہ

وہ عکس مجھ میں جنوں ساز رقص کرنے لگا Read More »