MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گردش میں سدا شمس و قمر دیکھ رہے ہیں

گردش میں سدا شمس و قمر دیکھ رہے ہیںیکساں سے ہیں جو شام و سحر دیکھ رہے ہیں بے بات نہیں رکتی کہیں ان کی نگاہیںہم بھی ہے جہاں ان کی نظر دیکھ رہے ہیں دیکھا ہی کئے جاتے ہیں شہکار کو یک ٹکفنکار کا کیسا ہے ہنر دیکھ رہے ہیں پتوار بھی ٹوٹا ہے […]

گردش میں سدا شمس و قمر دیکھ رہے ہیں Read More »

اک وہی آج تک مرا نہ ہوا

اک وہی آج تک مرا نہ ہواورنہ کہنے کو مجھ سے کیا نہ ہوا جا سکی ذہن سے نہ یاد کبھیاور دل سے بھی وہ جدا نہ ہوا ہم نے تو دل سے چاہا پر اس سےکیوں محبت کا حق ادا نہ ہوا جانتی تھی وہ بے وفا ہے مگرپھر بھی اس سے کوئی گلہ

اک وہی آج تک مرا نہ ہوا Read More »

کبھی بت انا کے گرا کر تو دیکھو

کبھی بت انا کے گرا کر تو دیکھوہیں اپنے سبھی ان میں آکر تو دیکھو گنوانے کو دل کے سوا اور کیا ہےچلو پھر اسے بھی گنوا کر تو دیکھو منانے کا اپنا الگ ہی مزہ ہےجو روٹھا ہے اس کو منا کر تو دیکھو ہر اک خود کرے احتساب آپ اپنانئی رسم دنیا میں

کبھی بت انا کے گرا کر تو دیکھو Read More »

خیر خواہوں سے بھی ملا کیجے

خیر خواہوں سے بھی ملا کیجےدل کی دستک کو بھی سنا کیجے لوٹ کر جلد آئے گا اس کےنقش پا دیکھتے رہا کیجے گر وہ کرنا ہے جو کہے دل توپھر کسی سے نہ مشورہ کیجے دوستوں سے مل کے آستینںاحتیاطاً جھٹک دیا کیجئے اک نظر دیکھنے پہ کوئیپھول بھیجے اگر تو کیا کیجے ؟

خیر خواہوں سے بھی ملا کیجے Read More »

کسی پناہ میں آئے نہ بے اماں چہرے

کسی پناہ میں آئے نہ بے اماں چہرےبھٹک رہے ہیں نہ جانے کہاں کہاں چہرے عجیب آگ تھی جس سے گزر کے آئے ہیںیہ راکھ راکھ بدن اور دھواں دھواں چہرے خموش رہنے کے سب نے حلف اٹھائے ہیںنہ کہہ سکیں گے کبھی اپنی داستاں چہرے شمار زخم کہاں تک لہو لہو ہیں ابنہ دے

کسی پناہ میں آئے نہ بے اماں چہرے Read More »

شمع کی روشنی ہر سو بکھر جاتی تو اچھا تھا

شمع کی روشنی ہر سو بکھر جاتی تو اچھا تھااگر اس تک ہماری بھی نظر جاتی تو اچھا تھا ہیں اس کے نام لیوا تو بہت اس شہر میں لیکنرہِ الفت اگر اس کے بھی گھر جاتی تو اچھا تھا بدل جاتی ہماری زندگی پا کر تمہیں جاناںاگر قسمت ہماری بھی سنور جاتی تو اچھا

شمع کی روشنی ہر سو بکھر جاتی تو اچھا تھا Read More »

ابر برسے گا تو پیاسا نہیں رہنے دے گا

ابر برسے گا تو پیاسا نہیں رہنے دے گاتری وحشت کا یہ صحرا نہیں رہنے دے گا عزمِ راسخ ہی ترا رہنما بن جائے گاکوئی رستہ بھی ادھورا نہیں رہنے دے گا یہ جو فرعون نما لوگ نظر آتے ہیںآسماں ان کا یہ طرہ نہیں رہنے دے گا دن نیا ہوگا تو جاگیں گی امنگیں

ابر برسے گا تو پیاسا نہیں رہنے دے گا Read More »

ناداں کو اپنا دوست بنانا فضول ہے

ناداں کو اپنا دوست بنانا فضول ہےہر جائیوں سے دل لگانا فضول ہے جو سیدھی سادی بات سمجھ کر نہ دے سکےبے جا پھر اس سے سر کھپانا فضول ہے کوئی نہیں بجھاتا لگی آگ دل میں جوپھر دل میں ایسی آگ لگانا فضول ہے جس کی سرشت میں ہے وفا اک فضول شےاس سے

ناداں کو اپنا دوست بنانا فضول ہے Read More »

جا رہا ہے اپنی منزل کی طرف ماہ تمام

جا رہا ہے اپنی منزل کی طرف ماہ تمامجیسے قبروں کے مجاور جیسے مسجد کے امام خانقاہوں میں ہوا کرتا ہے جیسے بالعمومشیخ کی خدمت میں حاضر ہے مریدوں کا ہجوم اس طرح محراب میں رکھی ہے الہامی کتابجیسے اک زاہد کا ایماں جیسے اک باسی گلاب طاق میں رکھی ہوئی ہے اک طرف اک

جا رہا ہے اپنی منزل کی طرف ماہ تمام Read More »

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلے

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلےکیسی امید لئے آئے تھے ناکام چلے او مری بزم تمنا کے سجانے والےلطف کر لطف کہ دنیا میں ترا نام چلے چھین لے چرخ ستم گار سے انداز خرامکچھ اگر زور ترا گردش ایام چلے ایک وہ ہیں کہ ترا لطف و کرم ہے جن پرایک ہم ہیں

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلے Read More »