MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چوروں کے ہاتھ میں ہے وطن جاگتے رہو

چوروں کے ہاتھ میں ہے وطن جاگتے رہومشکل میں پڑ چکا ہے چمن جاگتے رہو بتلاو اہلِ فکر کو اب رہبری کریںمنزل ہوئی ہے اپنی کٹھن جاگتے رہو خنجر بناو انگلیاں سچ بولو برملاکھینچے نہ کوئی آکے دہن جاگتے رہو جھونکے ہوا کے روٹھ گئے جانے کس لیےبڑھتی ہی جا رہی ہے گھٹن جاگتے ہو […]

چوروں کے ہاتھ میں ہے وطن جاگتے رہو Read More »

المیہ

المیہ یہ گونگے بہرے بھی حکمراں ہیںیہ ذہنی مفلوج میری ملت کے ترجماں ہیںجنہیں وراثت میں حکمرانی ملی ہوئی ہےشکم میں جن کی حرام لقموں نے گھر کیا ہےمیں سچ کہوں تویہ سارے وردی کے پیدا کردہسروں پہ بوٹوں کا سایہ لے کرامین و صادق بنے ہوئے ہیںیہ چور اچکے گزشتہ کتنی دہائیوں سے مرے

المیہ Read More »

فکر کو باندی بنانے سے رہا

فکر کو باندی بنانے سے رہاشاہ کی جوتی اٹھانے سے رہا کاسہ لیسوں سے مری بنتی نہیںاس طرح عزت کمانے سے رہا آنے والوں کی کرے گا رہبریسانحے کو میں چھپانے سے رہا اپنے قد پر ہے یقیں اس واسطےتخت سے تجھ کو گرانے سے رہا مجھ تلک محدود ہیں میرے المہر کسی کو اب

فکر کو باندی بنانے سے رہا Read More »

کشکول ہاتھ میں لیے غدار دیکھیے

کشکول ہاتھ میں لیے غدار دیکھیےمردہ چمن کے پاس اداکار دیکھیے بے بس ہجوم دیکھتا ہے روز سانحہمجبور بھوکے پیٹ عزادار دیکھیے سرحد کی سمت سے ذرا چہرہ گھمائیےاپنی صفیں ٹٹولیے اغیار دیکھیے اہلِ قلم اسیر ہیں اپنے مفاد کےحق کو چھپائے پھرتے ہیں اخبار دیکھیے سچ جھوٹ میں تمیز کا کرنا ہو فیصلہکیجے پھر

کشکول ہاتھ میں لیے غدار دیکھیے Read More »

پھیلی ہوئی ہے دہر میں سب کوزہ گری ہے

پھیلی ہوئی ہے دہر میں سب کوزہ گری ہےدل جس سے فروزاں ہے عجب کوزہ گری ہے ایسے ہی نہیں ہوگئی تخلیق یہ دنیاکر غور عوامل پہ سبب کوزہ گری ہے اک نامِ محمد جوسماعت سے ہوا مستخلیق کی معراج پہ اب کوزہ گری ہے لفظوں کے جھمیلے میں الجھتا ہوا شاعرآنکھوں سے عیاں ہوتی

پھیلی ہوئی ہے دہر میں سب کوزہ گری ہے Read More »

زندگی میں تلخیاں جھٹلا کے چل

زندگی میں تلخیاں جھٹلا کے چلگر رہا ہے پھر بھی تو اترا کے چل مت دبا سینے کے اندر وحشتیںدکھ کو سُر کی شکل دے اور گا کے چل ایک دن تو مٹ ہی جائیں گے المدل کو یہ باور کرا بہلا کے چل سیدھا چلنے کے بہت نقماجد جہانگیر مرزاصان ہیںاس لیے سیدھا نہ

زندگی میں تلخیاں جھٹلا کے چل Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 29

قسط_نمبر_29 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_29 #rozan_e_taqdeer دروازے پر دستک سے دونوں کی آنکھ کھلی ۔۔۔ماہشان ابھی آٹھ ہی رہی تھی کہ عیان آپ رہنے دیں میں دیکھتا ہوں کہ کر دروازے کی طرف بڑھاآئیں امی ۔۔۔۔ دروازے پر فاطمہ بیگم تھیں۔۔۔۔بیٹا آمنہ اور وسیم کے ساتھ جانا نہیں ہے آپ کو ۔۔۔فاطمہ بیگم لہجے میں ڈھیروں

روزنِ تقدیر قسط نمبر 29 Read More »

روزنِ تقدیر قسط 28

#قسط_نبمر_28 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_28 #rozan_e_taqdeer نکاح کا وقت ہوگیا تھا عیان دور سے مولوی صاحب کو ماہشان سے رضامندی لیتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اس کے دل میں خوشی کی لہر سی اٹھی رہی تھی اسے خود کی خوش نصیبی پر حیرت ہو رہی تھی ۔۔۔۔ وہ اک ٹک بس ماہشان کی تمام حرکات کو دیکھ

روزنِ تقدیر قسط 28 Read More »

روزنِ تقدیر قسط 27

#از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #rozan_e_taqdeer ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح سے ہی گھر میں ہر طرف شور شرابہ مچا ہوا تھا ۔۔۔نکاح گھر کے پاس مسجد عمر بن خطاب میں ہی تھا اور پھر سارے مہمانوں نے گھر ہی آنا تھا پورے لاونج میں سب مہمانوں کے بیٹھنے کے انتظامات کۓ ہوۓ تھے ۔۔۔ آمنہ سنبل کے دروازے کی طرف اک

روزنِ تقدیر قسط 27 Read More »

تشنہ لبوں کی تشنہ دہانی کے ذکر پر

تشنہ لبوں کی تشنہ دہانی کے ذکر پرآنکھوں میں پانی آ گیا، پانی کے ذکر پرجس دل میں کربلا ومدینہ کی یاد ہوروتا وہی ہے نقل مکانی کے ذکر پرممکن نہیں کہ آنکھ کو رونے سے روک لوںہمشکلِ مصطفیٰ ؐ  کی جوانی کے ذکر پرقاتل نہیں تو وہ کسی قاتل کے ساتھ ہےجو معترض ہے

تشنہ لبوں کی تشنہ دہانی کے ذکر پر Read More »